تاریخی ملکہ وکٹوریہ پُل زبوں حالی کا شکار،پھٹوں کی مرمت نہ ہونے کے باعث کئی کئی فٹ چوڑے شگاف پڑ گئے

victoria bridge jehlum rivr

تاریخی ملکہ وکٹوریہ پُل زبوں حالی کا شکار،موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والے ریک پر پھٹے ٹوٹ پھوٹ کا شکار، خستہ حالی اور کئی دہائیوں سے پھٹوں کی مرمت نہ ہونے کے باعث کئی کئی فٹ چوڑے شگاف پڑنے کیوجہ سے پیدل اور موٹر سائیکل سواروں کا گزرنا دشوارہو گیا، پل کے اطراف میں ڈی ایس ریلوے کی جانب سے ہدایاتی تحریریں درج ،


ملک وال (تحصیل رپورٹر) ملکہ وکٹوریہ پُل چک نظام پر ضلع جہلم اور ملکوال کے مابین رابطہ پُل کا کام سر انجام دیتا ہے پنڈ دادنخان ، ہر ن پور، غریبوال اور ملکوال کے ہزاروں لوگوں کا آنا جانا روزانہ پُل کی دونوں جانب ہوتا ہے اس پل کی وجہ سے پنڈ دادنخان اور ملکوال کے مابین لوگوں کے تجارتی و کاروباری معاملات کی بناء پر آنا جانا لازم و ملزوم ہے ، ستم ظریفی کا عالم کہ سینکڑوں سال ہو چکے اس پُل کو بنے مگر اس کی توسیع تو الگ بات آج تک اس کی مرمت بھی نہ کی گئی پاکستا ن ریلوے کی بد حالی کے باعث پنڈ دادنخان ، کھیوڑہ اور دیگر علاقوں میں جانے والی اکثر ٹرینیں بند ہو چکی ہیں جس کے باعث لوگوں کو دریا کا پُل سائیکلوں ، موٹر سائیکلوں اور پید ل پار کرنا پڑتا ہے انگریز کے زمانہ سے بنے اس پُل کے دونوں اطراف میں پیدل چلنے والوں کے لیے لکڑی کے پھٹے ڈال کر راستہ چھوڑا گیا تھا جو کہ بعد ازاں وقت کی جدت کے ساتھ ساتھ سائیکل سواروں اور موٹر سائیکل سواروں کی بھی مصروف ترین گزر گاہ بن گیا ان لکڑی کے پھٹوں کی معیاد کئی دہائیاں پہلے ہی ختم ہو چکی تھی مگر پاکستان ریلوے کی بے حسی کا عالم یہ کہ آج تک اس پل کو مرمت کرنے کی بجائے دیواروں کے اوپر لکھائی کر دی کہ پُل کے پھٹے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں لہذا آنے جانے والے احتیاط سے گزریں حالانکہ ایسی تحریریں لکھنے کی بجائے ان دو ضلعوں کی عوام کی حالت پر رحم کرتے ہوئے پاکستان ریلوے کو چاہیے تھا کہ وہ پل کی توسیع تو نہیں کر سکتے مگر ان پھٹوں کی مرمت ہی کروا دیتے بار ہا دفعہ ٹوٹے ہوئے پرانے پھٹوں کے پڑے شگافوں کی وجہ سے لوگوں کے لاکھوں کے مویشی دریا کے نظر ہو چکے کئی بچے اس بیدردی اور بے حسی کا شکار ہو چکے مگر افسوس کہ آج تک اس تاریخی اور دو ضلعوں کے مابین رابطہ رکھنے والی پُل کو مرمت نہیں کیا جا سکا ضلع جہلم اور ضلع منڈی بہاوالدین کی عوام کا وفاقی وزیر ریلوے سے درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ خود اس معاملے کی جانچ کروائیں اور غفلت برتنے والے ریلوے افسران کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں