ملکہ وکٹوریہ پل پیدل چلنے کے لیے ریلوے لائن کے دونوں اطراف بنے ٹریک پر لکڑی کے پھٹے ناکارہ

Vectoria bridge malakwal
ملک وال(نامہ نگار) ملکہ وکٹوریہ پل پیدل چلنے کے لیے ریلوے لائن کے دونوں اطراف بنے ٹریک پر لکڑی کے پھٹے ناکارہ ہو چکے کئی انسانی جانیں ان ناکارہ پھٹوں کی وجہ سے دریائے جہلم کی نذر ہوچکیں ، پل کی مرمت کے لیے فنڈز نہیں دیے جاتے اے ای این ریلوے کا موقف، تفصیلات کے مطابق چک نظام کے مقام پر واقع تاریخی ملکہ وکٹوریہ ریلوے پل کے جان لیوا ناکارہ پھٹوں نے ماضی میں کئی انسانی جانیں نگل لیں اور حال ہی میں جمعرات کے دن مورخہ 28اپریل کو محنت کش شکیل جو ملک وال سے پنڈ دادنخان اسی راستہ سے جا رہا تھا موٹر سائیکل سمیت ناکارہ پھٹوں کی بھینٹ چڑھ گیا ریلوے حکام کی بے حسی کہ پل کے دونوں اطراف ڈی ایس ریلوے کی جانب سے تحریر درج کروادی گئی کہ پل کے پھٹے ناکارہ ہو چکے ہیں احتیاط کریں مگر سینکڑوں پرانے پھٹے ایک د فعہ بھی تبدیل نہیں کیے گئے ناکارہ پھٹوں کو مرمت نہیں کیا گیا پھٹوں کے دونوں اطراف موجود لوہے کے اینگل کو آج تک ریلوے حکام نے مرمت کروانے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں تین اضلاع کے سنگم پر واقع یہ پل انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس پل کے ذریعے چار ہزارسے زائد افراد روزانہ موٹر سائیکلوں پر اور پیدل اپنے بچوں کے ہمراہ دریا کے دونوں اطراف آتے جاتے ہیں ناکارہ پھٹوں کی وجہ سے کئی انسانوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے اصل ذمہ دار ریلوے افسران ہیں اس ریلوے حکام کی عدم دلچسپی کے باعث ناکارہ ہونے والے پھٹوں کے بارے اے ای این ریلوے ملک وال سے رابطہ کیا گیا توا نہوں نے کہا کہ ہمیں پل کی مرمت کے لیے کوئی فنڈز نہیں دیے جاتے ملک وال، ہر ن پور پنڈ دادنخان، کھیوڑہ، دھریالہ جالپ، پنڈی سید پور، پنن وال کی عوام نے وفاقی وزیر ریلوے سے مطالبہ کیا کہ ریلوے حکام کی اس سنگین غفلت کا نوٹس لیں اور تاریخی اہمیت کے حامل وکٹوریہ ریلوے برج کی مرمت کروا کر کئی معصوم جانوں کے ضیاع کو روکنے میں کردار ادا کریں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں