ٹی ایم اے کی عدم دلچسپی،12سے زائد محلہ جات اور گلیوں کی صفائی کی صورتحال ابتر

TMA Malakwal news
ٹی ایم اے کی عدم دلچسپی اور سنٹری انسپکٹر کی نااہلی کی وجہ سے شہر بھر میں گندگی کے ڈھیر لگ گئے ،ڈیرہ جات، گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں کا بوجھ بھی سنٹری ورکروں کی ماہانہ تنخواہوں کی مد میں سرکاری خزانہ پرڈال دیا جاتا ہے، عوامی شکایات پر ملک وال کے محلہ فضل آباد، راجگان، گلی تیلیانوالی ،گلی گرلز ہائی سکول والی، گلی تھانہ والی، پانی والی ٹینکی،محلہ صابری، محلہ قصاباں ،محلہ کانیانوالہ سمیت 12سے زائد محلہ جات اور گلیوں کا دورہ کیا گیا صفائی کی صورتحال ابتر سنٹری ورکر مین سڑکوں اور بازار تک محدود
ملک وال(ساجد مغل) عوامی شکایات کی وجہ سے ہفتہ کے روز ملک وال کے مختلف محلہ جات اور گلیوں کا سروے کیا گیا جس میں ٹی ایم اے کی ناقص کارکردگی کھل کر سامنے آگئی عوامی نمائندوں اکبر علی گوگا سابقہ امیدوار ایم پی اے ،نجم الحسن سیال، راجہ ظہیر ، ظفر اقبال، ملک بلال نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹی ایم اے کی غفلت کے باعث اندرنی گلیوں میں کئی کئی روز تک صفائی نہیں ہوتی شہر بھر میں ٹی ایم اے صرف بازار اور مین شاہراہوں تک محدود ہو کر رہ گئی جبکہ محلہ جات کے اندر صفائی کی حالت ناگفتہ بے ہے سنٹری انسپکٹر صبح حاضر ی کے وقت خود موجود نہیں ہوتا جس نے شہر بھر کی صفائی میٹوں کے آسرے پر چھوڑی ہوئی ہے اکبر گوگا کا کہنا تھا کہ کئی بار اس معاملہ کی شکایت کے لیے سنٹری انسپکٹر کے پاس گئے مگر 12بجے سے پہلے سنٹری انسپکٹر دفتر میں ہی نہیں ملتااس معاملہ میں ٹی ایم اے ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ پرماننٹ سنٹری ورکروں کے علاوہ ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے 29سے زائد سنٹری ورکر ز ٹی ایم اے میں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 10سے زائد ورکر افسروں نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق کھاتے میں ڈال رکھے ہیں جن کی تنخواہیں ہر مہینے وصول کر کے اپنی جیبیں گرم کر لیتے ہیں اور پرماننٹ کام کرنے والے سنٹری ورکروں میں سے کافی سنٹری ورکر افسران کے ساتھ ساتھ حلقہ کی بااثر سیاسی شخصیات کے علاوہ افسران کے ڈیروں اور گھروں میں کام کرنے پر مامور کر دئیے گئے ہیں چند افسران کے چہیتے سنٹری ورکر وں نے آج تک اپنی ڈیوٹی ہی نہیں کی جس کی تنخواہ وہ وصول کرتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ شہر میں صفائی کے کام پر مامور کیے جائیں ان سے دفاتر میں کام لیا جا رہا ہے ذرائع نے بتایا کہ اگر پرماننٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے 70سے زائد سنٹری ورکروں کی حاضری اور ڈیوٹی کو یقینی بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ شہر بھر میں گندگی کا نام و نشان بھی رہے عوامی حلقوں نے خادم اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ کا نوٹس لیں اور ٹی ایم اے ملک وال میں سنٹری ورکروں کے نام پر عرصہ دراز سے کی جانے والی بدنظمی کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرواکر زمہ داران کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے تمام سنٹری ورکروں کی حاضری و ڈیوٹی یقینی بنوائیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں