20لاکھ سے زائد کی آبادی پر محیط شہر منڈی بہائوالدین میں صرف 50بیڈ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال

Mandi Bahauddin map urdu
ملک وال(تحصیل رپورٹر) منڈی بہاوالدین کو 1993میں ضلع کا درجہ ملا مگر ابھی تک بنیادی مسئلہ طبی سہولیات سے محروم یہ ضلع 20لاکھ سے زائد کی آبادی پر محیط ہے اور صرف 50بیڈ کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود ہے جس کا اصل ٹارگٹ 250بیڈز پر مشتمل تھا یہ ٹارگٹ پہلے فیز میں2007تک مکمل ہونا تھا مگر حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور عدم دلچسپی کے باعث نہ مکمل ہو سکا اس کے بعد اس ٹارگٹ کی معیاد کو بڑھا کر 2012تک کر دیا گیا اور طے پایا کہ اس منصوبہ کی کل لاگت کا آدھا حصہ وفاقی حکومت اور آدھا حصہ صوبائی حکومت برداشت کرے گی 2012میں وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی تھی اور صوبائی حکومت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تھی جس وجہ سے یہ مسئلہ بھی جوں کو توں رہا اس کے بعد جب پاکستان مسلم لیگ(ن) کی الیکشن میں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت بنانے میں نمایاں طور پر کامیابی حاصل کی اس کے بعد مکین منڈی بہاوالدین کو حکومت وقت سے بہت امیدیں وابستہ ہو گئیں مگر ان حکمرانوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان کی نظریں چھوٹے ضلعوں کی بجائے بڑے اضلاع جن کو یہ اپنی اصل طاقت سمجھتے ہیں جنہیں جی ٹی روڈ کے اضلاع گردانا جاتا ہے ان پر زیادہ فوکس کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ضلع منڈی بہاوالدین کی تحصیل ملک وال پنجاب بھر کی 140 سے زائد تحصیلوں میں واحد تحصیل ہو گی جو اب تک بیسک ہیلتھ یونٹ پر چل رہی ہے جس کے لیے 2012میں 187.73ملین گرانٹ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے لیے منظور کی گئی جس میں اس وقت کے مقامی ایم پی اے وسیم افضل چن نے نمایاں کردار ادا کیا اس منصوبہ کی تکمیل معاہدہ کی مدت 24ماہ رکھی گئی جو کہ معاہدہ داری کے مطابق 2014میں مکمل ہو جانی چاہیے تھی مگر روایتی خامیوں اور نااہلیت کی بناء پر یہ منصوبہ بھی 2سال تاخیر کا شکار ہونے کے باوجود اب تک مکمل نہ ہو سکا سونے پر سہاگہ اس بات کا کہ ضلعی حکومت نے اپنی نااہلی کو چھپانے کیلیے عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے نامکمل تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ہی بیسک ہیلتھ یونٹ بنا ڈالا اور مریضوں کی پریشانیوں میں خوب اضافہ کر دیا جو مریض 80کلومیٹر دور دیہاتوں سے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو زہن میں ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جب ہسپتتال پہنچتے ہیں تو انہیں پتہ لگتا ہے کہ یہ تو وہی بیسک ہیلتھ یونٹ ہے وہی عملہ وہی نہ ہونے کے برابر ڈاکٹر ضلعی حکومت کا اختیار ڈی سی او کے پاس ہوتا ہے جس کے پاس وسائل کا سمندر موجود ہوتا ہے اگر ڈی سی او وسائل کے ساتھ دلائل کا بھی استعمال کرتے تو آج یہ منصوبے تاخیر کا شکار نہ ہوتے اور 84سے زائد موضع جات پر مبنی تحصیل ملکوال اور 20لاکھ سے زائد آبادی کے ضلع کو وزیر اعلیٰ کی طرف نہ دیکھنا پڑتا اہلیان ملک وال اور ضلع بھر کی عوام کا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ ہے کہ فی الفور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ملک وال کا دورہ کریں اور صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے تحصیل ملکوال سمیت ضلع بھر کی عوام کا دیرینہ مطالبہ کریں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں