ملیریاکو نظرِ انداز مت کریں !

ملیریاکو نظرِ انداز مت کریں !

ملیریا طفیلی جراثیم کی وجہ سے ہوتا ہے جو کسی جاندار کے جسم میں داخل ہو کر وہاں بسیرا کر لیتے ہیں۔ ملیریا کی کچھ علامات یہ 1 تیز بخار 2 بار بار پسینہ آنا3 کپکپی 4 سر درد 5 جسم درد 6 شدید تھکاوٹ 7 متلی8 اُلٹیاں9 دست 10 بھوک کا ختم ہوجا نا ہیں۔ یہ ملی جلی علامات اکثر و پیشتر ظاہر ہوتیں رہتیں ہیں
dengue mosquito
لیکن اِس کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ مریض کو ملیریا کس طرح کے جراثیم سے ہوا ہے اور وہ کتنے عرصے سے اِس مرض میں مبتلا ہے۔
ملیریا کے جراثیم ایک خاص قسم کی مادہ مچھر کے کاٹنے سے خون میں داخل ہوتے ہیں۔
جراثیم خون کے ذریعے جگر کے خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں اِن کی تعداد بڑھتی ہیں
جب جگر کے خلیے پھٹتے ہیں تو ملیریا کے جراثیم خون کے سُرخ خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔جب ملیریا کے جراثیم خون کے سُرخ خلیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ خلیے پھٹ جاتے ہیں۔
جب خون کے سُرخ خلیے پھٹتے ہیں تو ملیریا کے جراثیم دوسرے سُرخ خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ عموماً جب بھی خون کے سُرخ خلیے پھٹتے ہیں، ملیریا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ملیریا سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
مچھردانی اِستعمال کریں۔ دھیان رکھیں کہ
مچھردانی پر مچھرمار دوا لگی ہو۔مچھردانی پھٹی اور سوراخ دار نہ ہو۔مچھردانی کے سرے پوری طرح سے بستر یا گدے کے نیچے گھسے ہوں۔
اپنے گھر میں مچھرمار دوائی کا اسپرے کریں۔ہو سکے تو دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگائیں۔اے سی یا پنکھے اِستعمال کریں تاکہ مچھر بھاگ جائیں۔

ill bemar ill insects dengue
ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں جو پورے جسم کو ڈھانپے ہوں۔ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں جھاڑیاں اور کھڑا پانی ہو کیونکہ وہاں مچھر منڈلاتے اور انڈے دیتے ہیں?
ملیریا ہونے کی صورت میں جلدازجلد اپنا علاج کروائیں۔کسی بھی طریقہ علاج کے کوالیفائڈ معالج حکیم ، ہومیو پیتھک ڈاکٹرز یا سرکاری ہسپالوں میں جا کر اپنا معائینہ و علاج کروائیں،
یا رہے کہ اِنسانوں میں ملیریا اُن مچھروں سے منتقل ہوتا ہے جن میں ملیریا کے جراثیم ہوتے ہیں۔اِسی طرح جب ایک مچھر کسی ایسے اِنسان کو کاٹتا ہے جس میں ملیریا کے جراثیم ہیں تو جراثیم اُس میں داخل ہو جاتے ہیں۔? پھر جب یہ مچھر کسی دوسرے اِنسان کو کاٹتا ہے تو اُس اِنسان میں ملیریا کے جراثیم داخل ہو جاتے ہیں۔ اور یوں یہ چکر جاری رہتا ہے۔
اگر آپ ایک ایسے ملک ریاست یا خطہ میں جانے والے ہیں جہاں ملیریا عام ہے تو یہ دیکھیں کہ اُس ملک میں ملیریا کے کون سے جراثیم پائے جاتے ہیں کیونکہ ملیریا کی دوائی اِس کے مطابق لینی پڑتی ہے۔ اپنے معالج سے بھی مشورہ لیں کہ آپ کے لیے ملیریا کی کون سی دوائی ٹھیک رہے گی ۔ مت بھولیں کہ ۔ملیریا ہونے کی صورت میں جلدازجلد اپنا علاج کروائیں۔یاد رکھیں کہ ملیریا کی علامات مچھر کے کاٹنے کے ایک سے چار ہفتے بعد تک ظاہر ہو سکتی ہیں۔
مزید حفاظتی تدابیر
حکومت صحت کے حوالے سے جو سہولیات فراہم کرتی ہے۔اُن سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔صرف معیاری دوائیاں اِستعمال کریں۔ناقص یا جعلی دوائیوں سے مرض طول پکڑ سکتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
(نیم حکیم خطرہ جان )گھر میں اور گھر کے اِردگِرد اُن جگہوں کو ختم کریں جہاں مچھر انڈے دے سکتے ہیں۔
اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں ملیریا عام ہے یا آپ حال ہی میں وہاں سے آئے ہیں تو ملیریا کی اِن علامات کو نظرانداز نہ کریں:
یاد رکھیں کہ 1 تیز بخار 2 بار بار پسینہ آنا3 کپکپی 4 سر درد 5 جسم درد 6 شدید تھکاوٹ 7 متلی8 اُلٹیاں9 دست 10 بھوک کا ختم ہو جانا۔یہ علامات ظاہر ہوں تو اس کا مطلب ملیریا کا حملہ ہو چکا ہے ، اگر ایسا ہو جائے تو گھبرانے کی بجائے تعمل مزاجی سے اپنے فیملی معالج سے مشورہ کریں اور تصدیقی blood test کروا کر اپنا علاج شروع کردیں ۔
اگر ملیریا کا جلد علاج نہ کروایا جائے تو خون کی شدید کمی ہو سکتی ہے اور جان بھی جا سکتی ہے۔ اِس سے پہلے کہ مریض کی حالت مزید بگڑ جائے، خاص طور پر اگر وہ چھوٹا بچہ یا حاملہ عورت ہو۔پھر وہ ہی بات ہو سکتی ہے کہ’’ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘والہ قصہ بن جائے گا ۔ گزارش ہے صحت کے معاملے کو ہر گز نظر انداز نہ کریں بلکہ معالجین کی ہدائیت پر سختی سے عمل کر کے اﷲ کی نعمت ِ خداوندی کا شکریہ ادا کریں
م ملیریا سمیت تمام امراض سے چھٹکارہ کے لئے لازم ہیں کہ ہم طلبہ کے نصاب میں حفظانِ صحت جیسے بنیادی علوم کو شامل کریں تا کہ علمی اور عملی طور پر یہ بات ثابت ہو جائے کہ امراض سے بچاؤ کے لئے صفائی لازمی ہے اور یہ بات سیرت النبی ﷺ سے بہتر کئی نہیں مل سکتی، اسلام نے صرف صفائی کو نصف ایمان قرار دے کر انسانیت پر بہت احسان کیا ہے۔ وقتِ حکومت سے گزارش ہیں ہمارے تمام مسائل کا حل سیرت النیﷺ میں مضمر ہے۔ اس لئے بنیادی نصاب سے سیرت النبی ﷺ کو شامل کیا جائے

Dr. Tasawar mirza mbdin newsتحریر :۔
ڈاکٹر تصور حسین مرزا

اپنا تبصرہ بھیجیں