ہارونی موبائل فون سنٹر جناح روڈ پر دو دفعہ ڈکیتی کی واردات،، موبائل فون ایسوسی ایشن کا احتجاج

Mobile accosiation mandi bahauddin
ملک وال(تحصیل رپورٹر) ہارونی موبائل فون سنٹر جناح روڈ پر دو دفعہ ڈکیتی کی واردات ہونے کے باوجود تھانہ ملکو ال میں مقدمہ درج نہ ہو سکا ، موبائل فون ایسوسی ایشن کا پولیس کے خلاف احتجاج پرچہ درج کر کے ملزمان گرفتار کرنے کا مطالبہ،پولیس کاروائی نہ کر رہی ہے موبائل فون ایسوسی ایشن کا الزام پرچہ دینے کا اختیار ایس ایچ او کا ہوتا تفتیشی کا نہیں پولیس افسر جاوید کا موقف تفصیلات کے مطابق پرانا بازار میں واقع جناح موبائل سنٹر کے مالک شیخ کاشف نے تھانہ ملک وال میں 16اپریل کو درخواست دی کہ بوقت شام 7بجے 1کس نامعلوم میری دکان میں گھس آیا اور پسٹل کے زور پر میری دکان سے موبائل فون مالیتی 22ہزار اور غلہ میں موجود رقم تقریباً20ہزار روپے اسلحہ کے زور پر چھین کر لے گیا وقوع کی درخواست بروقت تھانہ میں دینے کے باوجود تا حال پولیس نے کوئی کاروائی نہ کی ہے دکان کے مالک میاں کاشف نے صحافیوں کو بتایا کہ پچھلے سال فروری میں بھی میری دکان میں ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی جس میں میرا 68ہزار9سو روپے کا نقصان ہوا تھا اور میں نے موبائل فون کے آئی ایم آئی نمبر وغیرہ کی تفصیلات دونوں درخواستوں میں درج کر کے پولیس کو کاروائی کے لیے درخواست گذاری مگر نہ تو پچھلے سال کی درخواست پر پولیس نے کوئی کاروائی کی اور نہ اب ہونے والی ڈکیتی کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کیا اور نہ ملزمان کی تلاش کی موبائل فون ایسوسی ایشن ملک وال کے صدر شیخ شاکر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھانہ ملک وال میں پولیس نے مقے سال کی درخواست پر پولیس نے کوئی کاروائی کی اور نہ اب ہونے والی ڈکیتی کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کیا اور نہ ملزمان کی تلاش کی موبائل فون ایسوسی ایشن ملک وال کے صدر شیخ شاکر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تھانہ ملک وال میں پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے موثر کاروائی نہ کی تو احتجاج کا دائرہ ضلع بھر میں وسیع کر دیا جائے گا اور ڈی پی او دفتر کے باہر مظاہرہ کیا جائے گا جب اس معاملہ کے بارے میں تفتیشی افسر جاوید سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا تھانہ میں تفتیشی افسر کم ہونے کی وجہ سے کام بہت زیادہ ہے 31مقدمات زیر تفتیش ہیں جن کے لیے گذشتہ روز سے میں پشاور گوجرانوالہ اور لاہور ہائیکورٹ کے چکر لگا رہا ہوں جس وجہ سے ٹائم ہی نہیں ملا پرچہ درج نہ ہونے کے بارے پوچھے گئے سوال پر جاوید کا کہنا تھا کہ پرچہ درج کرنے کے اختیار ایس ایچدمہ درج نہ کیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے موثر کاروائی نہ کی تو احتجاج کا دائرہ ضلع بھر میں وسیع کر دیا جائے گا اور ڈی پی او دفتر کے باہر مظاہرہ کیا جائے گا جب اس معاملہ کے بارے میں تفتیشی افسر جاوید سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا تھانہ میں تفتیشی افسر کم ہونے کی وجہ سے کام بہت زیادہ ہے 31مقدمات زیر تفتیش ہیں جن کے لیے گذشتہ روز سے میں پشاور گوجرانوالہ اور لاہور ہائیکورٹ کے چکر لگا رہا ہوں جس وجہ سے ٹائم ہی نہیں ملا پرچہ درج نہ ہونے کے بارے پوچھے گئے سوال پر جاوید کا کہنا تھا کہ پرچہ درج کرنے کے اختیار ایس ایچ او کے پاس ہیں میرے پاس نہیں ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں