پولیس تھانہ ملک وال نفری کم ہونے کے باعث تھانہ کی حدود میں جرائم پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا

police security

پولیس تھانہ ملک وال نفری کم ہونے کے باعث تھانہ کی حدود میں جرائم پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ، ضلع بھر میں نفری کی مجموعی کمی کے باعث چوٹ دھیراں ،ہریا اور مونہ سیداں چوکیاں بھی ختم کر دی گئیں۔


ملک وال(نامہ نگار) ذرائع نے بتایا کہ تھانہ ملک وال میں 1انسپکٹر ،4سب انسپکٹر ،5اسسٹنٹ سب انسپکٹر ،4ہیڈ کانسٹیبل اور 27کانسٹیبل موجود ہیں جو کہ مطلوبہ نفری سے بہت کم ہے موجودہ ملازمین جن میں سے آدھے سے زائد ملازمین کورٹ ڈیوٹی ، تعمیل کنندہ، گن مین او ر کمپیوٹر آپریٹرز کے فرائض پر مامور ہیں باقی بچنے والے ملازمین تھانہ ، حوالات گشت اور دیگرفرائض کی سرانجام دہی پر مامور ہیں نفری پوری نہ ہونے کے باعث ملازمین 24گھنٹے ڈیوٹیاں دینے پر مجبور اور بعد ازاں نائب محرر ملازم نہ ہونے کے باعث سنتری کی ڈیوٹی بھی دیتے ہیں تھانہ ملک وال کی حدچک نمبر 52جس کا تھانہ سے فاصلہ 18کلومیٹر ،دوسری جانب موضع پنڈ مکو جس کا تھانہ ملک وال سے فاصلہ 17کلومیٹر تیسری جانب موضع ماجھی جو تھانہ سے 17کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع اور چوتھی جانب موضع باہو وال جس کا فاصلہ تھانہ سے 8کلومیٹر پر مبنی ہے جس پرپولیس کی گرفت نہ ہونے کے برابر ہو کر رہ گئی دن دیہاڑے عام راہگیروں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاترمیں ڈکیتیوں کی کئی وارداتیں ہو چکی شام ڈھلتے ہی مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیادوں پر چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں پولیس نفری کی کمی کے باعث مختلف علاقوں موضع ہریا، چوٹ دھیراں اور مونہ سیداں کے مقام جہاں پر سنگین جرائم کے ساتھ ساتھ خصوصاً چوری ڈکیتی اور دیگر وارداتوں پر قابو پانے کے لیے پولیس چوکیاں قائم کی گئی تھیں ختم کر دی گئیں جس کا نتیجہ عوام کو جرائم کے بے پناہ اضافہ کی صورت میں ملا اس کے علاوہ شہر ملک وال میں یونین کونسل کی سطح پر موٹر سائیکل پولیس گشت بھی تعینات کی گئی تھی جن کے لیے مخیر حضرات نے6سے زائد ہنڈا 125موٹر سائیکل بھی پولیس تھانہ ملک وال کو بطور عطیہ دئیے تھے جو اب پولیس لائن اور دیگر استعمال میں ہیں دن بدن تحصیل بھر میں بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح سے عوام کی نظروں میں پولیس کا معیار بھی گر چکا عوام نے بڑھتے ہوئے جرائم کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرانا شروع کر دیا جبکہ اس کے اصل ذمہ دار پنجاب حکومت اور اعلیٰ حکام ہیں جو پولیس کی مطلوبہ نفری تھانوں میں فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے عام ملازمین کے ساتھ ساتھ پولیس افسران بھی اس معمہ سے پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں