شہید ممتاز قادری ؒ اور رحم کی اپیل

شہید ممتاز قادری ؒ اور رحم کی اپیل

اسلامی جموریہ پاکستان کے چپہ چپہ گلی گلی، نگر نگر اور ڈگر ڈگر احتجاج اور ریلیاں عاشق رسول ﷺ ملک ممتاز قادری کی شہادت کے خلاف جاری ہیں مظاہرین نے راولپنڈی کو دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی بڑی شاہرہ اسلام آباد ایکسپریس وے اور فیض آباد پل کے علاوہ بارہ کہو اور روات سے شہر میں آنے والے راستے بند کر دیے ہیں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ہے۔
فیض آباد کے قریب مظاہرین نے میڈیا کے نمائندوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
اسلام آباد میں وکلا کی تنظیم اسلام آباد بار کونسل نے بھی پھانسی کے خلاف ہڑتال کرنے اور احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔لاہور میں بھی احتجاج کے باعث میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی ہے جبکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کر کے جلسے اور جلوسوں کے انعقاد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔لاہور کے داخلی و خارجی راستوں پر مذہبی تنظیموں کی جانب سے دھرنے دیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں
ممتاز قادری کو پھانسی دینے یا نہ پھانسی نہ دینے سے عدالتوں کے فیصلے ، عدالتوں کی کاروائی کو نشانہ بنانا یا ملک میں افراتفری پیدا کرنا مطلب نہیں ،
ملک ممتاز قادری کا موقف روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ سابق گورنر پنجان سلیمان تاثیر کوگولیوں سے چھلنی کرنے والے ملک ممتاز قادری ؒ کی کوئی ذاتی رنجش سلیمان تاثیر کے ساتھ نہیں تھی، ملک ممتاز قادری رزق حلال کے لئے وطن عزیز کی ایلیٹ فورس پولیس میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے ، اور اس سے برا کیا ثبوت دوں کہ سلیمان تاثیر کو بھی ملک ممتاز قادری کی شجاع بہادری پر فخر تھا یہی وجہ ہے کہ ملک ممتاز قادری سلیمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھے۔
ایسا کیا ہوا؟ کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر ہی کے چراغ سے۔ والہ قصہ بن گیا،
ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد ایسے متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ملک میں ’ممتاز قادری بچاؤ مہم‘ چلا رہے تھے۔
سلمان تاثیر کے قاتل کو پھانسی دیے جانے کا معاملہ انتہائی خفیہ رکھا گیا اور اس بارے میں پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے چند افسران ہی باخبر تھے۔
ممتاز قادری کو یکم اکتوبر 2011ء کو راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے گھناؤنے جرم کے ارتکاب کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا جس پر اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے فوری توڑ پر حکم امتناعی جاری کر دیا اور آج تک حکومت کی متعدد درخواستوں کے باوجود سماعت کرنے سے انکاری ہے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر ہی کے چراغ سے اس بات کی وضات مرحوم و مغفور ممتاز قادری کے بقول اس نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ سلمان تاثیر نے اس کے بقول توہین رسالت کے قانون کی مخالفت کی تھی۔ سلمان تاثیر نے 2010ء میں پاکستان میں قانون توہین رسالت کی شدید مخالفت کی اور اس میں فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں کی کی گئی ترمیم کو کالا قانون قرار دیا- اس کے نتیجہ میں علماء کی ایک بڑی تعداد نے اسے واجب القتل قرار دے دیا اور 4 جنوری 2011ء کو اس کے ایک محافظ ملک ممتاز حسین قادری نے اسلام آباد کے علاقے ایف -6 کی کوہسار مارکیٹ میں اسے قتل کر دیا-
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ توہین مذہب کے مرتکب کسی شخص کو اگر لوگ ذاتی حیثیت میں سزائیں دینا شروع کر دی جائیں تو اس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔
عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینج کے فیصلے کے خلاف ممتاز قادری نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی بھی درخواست کی لیکن اُسے بھی خارج کر دیا گیا جب کہ صدر پاکستان نے بھی ممتاز قادری کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی۔
جبکہ سابق چیف جسٹس نذیر احمد نے دلائل کی روشنی میں اس فیصلہ کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہاتھاکہ ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کرکے اہم کارنامہ انجام دیا ہے اور ممتاز قادری کا یہ اقدام درست ہے۔ اب حدیٹ شریف کے پاس چلتے ہیں
صحیح بخاری]4[:
بعث رسول اﷲ صل اﷲ علیہ وسلم الیٰ ابی رافع الیھودی رجالا من الانصاروامر علیھم عبد اﷲ بن عتیق وکان ابو رافع یؤذی رسول اﷲ صل اﷲ علیہ وسلم و یعین علیہ۔ ترجمہ: رسول اﷲ صل اﷲ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کیلئے چند انصار کا انتخاب فرمایا، جن کا امیر عبد اﷲ بن عتیق مقرر کیا۔یہ ابو رافع نبی پاک صل اﷲ علیہ وسلم کو تکالیف دیتا تھا اور آپ صل اﷲ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کی مدد کرتا تھا۔‘‘
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ گستاخ رسول کے قتل کیلئے باقاعدہ آدمی مقرر کئے جاسکتے ہیں اور نیز یہ بڑے اجر و ثواب کا کام ہے نہ کہ باعث سزاو ملامت۔کیونکہ یہ لوگ ایک بہت ہی بڑا کارنامہ اور دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
’’عن انس بن مالک ان النبی صل اﷲ علیہ وسلم دخل مکہ یوم الفتح و علی راسہ المغفر فلما نزعہ جاء رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الکعبہ فقال اقتلہ۔
(صحیح بخاری) قال ابن تیمیہ فی الصارم المسلول وانہ کان یقول الشعر یھجو بہ رسول اﷲ ویامرجاریتہ ان تغنیابہفھذا لہ ثلاث جرائم مبیحۃ الدم، قتل النفس، والردۃ، الھجاء۔(الصارم۔صفحہ ۵۳۱) امر رسول اﷲ صل اﷲ علیہ وسلم بقتل القینتین(اسمھما قریبہ و قرتنا) (اصح السیر۔صفحہ ۶۶۲) ترجمہ: حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی صل اﷲ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صل اﷲ علیہ وسلم نے سر مبارک پر خود پہنا ہوا تھا۔جب آپ نے خود اتارا تو ایک آدمی اس وقت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردو ں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے،آپ صل اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسکو قتل کردو۔(صحیح بخاری]5[) ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں لکھا ہے کہ ابن خطل اشعار کہہ کر رسول اﷲ صل اﷲ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور اپنی باندی کو وہ اشعار گانے کیلئے کہا کرتا تھا،تو اسکے کُل تین جرم تھے جس کی وجہ سے وہ مباح الدم قرار پایا، اول ارتداد دوسرا قتل اور تیسرا حضور صل اﷲ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی]6[۔ اور سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے ابن خطل کے ان دونوں باندیوں کے قتل کانبی صل اﷲ علیہ وسلم نیحکم دیا تھا۔
بحثیت مسلمان اور ایک پاکستانی ہم شرمندہ ہیں دُعا ہے اﷲ پاک سچے اور پکے عاشق رسول ﷺ کے صدقے ہم پر رحم فرمائے،
آخر میں صدرِ مملکت اسلامی جموریہ پاکستان سے گزارش ہیں اﷲ پاک کے پیارے حبیب نبی آخر الزماں سردار الانبیاء جناب محمد ﷺ کے عاشق ملک ممتازقادری ؒ کی رحم کی اپیل مسترد کرنے پر ، ملک ممتاز قادری کی روح، عاشقان رسول اور پاکستانی قوم سے مافی مانگنی چاہیئے

Dr. Tasawar mirza mbdin newsتحریر ::
ڈاکٹر تصور حسین مرزا

اپنا تبصرہ بھیجیں