تھانہ ملک وال کی 80سالہ عمارت پرانی اور بوسیدہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے

THANA MALAKWAL thana news
ملک وال(نامہ نگار)تھانہ ملک وال کی عمارت پرانی اور بوسیدہ ہونے کے باعث کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے ،80سالہ پرانے تھانہ ملک وال کو ماڈل تھانہ بنایا جائے تفصیلات کیمطابق انگریز دور حکومت میں محکمہ پولیس نے ملک وال میں پولیس چوکی قائم کی جسے 1937میں تھانہ کا درجہ دیدیا گیا جبکہ عمارت پولیس چوکی والی ہی رہی۔ تھانہ کی عمارت انتہائی بوسیدہ اور خطرناک ہو چکی ہے ،حوالات ، بیرکوں کی حالت نا گفتہ بہہ ہے یہی نہیں بلکہ تھانہ کی بیرونی دیوار اب تک پلستر بھی نہیں کی گئی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس معاملہ پر کئی دفعہ تحریری رپورٹ حکام بالا کو ارسال کی گئیں لیکن اس کے باوجود تھانہ کی تعمیر نو کے حوالے سے کوئی موثر ایکشن نہیں لیا گیا حکام بالا کی عدم توجہی کا شکار تھانہ ملک وال کی 80سالہ پرانی عمارت ملازمین کے لیے بھی مشکلات کا سبب بن گئی جگہ کم ہونے کے باعث تھانہ کے اندر دور دراز سے تعینات پولیس کانسٹیبل اور افسران کی رہائش کے لیے بھی جگہ کم ہے جس وجہ سے مہنگائی کے اس دور میں ملازمین اپنے اخراجات پر کرایہ کی رہائشیں اختیار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ تحصیل ملک وال کے گردو نواح میں تھانہ میانہ گوندل اور تھانہ کٹھیالہ شیخاں کی عمارتیں نئی بنا دی گئیں مگر انتظامی حوالہ سے تحصیل ہیڈ کوارٹر کی حیثیت رکھنے والے تھانہ ملک وال کی حالت زار پر اعلیٰ حکام نے تا حال کوئی توجہ نہ دی ہے شہری و سماجی حلقوں نے کہا کہ ملک وال میں ماڈل تھانہ بنا دیا جائے تو ایس ایچ او سمیت دیگر ملازمین کے رہائشی مسائل حل ہونے کے ساتھ ملازمین کی کارکردگی بھی بہتر ہو سکتی ہے ۔یہ تھانہ 1937 ؁ء میں قائم ہوا۔ جو صدر مقام سے جانب مغرب تقریباً35 کلو میڑ کے فاصلہ پر واقع ہے ۔ اس تھانہ کے مغرب میں تھانہ پنڈدادنخاں ضلع جہلم ،جنوب میں تھانہ گوجرہ ،مشرق میں تھانہ سول لائن منڈی بہاؤالدین ، جنوب مشرق میں تھانہ کٹھیالہ شیخاں اور جنوب مغرب میں تھانہ میانی ضلع سرگودھا کی حدود واقع ہیں ۔ اس تھانہ کا سارا علاقہ دیہاتی ہے۔اور ساری زمین نہری پانی سے سیراب ہوتی ہے اورزیادہ زمین زرخیز ہے۔ اور اس میں ہر قسم کی فصل کاشت ہوتی ہے ۔ ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں