چک نظام پل ملکوال کا مسلہ حل کروانے کیلئے دستخطی مہم پنڈدادنخان پہنچ گئی

Vectoria bridge malakwal news dastkhati mohim
ملک وال(نامہ نگار) حلقہ پی پی 119 کے سابق امیدوار اکبر گوگا کی تاریخی مطالبہ چک نظام کے مقام پر ٹریفک پل کی تعمیر کے لیے چلائی جانے والی دستخطی مہم کی دریا ئے جہلم کے دونوں اطراف کی تحصیلوں ملک وال اور پنڈدادنخان کی عوام کی طرف سے زبردست پذیرائی، اکبر گوگا کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے ہزاروں افراد نے دستخط کر ڈالے۔ تفصیلات کے مطابق بین الاضلاعی قدیم مسئلہ چک نظام کے مقام پر دریائے جہلم پر ٹریفک کے لیے پل کی تعمیر کا مسئلہ تین دہائیوں بعد بھی حل نہ ہو سکا گزشتہ 30 سالوں سے انتخابات میں اس پل کی تعمیر کا جھانسہ دے کر دونوں اطراف کی عوام کو بیوقوف بنایا جاتا رہا اور سیاسی مقاصد حاصل کیے جاتے رہے جبکہ صدر مملکت ضیاء الحق ، جنرل مشرف اور صدر آصف علی زرداری نے الیکشن کے قریب آنے پر اسی مقام پر پل کی تعمیر کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا مگر آج تک اس عوامی مسئلہ کوعملی جامہ نہ پہنایا جا سکا ملک وال کے مزدور رہنما اور حلقہ پی پی 119سے سابق امیدوار اکبر علی گوگا نے چند دن پہلے عوام میں بیداری شعور کے لیے اس تاریخ ساز مطالبہ کے حل کے لیے عوا م کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی غرض سے دستخطی مہم کا آغاز مین بازار ملک وال سے کیا نوجوان اکبر گوگا کی اس سوچ اور کاوش کو شہر بھر میں زبردست پذیرائی ملنے کے بعد سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کا رخ کیا جہاں پر طالبعلموں نے دل جمعی کے ساتھ اس مہم کو سراہا اتنی پذیرائی ملنے کے بعد اکبر گوگا نے دیہاتوں کا رخ کیا اور یہی نہیں بلکہ دریا کے اس پارپنڈ دادنخان بھی گیا اور جہاں عوام نے اکبر گوگا کا بھر پور استقبال کیا اور چند ہی دنوں میں اس مہم میں ہزاروں افرا د نے دستخط کر ڈالے اکبر گوگا نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری مہم کا مقصد شہر کی عوام کو یکجا کرنا ہے اور میری تحریک سے یہ مقصد کامیابی سے حل ہوتا نظر آ رہا ہے سیاستدان ہر دفعہ پل کی تعمیر کا دھوکہ دے کر عوام سے ووٹ لے کر اس دیرینہ مطالبہ کو بھول جاتے ہیں مگر اب اس طرح نہیں ہو گا ملک وال کے باسی جاگ اٹھے ہیں اور شہر ملک وال میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی اگر اس دور حکومت میں عوامی مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو شہر بھر سے الیکشن کا بائی کاٹ کیا جائے گا یا شہر ملک وال سے اپنا امیدوار سامنا لائے جائے گا اکبر گوگا کا کہنا تھا جب تک شہر ملک وال کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہو کر ان روایتی سیاسیوں کا بائی کاٹ نہیں کریں گے تب تک یہ مطالبہ صرف افتتاحی تقریبات کی نظر ہوتا رہے گا۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں