میرا پاکستان کہاں ہے۔۔۔؟

میرا پاکستان کہاں ہے۔۔۔؟

روز صبح دفتر جاتے ہوئے میں ایک بوڑھی خاتون کو دیکھتی ، سٹرک کنارے بیٹھے ہوئے اور شاید کچھ سوچتے ہوئے بھی ، ہمیشہ حیرت زدہ ہوتی کہ چلو کبھی تو ان سے پوچھوں گی کہ آپ یہاں کیوں رہتی ہیں؟۔ کیا آپ کا کوئی گھر نہیں یا آپ کی اولاد کی بے رخی نے آپ کو یہاں رہنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ یہ سب سوال میرے ذہن میں رہتے ہیں لیکن اس معمر خاتون کے چہرے پر چھائی سنجیدگی مجھے کچھ بھی پوچھنے سے روک دیتی۔

pakistan day flag

آج واپسی پر گھر جاتے ہوئے سوچ لیا تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے میں ان سے بات کر کے ہی رہوں گی اور یہ معلوم کر کے رہوں گی کہ آخر اصل معاملہ کیا ہے؟۔ میرے قریب جاتے ہی انھوں نے اپنے چہرے پر سختی کے آثار پیدا کر لئے لیکن جب میں نے ایک مانوس سی مسکراہٹ سے ان کی جانب دیکھا اور پہلا سوال ہی یہ کر ڈالا کہ آپ یہاں کیسے؟۔ کیا آپ کا کوئی گھر نہیں خالہ؟۔

چند لمحے کو تو انھوں نے نظر بھر کر مجھے دیکھا اور کہا کہ یہ پورا دیس ہی میرا گھر ہے لیکن آپ کو ایک بات بتاؤں بیٹا کہ اپنا وطن بھی اب پردیس بن چکا ہے جگہ جگہ ڈاکو لیڑے بچوں کو مارنے والے ظالم لوگ پھر رہے ہیں ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابھی تک ہندوستان میں ہوں جہاں کسی چھوٹے بڑے کا احترام نہیں، کسی کی عزت نہیں ، کیا اسی مار دھاڑ کے لئے ہم نے یہ ملک بنایا تھا؟۔

میں اس خاتوں کو تسلی تو دینا چاہتی تھی لیکن حقیقت سے آنکھیں چرانا بھی تو میرا مقصد نہیں تھا ۔ میں تو یہ بھی پوچھنا چاہتی تھی کہ واقعی اماں کیا ہماری نسل مایوس ہونے کے لئے ہی رہ گئی ہے؟۔ کبھی انقلاب اور کبھی آزادی مارچ کے نام پر عوام کو دھوکے دئیے جا رہے ہیں ۔ مجھے دیر تو ہو رہی تھی لیکن میں یہی سوچ رہی تھی کہ ہم نوجوانوں کی زندگی کے چند لمحوں پر ان معمر افراد کا بھی تو حق ہے۔ ابھی ہم دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ میں نے یہ نوٹس کیا کہ ان کے ہاتھوں میں کوئی چیز ہے جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ میری متجسس طبعیت مجھے اس بات پر مجبور کر رہی تھی کہ ان کے ہاتھ میں اس پوشیدہ چیز کو بھی دیکھ لوں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بوڑھے افراد اپنی چیزوں کے بارے میں بے حد حساس ہوتے ہیں ۔ ان سے یہ پوچھ لیا کہ اماں اگر آپ بُرا نہ مانیں تو مجھے بھی دکھائیں کہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟۔

انھوں نے اپنے ہاتھ کھولے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں کہ دیکھو میرے ہاتھ میں ریزہ ریزہ پاکستان ہے ۔ میں یہ پوچھ رہی ہوں کہ میرا پاکستان کہاں ہے؟۔ میں نے جب ان کے ہاتھوں میں دیکھا تو حیران رہ گئی کہ پاکستانی پرچم کی ایک جھنڈی تھی جو ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی تھی اور اماں روتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ بیٹا تم نے دیکھا میرا پاکستان ٹوٹ گیا، ٹکٹروں میں بٹ گیا ، اب میں ان ٹکڑوں کو اکٹھا کر رہی ہوں ، بیٹا دیکھو یہ میرا ریزہ ریزہ پاکستان ہے ، میرا ٹوٹا ہوا پاکستان۔

اپنا تبصرہ بھیجیں