فاطمہ ثریا بجیا،عمران اعظم رضا اور” ماں جیـ”

فاطمہ ثریا بجیا،عمران اعظم رضا اور” ماں جیـ”

30جنوری کو عمران اعظم رضاکی فیس بک ٹائم لائن پر ان کی کتاب “ماں جی”کی تقریب رونمائی کی پوسٹ دیکھی جس پر محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کی آمد کا پڑھا اور ان کے ساتھ ان کے فرزند ارجمند اسیر احمد خاں بھی تشریف لا رہے تھے تو دل میں اس تقریب میں پہنچنے کی خواہش نے جنم لیا ،محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کو دیکھنے اور ملنے کی آرزو نے کروٹ لی معروف شخصیات سے ملنا باعث مسرت ہوتا ہے اور ایسی ادبی شخصیات میرے لئے استاد کا درجہ رکھتی ہیں، اسی اثناء میں محترم عزت رسول کا فون آگیا کہ کل عمران اعظم رضا صاحب کی کتاب کی تقریب رونمائی ہے تو میری جگہ آپ تشریف لے جانا اور عمران صاحب کو بتانا کہ والدہ کی علالت کی وجہ سے نہیں پہنچ سکا۔ حسرت کو حقیقت میں بدلنے کا موقع پیدا ہو گیا ۔ اگلے دن تیار ہو کر گوجرانوالہ آرٹس کونسل پہنچ گیا عمران اعظم رضا صاحب مہمانوں کے استقبال کے لئے کھڑے تھے،سلام کیا ،تعارف کرایا اورمحترم عزت رسول کے نہ آنے کی وجہ بتائی ،عمران صاحب کرسی پر بیٹھا آئے۔وہاں بڑے محترم اور معروف کالم نگار عتیق انور راجہ صاحب بھی تشریف لے آئے ان سے کچھ دیر خوب گپ شپ ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا، تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولﷺ کے بعد معروف مہمانان گرامی کا تعارف کرایا،عمران حیدر نقوی نقابت فرما رہے تھے،ان کا مہمان خصوصی کی آمدکے بارے بار بار تذکرہ دل میں اطمینان پیدا کئے ہوئے تھا مقررین کو باری باری سٹیج پربلایا گیا جنہوں نے کتاب کے بارے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور عمران اعظم رضا کی اردو ادب میں خدمات کو سراہا۔

english book
ادریس ناز صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور خوشی کی خبر بھی سنائی کے مہمانان خصوصی اپنے گھر سے گوجرانوالہ کے لئے روانہ ہو چکے ہیں تو دل میں شادمانی پیدا ہوئی کہ چند لمحوں بعد محترمہ فاطمہ ثریا بجیا ہمارے درمیان سٹیج پر موجود ہوں گی اور ان سے ملنے کی خواہش پوری ہوگی۔مقررین کے بعد تقریب کے دولہا عمران اعظم رضا صاحب کوتالیوں کی گونج میں ڈائس پر بلایا گیا ،انہوں نے اپنے خیا لات کا اظہار کیا اور اپنی کتاب “ماں جی”سے ایک کہانی “تھپڑ “سنائی، یہ کہانی سننے کے بعد دل آٹھ آٹھ آنسو رو پڑا کہ اس معاشرے میں ایسے کم فہم لوگ بھی موجود ہیں جنہیں والدین کی قدر کا اندازہ نہیں۔ بہر حال کہانی سننے کے بعد کتاب پڑھنے کے اشتیاق میں اضافہ ہوگیا خریدنے کی ٹھان لی۔اگلے لمحے مہمانوں میں بیٹھے عمران اعظم رضا صاحب کے ایک دوست نے کہا کہ انکی طرف سے تمام حاضرین محفل کو ایک ایک کتاب بطور تحفہ پیش کی جائے ۔عمران اعظم رضا صاحب کے بعد ادریس ناز صاحب دوبارہ ڈائس پر آئے اور فرمایاکہ محترمہ فاطمہ ثریا بجیا صاحبہ کی شاہدرہ پہنچ کر طبیعت ناساز ہو گئی ہے جنہیں شاہدرہ ہسپتال میں داخل کروانا پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ تقریب میں نہیں پہنچ سکیں گی ۔ایک جھٹکا سا محسوس ہوا کہ زندگی میں پہلی دفعہ ایسا نادر موقع ملا تھا کہ سپر ہٹ ڈراموں، شہرہ آفاق ناولوں کی مصنفہ محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کو دیکھ سکوں گا مگر قاصر رہا ۔تقریب کے اختتام پر عمران اعظم رضا صاحب نے حاضرین میں کتابیں تقسیم کیں میں نے بھی کتاب حاصل کی اور ان کے ساتھ تصویر بنوا کرحسرت دل میں لئے سوچتا ہو اگھر کو ہو لیا کہ پھر شاید یہ موقع ملے نہ ملے۔
ایک آدھ دن بعد کتاب پڑھنا شروع کی تو ابتداء سے لیکر اختتام تک کتاب نے مجھے جکڑے رکھا ایک کہانی پڑھنے کے بعد اگلی کہانی پڑھنے کا شوق اور سسپنس بڑھ جاتا مگر گاہے بگاہے جب بھی ٹائم ملتا ایک دو کہانیاں پڑھ لیتا۔ عمران اعظم رضا نے اپنی کتاب کو ہمارے ارد گرد معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے حقیقی واقعات کو کہانیوں کا روپ دیا ہے۔ـ”ماں جی”کی ایک ایک کہانی ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے ـ اس کتاب میں ہمارے درمیان اور ارد گرد بسنے والے لالچی،خود غرض،مفاد پرست اور سفاک لوگوں کا ذکر ہے جو اپنی ذات اور مفاد کے لئے دوسروں کی خواہشوں،ارمانوں اور خوابوں کے ساتھ زندگیوں سے بھی کھیل جاتے ہیں۔
کتاب پڑھنے کے دوران ہی ایک دن اخبارات پر محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کے انتقال کی خبر نے مجھے دو صدمات سے دوچار کر دیا ایک اردو ادب کا درخشاں ستارہ ہمارے درمیان نہیں رہا اور دوسرا ان سے ملنے اور دیکھنے کی تمام حسرتوں نے بھی اسی دن دم توڑ دیا تھا۔اﷲ پاک مرحومہ کو جنت کے اعلیٰ مقام پر فائض فرمائے۔آمین !اسی طرح اردو ادب کے بڑے بڑے مصنفین، شعراء،نثر نگار،متراجم اور افسانہ نگار اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں اگر ان کے نام لکھنا شروع کریں تو یہ ایک نہ ختم ہونے والی داستاں بن جائے مگران نامور شخصیات نے جس طرح اردو، اردو ادب اور پاکستان کی خدمت کی اس کے لئے چند لائنیں لکھنا بھی نانصافی ہو گی۔محتر مہ فاطمہ ثریا بجیا مرحومہ بھی اردو ادب کا بہت بڑا نام تھا جوہمارے درمیان نہیں رہیں ان کی کمی،خلا کو پورا کرنا ناممکن سی بات ہے۔اﷲ پاک مغفرت کرے۔آمین!
Irfan Nawaz Ranjha mbdin newsتحریر: عرفان نوازرانجھا
ای میل ایڈریس: Iffuranjha@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں