اگر لوگ لٹیروں کو منتخب کریں گے تو پھر علاقہ میں چور ڈکیتیوں کی وارداتیں ہی ہو ں گی

Nadeem Afzal Chan PPP
ملک وال(نامہ نگار) پنجاب حکمران اگر دودھ کے دھلے ہوئے ہیں تو نیب کی ممکنہ کاروائیوں پر کیوں چیخ رہے ہیں اگر لوگ لٹیروں کو منتخب کریں گے تو پھر علاقہ میں چور ڈکیتیوں کی وارداتیں ہی ہو ں گی ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن ،سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے پولیٹیکل ایڈوائزر ندیم افضل چن نے گزشتہ روز نمائندہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نیب اگر سندھ میں کاروائیاں کرے تو ن لیگ والے کرپشن کیخلاف کاروائی کہتے ہیں لیکن جب یہی نیب پنجاب میں میٹرو ، اورنج ٹرین ، رائیونڈ روڈ سمیت دیگر میگا پراجیکٹس میں کرپشن کیخلاف کاروائی کی بات کرے تو میاں برادران اور ان کے حواری نیب حکام کو دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف چھ ماہ اور ایک سال میں بجلی بحران ختم کرنے کا دعویٰ تو پورا نہیں کر سکے اب کرپشن سے پاک ہونے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہو گا ۔ سابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ندیم افضل چن نے کہا کہ ملک وال سمیت ضلع بھر میں ڈکیت ، چوری اور قتل کی وارداتیں روز کا معمول بن گئی ہیں ڈاکو دن دیہاڑے بھرے بازار میں تاجروں اور شہریوں کو بلا خوف لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں لیکن پولیس کسی بھی مجرم کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی اگر کوئی چور ، ڈاکو ، قاتل پکڑا جائے تو حکومتی اراکین اسمبلی کے دباؤ پر پولیس چھوڑ دیتی ہے ۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد نذیر کو ان کے ہسپتال میں سرشام گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا مگر پولیس ابھی تک ملزموں کا سراغ نہیں لگا سکی ۔ دو روز قبل ملک وال کے مصروف ترین رانا چوک میں چار مسلح ڈاکو صراف رانا عظیم کی دکان میں دن دیہاڑے گھس کر ڈکیتی کر کے بآسانی فرار ہو گئے ۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ چوری ڈکیتی کی وارداتیں روز کا معمول بن چکی ہیں شہری اور تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں