تفتیشی افیسر نے 27ہزار رشوت لینے کے باوجود بوگس چیک کے مقدمہ میں ملزم کی ضمانت کروا دی

police security
تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد اکرم نے 27ہزار روپے رشوت لینے کے باوجود بوگس چیک کے مقدمہ میں ملزم کی ضمانت کروا دی انصاف دلایا جائے متاثرہ شخص محمد ارشد کی ڈی پی او سے اپیل ،الزام بے بنیاد ہے سب انسپکٹر محمد اکرم
ملک وال(نامہ نگار) محمد ارشد ولد اﷲ دتہ سکنہ محلہ کانیانوالہ ملک وال نے صحافیوں کو بتایا کہ اس نے محمد قاسم ولد صابر سکنہ وگھ تحصیل پنڈ دانخان کے خلاف بوگس چیک دینے پر تھانہ ملک وال میں مقدمہ نمبر585/15کے جرم 489Fت پ درج کروایا تھا ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے تفتیشی سب انسپکٹر محمد اکرم نے مختلف ہیلے بہانوں سے مجھ سے 27ہزار روپے رشوت لی لیکن ملزم کو گرفتار کرنے کی بجائے تفیشی خود ملزم کے ساتھ مل گیا اور تفتیش میں نا انصافی و بددیانتی کی متاثرہ شخص نے کہا کہ تفتیشی افسر نے ملزم قاسم کا فون ڈیٹا بھی نہ نکلوایا حالانکہ اسے ملزم کا موبائل نمبر اور دیگر معلومات بھی فراہم کی تھیں محمد ارشد نے الزام لگا یا کہ سب انسپکٹر محمد اکرم ملزم سے کافی رابطہ میں رہا اور اب بھی اگر سب انسپکٹر کے فون نمبر کا ڈیٹا نکلوایا جائے تو ملزم کے ساتھ اس کے رابطوں کا واضح ثبوت مل جائے گامتاثرہ شخص نے کہ کہ تفتیشی نے ملزم سے ساز باز کر کے اس کی ضمانت کروا دی اور مجھے اور کافی ذلیل و خوار اور پریشان کر رہا ہے محمد ارشد نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،آئی جی پولیس پنجاب، آر پی او گوجرانوالہ اور ڈی پی او منڈی بہاوالدین سے اپیل کی کہ سب انسپکٹر محمد اکرم کے خلاف ناقص تفتیش کرنے ملزم سے ملی بھگت کرنے اور رشوت لینے پر کاروائی کی جائے ۔جب الزام کے متعلق سب انسپکٹر محمد اکرم سے رابطہ کیا تو انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مدعی پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں