گیپکو حکام کی عد م دلچسپی کے باعث کنزیومرز کی تعداد میں اضافہ،لائن لاسز2لاکھ تک جا پہنچے

transfarmer loadshedding
ملک وال (نامہ نگار) گیپکو حکام کی عد م دلچسپی کے باعث کنزیومرز کی تعداد میں اضافہ کے باعث سب ڈویژن ملک وال کے لائن لاسز2لاکھ تک جا پہنچے 1952سے قائم شدہ گیپکو سب ڈویژن ملک وال پر کنزیومرز کی تعداد 45ہزار ہو گئی جبکہ ایک سب ڈویژن پر زیادہ سے زیادہ 15ہزار کنزیومر ہونے چاہیں ، نئی سب ڈویژن بنانے کے لیے بارہا دفعہ کیس بھیجا گیا مگر ہر بار مسترد کر دیا جاتا ہے ترجمان گیپکو تفصیلات کے مطابق 1952میں معرض وجود میں آنے والی سب ڈویژن گیپکو پر صارفین کی تعداد میں اضافہ کی وجہ سے ماہانہ لائن لاسز میں گراں قدر تیزی آئی دن بدن لائن لاسز بڑھتے جار ہے ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے شیڈول سے زیادہ لوڈشیڈنگ کا قرب عوام کو سہنا پڑتا ہے ذرائع کے مطابق ایک سب ڈویژن کی حد 15سے 16ہزار ہوتی ہے جب اس سے زیادہ کنزیومر ہو جائیں تو دوسری سب ڈویژن کا قیام ضروری ہو جاتا ہے مگر سب ڈویژن ملک وال 1952سے لے کر اب تک ایک ہی چلتی آرہی ہے جس کے کنزیومر ز میں وقت کے ساتھ ساتھ بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا مگر اس کے ساتھ نئی سب ڈویژن کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا اور اس پر کنزیومرز کی تعداد تین گنا بڑھ گئی جو 45ہزار تک پہنچ گئی جس وجہ سے لائن لاسز 2لاکھ یونٹس تک پہنچ گئے مونہ ، ہیڈ فقیریاں ،ڈفر، آہلہ ،سٹی، میانی اور چوٹ دھیراں سمیت کل 6فیڈرز پر مشتمل سب ڈویژن ملک وال ہر مہینے لائن لاسز کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے ذرائع نے بتایا کہ اگر فی الفور گیپکو حکام نئی سب ڈویژن کا قیام یقینی نہیں بناتے تو دن بدن لائن لاسز میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا لائن لاسز کو پورا کرنے کے لیے اضافی لوڈشیڈنگ کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑیگا۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں