معروف قوال غلام فرید صابری کو دنیا سے گزرے 22 ویں برس بیت گئے

ghulam fareed sabri

کراچی: اپنی قوالیوں سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کردینے والے معروف قوال غلام فرید صابری کو دنیا سے گزرے 22 برس بیت گئے۔

1930 میں مشرقی پنجاب میں پیدا ہونے والے غلام فرید صابری نے 16 برس کی عمر میں پہلی مرتبہ ہزاروں لوگوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور بھرپور داد سمیٹی، قیام پاکستان کے بعد وہ بھی لاکھوں مہاجرین کی طرح اپنے گھر والوں کے ہمراہ یہاں آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔

غلام فرید صابری اپنے چھوٹے بھائی مقبول صابری کے ساتھ مل کر قوالی گایا کرتے تھے۔ 1958 میں ان کی قوالیون پر مشتمل پہلا البم ریلیز ہوا جس میں ناصرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت کئی ملکوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیئے۔ اس المب کی مشہور قوالی ’میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘ آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے۔

1970 اور 1980 کی دہائی صابری برادران کا سنہری دور مانا جاتا ہے، اسی دور میں انہوں نے ’’تاجدار حرم‘‘ اور ’’بھر دو جھولی میری یا محمد‘‘ جیسی قوالی گا کر دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے جذبات کی ترجمانی کے لیے زبان دی۔غلام فرید صابری نے نہ صرف اردو میں بلکہ پنجابی، سرائیکی اورسندھی زبان میں بھی قوالیاں گائیں۔ انہیں ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میض شہرت حاصل تھی۔  فنی خدمات کے اعتراف میں انھیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سمیت درجنوں ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

غلام فرید صابری 5 اپریل 1994 کو 64 برس کی عمرمیں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال پاگئے جب کہ ان کی گائی ہوئی قوالیاں آج بھی مقبول عام ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں