اراضی ریکارڈ سنٹر ملکوال تو بن گیا مگر چک رائب پل سے سنٹرتک ڈیڈھ کلومیٹر سڑک تعمیر نہ ہوسکی

Land record office malakwal news

اراضی ریکارڈ سنٹر تو بن گیا مگر چک رائب پل سے سنٹرتک ڈیڈھ کلومیٹر سڑک تعمیر نہ ہوسکی ،پختہراستہ نہ ہونے کی وجہ سے تحصیل بھر سے آنے والے لوگ مشکلات کا شکار


ملک وال(تحصیل رپورٹر) کچھ عرصہ قبل تحصیل ملک وال کے 79سے ذائد مواضعات کا اراضی کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد باضابطہ طور پر ایم پی اے شفقت محمود گوندل اور اسسٹنٹ کمشنر ملکوال نے اراضی ریکارڈ سنٹر کا افتتاح کیا تھا مگر ستم ظریفی کہ چک رائب پل سے لے کر اراضی ریکارڈ سنٹر تک ڈیڈھ کلومیٹر کے راستے پر سڑک نام کی کوئی چیز نہیں نہر کنارے کچا راستہ اور راستے کے درمیان میں لگے درختوں کی وجہ سے گاڑیوں پر سوار لوگ قرب کا شکار ہیں یاد رہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے ساتھ ہی جوڈیشل کمپلیکس بھی بنایا جا رہا ہے مگر مقامی انتظامیہ اور حکومتی نمائندوں کی عدم دلچسپی کے پیش نظر یہ عوای چیز نہیں نہر کنارے کچا راستہ اور راستے کے درمیان میں لگے درختوں کی وجہ سے گاڑیوں پر سوار لوگ قرب کا شکار ہیں یاد رہے کہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے ساتھ ہی جوڈیشل کمپلیکس بھی بنایا جا رہا ہے مگر مقامی انتظامیہ اور حکومتی نمائندوں کی عدم دلچسپی کے پیش نظر یہ عوامی مسئلہ حل نہ ہو سکا جبکہ یہ سڑک صرف اراضی ریکارڈ سنٹر کی وجہ سے اہمیت کی حامل نہیں بلکہ اراضی سنٹر سے ملحق ہی جوڈیشل کمپلیکس کا کام بھی جاری ہے جو کچھ عرصہ تک مکمل ہو جائیگا جہاں پر عدالتیں شہر سے باہر منتقل کر دی جائیں گی جس کے بعد ہزاروں لوگوں کی آمد می مسئلہ حل نہ ہو سکا جبکہ یہ سڑک صرف اراضی ریکارڈ سنٹر کی وجہ سے اہمیت کی حامل نہیں بلکہ اراضی سنٹر سے ملحق ہی جوڈیشل کمپلیکس کا کام بھی جاری ہے جو کچھ عرصہ تک مکمل ہو جائیگا جہاں پر عدالتیں شہر سے باہر منتقل کر دی جائیں گی جس کے بعد ہزاروں لوگوں کی آمد ورفت اسی ڈیڈھ کلومیٹر سڑک سے روزانہ کی بنیادوں پر ہو گی موجودہ صورتحال میں تحصیل بھر سے سینکڑوں لوگ اپنے زمینوں کے فردات اور انتقالات کے لیے کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹر پر آتے ہیں اور سڑک کے نہ ہونے کی وجہ سے تکلیفوں سے دو چار ہیں اہلیان علاقہ نے ایم این اے ناورفت اسی ڈیڈھ کلومیٹر سڑک سے روزانہ کی بنیادوں پر ہو گی موجودہ صورتحال میں تحصیل بھر سے سینکڑوں لوگ اپنے زمینوں کے فردات اور انتقالات کے لیے کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹر پر آتے ہیں اور سڑک کے نہ ہونے کی وجہ سے تکلیفوں سے دو چار ہیں اہلیان علاقہ نے ایم این اے ناصر اقبال بوسال ، ایم پی اے شفقت محمود گوندل سے کمپیوٹرائزڈ اراضی ریکارڈ سنٹر کو جانے والی ڈیڈھ کلومیٹر کچی سڑک کو ہنگامی بنیادوں پر پختہ سڑک بنوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں