شانِ شیر ِ خدا بزبانِ مصطفےٰ ﷺ

شانِ شیر ِ خدا بزبانِ مصطفےٰ ﷺ

تاجدار کائنات صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ علی رضی اﷲ عنہ اور فاطمہ رضی اﷲ عنہ کی شادی کا فیصلہ آسمانوں پر ہو چکا تھا۔ یہ شادی امر الٰہی سے سرانجام پائی اس لئے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے ولایت مصطفیٰ کے سلسلے کو قائم ہونا تھا اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تکمیل دعائے ابراہیم علیہ السلام کا ذریعہ بنانا تھا اسی مقصد کے لئے تاجدار کائنات صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہ کے ذریعہ ایک اور مضبوط اور پاکیزہ نسبت بھی قائم ہوئے مولائے کائنات حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم اور خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اﷲ عنہا اور ان کی اولاد اطہار جمہور اہل اسلام کے ہاں محترم و مکرم اور قابل عزت و تکریم ہیں یہ نہ تو کسی خاص فرقے کا مشرب و مسلک ہے اور نہ کسی کی خاص علامت ہے اور ایسا ہو بھی کیونکہ یہ خانوادہ نبوت ہے اور جملہ مسلمانوں کے ہاں معیار حق اور مرکز و محور ایمان و عمل ہے۔

Muhammad Eid Milad ul nabi islam
حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہ کی شادی کا آسمانی فیصلہ
اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی رضا اور مشعیت سے یہ مقدس ہستیاں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ حدیث پاک میں ہے:
حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اﷲ تعالی نے مجھے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہ کا حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔
(المعجم الکبي ر للطبراني، 10: 156، ح: 10305)
فضائل مولا ئے کائنات رضی اﷲ عنہ
خلیفہ چہارم حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا کرم اﷲ وجہہ تحریک اسلامی کے عظیم قائد، نبی آخر الزماں حضرت محمدمصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے انتہائی معتبر ساتھی، جاں نثار مصطفیٰ اور داماد رسول تھے۔ آپ کی فضیلت کے باب میں ان گنت احادیث منقول ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ ذیل میں کیا جارہا ہے۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی صلب سے نبی کی ذریت
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہر نبی کی ذریت اس کی صلب سے جاری فرمائی اور میری ذریت حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی صلب سے چلے گی۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو غزوہ تبوک میں اپنا خلیفہ بنایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بنایا ہے۔ اس پر حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ میرے لئے اس طرح بن جائیں جس طرح کہ ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں وہی فیصلے کرتا ہوں جن کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔ حکمت اس میں یہ تھی کہ جب کسی پر غسل واجب ہو گا اور وہ غسل کے لئے گھر سے نکلے گا تو ایسی حالت میں مسجد نبوی میں قدم رکھے گا اور مسجد کا تقدس مجروح ہو گا، غسل واجب ہو تو صرف دو افراد مسجد میں قدم رکھ سکتے ہیں ایک محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ۔ حدیث پاک میں آتا ہے:
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے فرمایا اے علی میرے اور تمہارے سوا کسی کے لئے جائز نہیں کہ اس مسجد (نبوی) میں حالت جنابت میں رکھے۔
یہ اس لئے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا حضور نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اطہر اور روح اقدس سے ظاہری بھی اور باطنی بھی ایک خاص تعلق قائم ہو چکا تھا۔
اس حدیث کو جن اجل ائمہ کرام نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
حضرت علی رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ چیرا اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔
(صحي ح مسلم، 1: 60)
حضرت علی شیر خدا نے فرمایا کہ حضور رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ علی! مجھے اس رب کی قسم ہے جس نے مخلوق کو پیدا کیا کہ سوائے مومن کے تجھ سے کوئی محبت نہیں کر سکتا اور سوائے منافق کے کوئی تجھ سے بغض نہیں رکھ سکتا۔
6۔ ام المومني ن حضرت سلمہ رضي اﷲ عنہا فرماتي ہي ں کہ:
حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق علی رضی اﷲ عنہ سے محبت نہیں کر سکتا اور کوئی مومن علی رضی اﷲ عنہ سے بغض نہیں رکھ سکتا۔
(جامع الترمذي، 2: 213)
حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انصار میں سے ہیں۔ ہم منافقوں کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ بغض و عداوت کی وجہ سے پہچانتے ہیں۔
ہم نے ان فرامین رسول کو بھلا دیا ہے، ہم نے خود کو شیعہ سنی کے خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے، ہم اپنے آنگنوں میں نفرت کی دیواریں تعمیر کر رہے ہیں حالانکہ شیعہ سنی جنگ کا کوئی جواز ہی نہیں۔ علمی اختلافات کو علمی دائرے میں ہی رہنا چاہئے، انہیں نفرت کی بنیاد نہیں بننا چاہئے، مسجدیں اور امام بارگاہیں مقتلوں میں تبدیل ہو رہی ہیں مسلک کے نام پر قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے، بھائی بھائی کا خون بہا رہا ہے اب نفرت اور کدورت کی دیواروں کو گر جانا چاہئے، ہر طرف اخوت اور محبت کے چراغ جلنے چاہئیں، حقیقت ایمان کو سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تاجدار کائنات صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اﷲ عنہ کی زبانی رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے بڑھ کر بڑی شہادت اور کیا ہوتی۔ چنانچہ حق و باطل کے درمیان یہی کیفیت صحابہ کرام کا معیار تھی۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ جتنی احادیث روایت کی گئی ہیں پاکی جائیں گی سب صحاح ستہ اور اہل سنت کی دیگر کتب احادیث سے لی گئی ہیں یہ اس لئے تاکہ معلوم ہوکہ شیعہ اور سنی بھائیوں کے درمیان اختلافات کی جو خلیج حائل کر دی گئی ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے فکری مغالطوں اور غلط فہمیوں کے سوا ان میں کچھ بھی نہیں۔ حدیث پاک میں آتا ہے:
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ آپ مجھے بھیج تو رہے ہیں لیکن میں نوجوان ہوں میں ان لوگوں کے درمیان فیصلے کیونکر کروں گا؟ میں جانتا ہی نہیں ہوں کہ قضا کیا ہے؟ پس حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست اقدس میرے سینے پر مارا پھر فرمایا اے اﷲ اس کے دل کو ہدایت عطا کر اور اس کی زبان کو استقامت عطا فرما، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پیدا فرمایا مجھے دو آدمیوں کے مابین فیصلے کرتے وقت کوئی شکایت نہیں ہوئی۔
(المستدرک، 3: 135)
نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک جنت تین آدمیوں کا اشتیاق رکھتی ہے اور وہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ، حضرت عمار رضی اﷲ عنہ اور حضرت سلمان رضی اﷲ عنہ ہیں۔
(جامع الترمذي، 5: 667، 7: 3797)
جنت میں داخل ہونے والا ہراول دستہ
حضرت ابو رافع رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو فرمایا بے شک جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چار آدمیوں میں میری ذات اور آپ اور حسن و حسین ہوں گے اور ہماری اولاد ہمارے پیچھے ہو گی اور ہمارے پیروکار ہمارے دائیں اور بائیں جانب ہوں گے۔
المعجم الکبي ر، 3: 119، ح: 950
حضرت ابو رافع رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ اور آپ کی حمایت کرنے والے میرے پاس حوض پر خوشنما چہرے اور سیرابی کی حالت میں آئیں گے ان کے چہرے سفید ہوں گے اور بے شک تیرے دشمن میرے پاس بھوک کی حالت میں بدنما صورت میں آئیں گے۔
المعجم الکبي ر، 1: 319
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی خدمت کی جائے تا کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو سکے، اگر علمی اختلافات ہو بھی جائیں تو معاملہ جھوٹیانا، ضد سے بالا تر ہو کر افہام و تفہیم سے حل کیا جائے تا کہ کبھی ہم سنی، شیعہ ، وابی دیوبندی وغیرہ گروہوں میں تقسیم نہ ہو سکیں، جب ہم نے اپنی زندگی کا محو و مرکز ’’ اسلام ‘‘ کو بنا لیا یعنی حْیقی اسلام کی روح کو جانچ کر عملی طور پر اپنا لیا تو دنیا امن ، محبت اور پیار کامرکز بن جائے گئی،
یا اﷲ ! ہم کو صبر و استقامت اور خلفائے راشدین جیسا سچا اور پکا عاشق رسول بنا ( آمین )

Dr. Tasawar mirza mbdin newsاز:۔
ڈاکٹر تصور حسین مرزا

اپنا تبصرہ بھیجیں