توہین رسالت کیس کی ملزمہ آسیہ کو فی الفور سزائے موت دی جائے

Mumtaz qadri chehlum malakwal news
ملک وال(نامہ نگار) توہین رسالت کیس کی ملزمہ آسیہ کو فی الفور سزائے موت دی جائے اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے وضع شدہ قانون 295cمیں ترمیم کو ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار سنی علما کونسل کے رہنما علامہ محمد اشرف چشتی نے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں غازی ممتاز قادری شہید کے چہلم کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان عین دین اسلام کے قوانین کے مطابق بنایا گیا تھا مگر دور حاضر کے حکمران اس کو کسی اور ڈگر پر لیکر چل پڑے ہیں اسلامی قوانین کی دھجیاں بکھیر ی جا رہی ہیں ہمارے آباؤ اجداد نے نسل در نسل قربانیاں دے کر اسلامی جمہوری ریاست اس لئے قائم کی تھی تا کہ یہاں ان کے دین اسلام کی توہین نہ کی جائے جہاں پر وہ آزادی سے اﷲ کی عبادت اور رسول کریم ﷺ کی شریعت پر عمل کر سکیں علامہ محمد اشرف چشتی نے کہا کہ غازی ممتاز قدری شہید کو جس طرح پھانسی دی گئی اس طرح ہم کل بھی غلام تھے اور آج بھی غلامی کے دور میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لا الہ الا اﷲ محمد الرسول اﷲ کے نام پر حاصل ہونے والے ملک پاکستان کے حکمران اﷲ اور رسول کریم ﷺ کی غلامی کرنے کی بجائے امریکہ اور یورپ کی غلامی کر رہے ہیں آقا کریم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف وضع کیا گیا قانون295cجس میں اب حکمران ترمیم کرنے جارہے ہیں ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ توہین رسالت کی مرتکب ملزمہ آسیہ کو فی الفور پھانسی کی سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ غازی ممتاز حسین قادری کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ان کے خون سے پاکستانی قوم کے نظریہ انتخاب میں انقلابی تبدیلی آئے گی ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں