نجی سکول وین سے بچے اغواء کرنے کی کوشش،وین ڈرائیور اور شہریوں کی مذمت نے ناکام بنا دیا

school van
نجی سکول وین سے بچے اغواء کرنے کی کوشش کو وین ڈرائیور اور شہریوں کی مذمت نے ناکام بنا دیا مذمت پر وین ڈرائیور ارشد محمود شدید زخمی واقع کی اطلاع بروقت پولیس تھانہ ملک وال میں دینے کے باوجود تا حال ملزمان کے خلاف مقدمہ کا اندراج نہ ہوسکا


ملک وال (تحصیل رپورٹر) نجی سکول کے وین ڈرائیور ارشد محمود نے تھانہ ملک وال میں بذریعہ تحریر ی درخواست موقف اپنایا کہ میں دن 11بج کر 45سکول چھٹی کے بعد بچوں کو گھر چھوڑنے کے لیے جا رہا تھا جونہی میلاد چوک سے تھانہ کی جانب جانے کے لیے مڑا تو 2موٹرسائیکل جن میں سے ایک کا نام شبیر سکنہ گلی دربار والی اور ساتھ ایک نامعلوم ساتھی کے ہمراہ کیری ڈبہ کے آگے آگئے رکنے پر شبیر نے کیری ڈبہ وین کا گیٹ کھولنے کی کوشش کی جس پر میں نے مذمت کی جس پر شبیر اور اس کے ساتھی نے سکول وین کی ونڈ سکرین اور بیک سکرین توڑ ڈالی اور مجھے تشدد کا نشانہ بنانے لگے میری چیخ و پکار سن کر لوگ اکھٹے ہونا شروع ہو گئے اور ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے سکول وین کے ڈرائیور ارشد محمود نے صحافیوں کو بتایا کہ میں ملک وال کے معروف اور سب سے مہنگے نجی سکول کی وین کا ڈرائیور ہو ں جس میں تحصیل ملک وال بھر کے امیر گھرانوں اور افسران اور سیاسی رہنماؤں کے بچے زیر تعلیم ہیں جس طرح ملزمان نے گاڑی کو روک کر گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو اغوا کرنا چاہتے تھے میرے روکنے پر مجھ پر گھسنوں اور تیزدھار آلہ کے پے درپے وار کر دئیے موقع پر اکھٹے ہوئے لوگوں نے صحافیوں اور موقع پر پہنچے والے پولیس ملازمین کو ملزمان کی نشاندہی کی اور بتایاکہ ان ملزمان میں سے ایک بدنام زمانہ شبیر نامی نوجوان جبکہ دوسرا نامعلوم بتایا جاتا ہے واقع کی اطلاع تحریر ی طور پر تھانہ ملک وال دے دی گئی پولیس تھانہ ملک وال سے مقدمہ کے بارے میں پوچھا گیا تو پتہ چلا کہ وقوع کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا سکا حالانکہ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی مضروب شخص کا میڈیکل رزلٹ آ جانے کے بعد پولیس فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کی پابند ہوتی ہے پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے رہنماء ملک ظہور نے ایس ایچ او تھانہ ملک وال سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے کل تک ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو ملک وال شہر بھر 101سکول اور تحصیل بھر میں پرائیویٹ سکولز بند کر دئیے جائیں گے اور پولیس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جس کا دائرہ کار ضلع بھر میں وسیع کر دیا جائے گا۔۔۔۔

2 تبصرے “نجی سکول وین سے بچے اغواء کرنے کی کوشش،وین ڈرائیور اور شہریوں کی مذمت نے ناکام بنا دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں