شہر کے لیے مختص شدہ 53کروڑ کی بھاری گرانٹ سے سیوریج اور گلیوں نالیوں کے کام جلد از جلد شروع کروائے جائیں

Malakwal map
ملک وال (نامہ نگار) شہر کے لیے مختص شدہ 53کروڑ کی بھاری گرانٹ سے سیوریج اور گلیوں نالیوں کے کام جلد از جلد شروع کروائے جائیں عوامی حلقے کافی عرصہ ہو گیا ناصر اقبال بوسال ایم این اے اور ایم پی اے شفقت محمود گوندل نے اس گرانٹ کا اعلان عوامی اجتماع میں کیا تھا جو بعد ازاں ٹی ایم اے ملک وال کو جاری بھی کر دی گئی تھی مگر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود کسی ایک گلی محلہ اور شہر کا کام شروع نہیں کیا جاسکا شہر بھر میں سیوریج کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہلکی بارشوں میں بھی شہر وینس کا منظر پیش کرنے لگ جاتا ہے اس سلسلہ میں جب بھی ٹی ایم اے حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس گرانٹ کے تحت کام ہمارے زیر نگرانی ہونا ہی نہیں اگر شہر کی گرانٹ جاری ہو گئی اور ٹی ایم اے متعلقہ افسران کے زیر سایہ کام نہیں ہونا تو اس کام کے لیے کون سے افسران اور کون سے محکمے آیں گے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا جتنا عرصہ گزر گیا ہے اس گرانٹ کا علان ہونے کے بعد اب ہمیں نہیں لگتا کہ اس پر کوئی کام جاری ہو سکے راشد اقبال،ظفر اقبال، لیاقت خان، ندیم وئیس، راجہ شیر عباس، قیصر ندیم چوہدری اور آصف شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی نمائندوں پر عدم اطمینان کے ساتھ اظہار برہمی کیا ہے انہوں نے کہا ہم دعوت دیتے ہیں ناصر اقبال بوسال ایم این اے ،شفقت محمود گوندل ایم پی اے اور تمام افسران کو جب بارش ہو رہی ہو تو وہ پیدل تو کیا اپنی لگژری گاڑیوں پر رانا چوک یا پرانا بازار سے کسی بھی محلہ کی جانب جا کر دکھائیں کئی تو وہ کہتے ہیں کہ اس گرانٹ کے تحت کام ہمارے زیر نگرانی ہونا ہی نہیں اگر شہر کی گرانٹ جاری ہو گئی اور ٹی ایم اے متعلقہ افسران کے زیر سایہ کام نہیں ہونا تو اس کام کے لیے کون سے افسران اور کون سے محکمے آیں گے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا جتنا عرصہ گزر گیا ہے اس گرانٹ کا علان ہونے کے بعد اب ہمیں نہیں لگتا کہ اس پر کوئی کام جاری ہو سکے راشد اقبال،ظفر اقبال، لیاقت خان، ندیم وئیس، راجہ شیر عباس، قیصر ندیم چوہدری اور آصف شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی نمائندوں پر عدم اطمینان کے ساتھ اظہار برہمی کیا ہے انہوں نے کہا ہم دعوت دیتے ہیں ناصر اقبال بوسال ایم این اے ،شفقت محمود گوندل ایم پی اے اور تمام افسران کو جب بارش ہو رہی ہو تو وہ پیدل تو کیا اپنی لگژری گاڑیوں پر رانا چوک یا پرانا بازار سے کسی بھی محلہ کی جانب جا کر دکھائیں کئی کئی فٹ پانی پورے بازار میں جمع ہو جاتا ہے دکانداروں کا نقصان ہوتا پانی دکانوں میں داخل ہونے کے باعث دکانداروں کی اجناس تباہ ہو جاتی ہیں اور تحصیل کا درجہ ملے ہوئے زمانہ بیت گیا مگر سہولیات کا فقدان اتنا ہے کہ آج بھی ملک وال ایک اس جزیرے کی مثال پیش کرتا ہے جس کا ضلع سے زمینی رابطہ ہی نہ ہو۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں