کہاں لے گیا یہ آدمی ہمیں“الطاف حسین ”را“ کے ایجنٹ، 2 نسلیں کھا گئے، اللہ کا خوف واپس کھینچ لایا، پاکستان کو جوڑنے کیلئے نئی پارٹی بنا رہے ہیں: مصطفی کمال

news-1457009856-2106_large

ایم کیو ایم کے سابق رہنماءمصطفی کمال نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین پر سنگین ترین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ”را“ کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی پرچم کو ہی پارٹی پرچم قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ ٹکڑوں میں بٹے پاکستان کو جوڑنے آئے ہیں۔ الطاف حسین نے کارکنوں کی 2 نسلیں تباہ کر دیں لیکن انہیں ترس نہیں آ رہا، صولت مرزا، اجمل پہاڑی اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل ماں کے پیٹ سے قاتل پیدا نہیں ہوئے تھے، سب جان چکے کہ الطاف حسین کے ”را“ سے تعلقات ہیں لیکن کارکنان آج بھی انہیں نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ پہلے کثرت شراب نوشی کی وجہ سے دن کو موڈ ٹھیک نہیں ہوتا تھا لیکن اب دن اور رات میں فرق ہی نہیں رہ گیا، اللہ کے خوف سے سب کچھ چھوڑ کر دبئی چلا گیا اور آج پھر اللہ کا خوف ہی واپس کھینچ لایا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انیس قائم خانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی کے سابق ناظم و سابق سینیٹر مصطفی کمال نے کہا کہ جب سے ہم نے ایم کیو ایم کو خیرباد کہا ہے اس کے بعد سے آج تقریباً تین سالوں کے بعد پہلی میڈیا بریفنگ ہے، اس سے پہلے نہ سوشل میڈیا استعمال کیا، کوئی بیان دیا اور نہ ہی کوئی بات کی اور آج پہلی دفعہ ہم پاکستانیوں سے اور تمام لوگوں سے مخاطب ہیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جس دن ہم نے ایم کیو ایم چھوڑنے کافیصلہ کیا اس سے پہلے ہماری کوئی شوگر مل ضبط نہیں کی گئی تھی، ہمارا کارخانہ واپس نہیں لیا گیا تھا، ہم سے کسی نے ہماری ذمہ داری نہیں چھینی تھی ، ہمارا نہ تو کسی نے پیٹرول پمپ چھینا اور نہ شادی ہال چھینا اور نہ ہماری کسی زمین پر قبضہ ہوا کیونکہ ہمارے پاس کبھی زمین، شوگر ملز، پیٹرول پمپ اور شادی ہالز نہیں رہے بلکہ میں اور انیس قائم خانی ایم کیو ایم کی تاریخ میں وہ واحد افراد ہیں جنہوں نے اپنی پوزیشنز کی قربانی دی، سینیٹر شپ چھوڑی، رابطہ کمیٹی چھوڑی اور دبئی چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ 2008ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی اور الطاف حسین کے کہنے پر ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہو گئی اور پھر پانچ سالوں میں ہم نے چار دفعہ باقاعدہ طور پر گورنمنٹ کو چھوڑا اور پھر بڑے بڑے دعوے کئے، الطاف حسین نے زردارانہ نظام کے خاتمے کی بات کی، محب وطن جرنیلوں کو ٹیک اوور کی آفر دی لیکن اس کے بعد پہلے سے بھی کم تنخواہوں پر واپس آ گئے اور اسی طرح کرتے کرتے 2013ءکا الیکشن آ گیا جس دوران کراچی کے اردو بولنے والوں نے ردعمل ظاہر کیا اور پی ٹی آئی کو آٹھ سے ساڑھے آٹھ لاکھ ووٹ دیئے، ایم کیو ایم کے علاقوں سے پی ٹی آئی کو ووٹ ملے اور ایسا 30 سالوں میں پہلی مرتبہ ہوا لیکن ایم کیو ایم اپنی تنظیمی سٹرکچر کی وجہ سے دو سیٹیں زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ جب پی ٹی آئی کو 9 لاکھ ووٹ پڑے تو ہم یہ سمجھے کہ شائد اب الطاف حسین کو عقل آئے گی اور کچھ ہوش کریں گے اور اب شائد عوامی خدمت پر اور اپنی اصلاع کرنے توجہ دی جائے گی لیکن بجائے اس کے کہ اپنے گریبان میں جھانکا جائے معاملات بگڑتے گئے۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ حکومت سے نکلنے اور شامل ہونے کے فیصلے کون کرتا ہے، وہ فرد واحد ہی ہے جو پہلے بھی فیصلے کرتا تھا اور آج بھی وہی کر رہا ہے، جب نائن زیرو میں کھانا بھی ان کی مرضی سے بنتا ہے اور مہمان کو کیا کھلانا ہے یہ بھی ان سے ہی پوچھا جاتا ہے تو حکومت میں شمولیت یا نکلنے کا فیصلہ کوئی اور کیسے کر سکتا ہے۔
غلطی سے سیکھنے اور ہوش کرنے کے بجائے الطاف حسین نے دو تلوار پر جمع ہونے والی پی ٹی آئی کی خواتین پر ناراضگی شروع کر دی اور کہا کہ دو تلواروں کو تلوار بنا دو، سب نے سمجھایا، منتیں کیں لیکن پھر یہ احکامات آ گئے کہ کسی بھی صورت میں پی ٹی آئی خواتین کے مظاہرے نہیں ہونے چاہئیں کیسے بھی کریں لیکن ان خواتین اور بچوں کو وہاں سے ہٹایا جائے لیکن پارٹی نے انکار کرتے ہوئے اپنی معذوری ظاہر کی اور کہا کہ کیسے اپنے بچوں اور خواتین کو تشدد کر کے وہاں سے اٹھائیں، ہم الیکشن جیت چکے ہیں تو پھر اب کیا ضرورت ہے لیکن چونکہ الطاف حسین نے اپنی غلطیوں کو نہ پہلے کبھی مانا ہے اور نہ اس دن مانا اور 19 مئی کو لچے لفنگوں کو منگوا کر لوگوں سے بدتمیزی کروائی گئی صرف اس لئے کہ آٹھ لاکھ ووٹ دوسری جماعت کو کیسے مل گئے اور خواتین مظاہرہ کس طرح کر رہی ہیں۔ اس کے بعد رابطہ کمیٹی کے تمام ذمہ داران کو 19 مئی 2013ءکو نائن زیرو میں جمع ہو کر کے نشے میں دھت ہو ذلیل کرایا اور بدتمیزی کرائی گئی اور ان کے اوپر جوتے پھینکے گئے جبکہ پوری دنیا اس کی گواہ ہے اور سب کچھ میڈیا کے کیمرے بھی ریکارڈ کر چکے ہیں۔ میں اردو بولنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ چیف آف آرمی سٹاف اگر اپنے ہی کور کمانڈرز کو سپاہیوں سے ذلیل کروائیں اور جب جنگ کا ماحول بنے تو انہیں کمانڈرز کو بولے کہ ان سپاہیوں سے جنگ جیتو تو کیا وہ کمانڈرز ان سے کام لے سکتے ہیں؟ جب ہم تھے تو ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی ہفتوں اور مہینوں میں ذلیل ہوتی تھی لیکن اب گھنٹوں اور منٹوں میں ذلیل ہوتی ہے، پہلے ہم درد لیتے تھے کہ کہیں بات باہر نہ نکل جائے، ہم برداشت کرتے تھے، کبھی ٹیلی فون کی تار کھینچ کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ لوگ ہمارے پھٹے ہوئے کپڑے نہ دیکھیں لیکن اب جو کمروں میں بات ہوتی تھی وہ ٹی وی چینلز پر بھی ہوتی ہے اور پوری دنیا کو پتہ چلتی ہے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ پہلے رات کو موڈ آف ہوتا تھا کثرت شراب نوشی کی وجہ سے اور اب دن اور رات میں کوئی فرق نہیں رہ گیا اور ہفتوں اور ہفتوں کا سرکل ختم ہی نہیں ہوتا۔ الطاف حسین کیلئے لوگوں نے اپنی نسلیں تباہ کر دیں، جس پارٹی کے لیڈر نے پانچ سالوں تک اپنی من مانی کی ہو وہ کیسے کسی کی مان سکتا ہے؟ ایک وقت تو یہ بھی آ گیا تھا کہ ایم کیو ایم کی پریس ریلیز رحمان ملک لکھواتے تھے اور ہم سوچتے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ 19 مئی 2013ءکو 2 تلوار پر ہونے والے پی ٹی آئی خواتین کے احتجاج پر الطاف حسین بہت غصے میں تھے اور رابطہ کمیٹی سر جوڑ کر بیٹھی تھی کہ غصہ کیسے نکالیں جس پر سوچا کہ ہم بھی مظاہرہ کرتے ہیں شائد اس سے ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور یہی سوچتے ہوئے الیکشن کمیشن سندھ کے سامنے چار دنوں تک دھرنا دیا باوجود اس کے کہ ہم الیکشن کے باعث تھکے ہوئے تھے لیکن الطاف حسین کا غصہ ٹھنڈا کرنے کیلئے دھرنا دیئے رکھا۔ وہ رات کو جو بولتے دن کو اس سے بدل جاتے، تقریر میں اگر کہہ دیا کہ ٹھوک دو تو پھر ساری رابطہ کمیٹی ”ٹھوک دو“ کی تشریح پر تل جاتی اور ساری ساری رات ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولتی اور الطاف حسین کو ایکسپوز ہونے سے روکتی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ الطاف حسین کتنی دفعہ قیادت چھوڑنے کا اعلان کر چکے، حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کر چکے، آرمی کو گالی بک کر معافی مانگ چکے، یار کوئی حد ہوتی ہے، ہمیں پاگل کتے نے نہیں کاٹا تھا کہ اپنے لوگوں کو اور 30 سالہ جدوجہد کو چھوڑ کر شہر سے جاتے،یہ بہت مشکل فیصلہ تھا ہمارے لئے کہ ہم نے الطاف حسین صاحب کیلئے دشمنیاں مول لیں اور دشمن بنائے، ان کی ذات کیلئے، صرف ان کی ذات کیلئے یہ تک نہیں دیکھا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، لیکن الطاف حسین کو کسی ایک کارکن کی فکر نہیں، میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ کسی ایک مہاجر کی فکر نہیں ہے، کسی ایک انسان کی فکر نہیں ہے، کسی ایک کارکن کی فکر نہیں ہے، جب کسی کارکن کی لاش پر سیاست کرنی ہو تو اس کی لاش جناح گراﺅنڈ میں رکھ کر مرسیہ پڑھ لیا جاتا ہے اور اس سے پہلے اور بعد جتنے مرضی مر جائیں اگر پوائنٹ سکور نہیں کرنا تو جلدی جلدی دفنانے کی بات کر دی جاتی ہے۔

مصطفی کمال نے آبدیدہ آنکھوں اور لرزتی آواز کے ساتھ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جب سے اس پارٹی میں ہوش سنبھالا ہے آج تک لوگ مرتے چلے جا رہے ہیں، دو نسلیں تباہ ہو گئیں، 1992ءمیں 10 سال کا بچہ اپنے باپ کو دفناتا تھا اور آج وہی بچہ 35 سال کا ہو گیا اور آج اس کا 5 یا 7 سال کا بچہ اسے دفنا رہا ہے اور اس طرح کی کتنی ہی مثالیں ہیں لیکن بھلا کس لئے؟ کیا حاصل کرنے کیلئے، کون سے حقوق، کیا حاصل کر لیا، کیا ایجنڈا ہے، ہمیں بھی بتائیں ہم بھی جان دینے کو تیار ہیں، ہم محب وطن لوگ تھے، یہ کمیونٹی محب وطن کمیونٹی تھی لیکن آج ”را“ کی ایجنٹ ہو گئی، تہذیب یافتہ کمیونٹی تھی، بدتہذیب ہو گئی، تعلیم ہمارا زیور تھا لیکن 30 سالوں میں ہم جاہل ہو گئے۔ شہر میں تہذیب تمدن ہم سے سیکھتے تھے آج اچھے خاصے نوجوانوں کی گرفتاریاں دیکھیں، شہادتیں دیکھیں، ظلم و زیادتی دیکھیں۔ مان لیا کہ تحریکوں میں قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن مقصد تو بتائیں، فطرانہ یا زکوة کے پیسے جمع کر کے الطاف حسین کیلئے لندن اور کینیڈا میں پراپرٹی بنانا مقصد ہے؟ کھالوں کے پیسے جمع کر کے الطاف اور ان کے خاندان والوں کی پراپرٹی بنانا اور الطاف حسین کی شراب کیلئے پیسے جمع کرنا مقصد ہے؟ یہ وہ ساری باتیں تھیں کہ جن کو ٹھیک کرنے کیلئے ہم نے پانچ سال کوشش کی اور کبھی الطاف حسین کے سامنے ہاتھ جوڑے، پاﺅں پکڑیں لیکن ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اب معاملہ لاعلاج ہے اور اصلاح کی گنجائش ختم ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ میں کسی انسان سے ڈر کر دبئی نہیں گیا تھا بلکہ اللہ کا خوف آ گیا اور لگنے لگا کہ میں جو کام کر رہا ہوں ، یا جو کچھ میں جانتا ہوں بلکہ رابطہ کمیٹی کے تمام لوگوں پر جو کچھ آشکار ہو چکا ہے اگر میں اسے روک نہیں سکتا یا اس برائی کو ختم نہیں کر سکتا تو کم از کم جو ایمان کا نچلا ترین درجہ ہے اس پر ہی عمل کر لوں اور خود کو اس سب سے الگ کر لوں۔ لیکن ایسا کرنے میں بھی بہت مشکل پیش آئی کیونکہ ضمیر ملامت کرتا تھا تو شیطان کا بہکاوا بھی آتا تھا، میں سابق ناظم تھا، سینیٹر شپ میرے پاس تھی، میرے آگے پیچھے بھی تین پولیس موبائلز چلتی تھیں لیکن میں یہ جانتا تھا کہ پارٹی سسٹم کیا ہے، جانتا تھا کہ جان کو خطرہ ہو سکتا ہے، جانتا تھا کہ میرے چاہنے والوں اور میرے خاندان والوں کوخطرہ ہو سکتا ہے، میں اپنے گھر میں نہیں رہ سکتا، مجھے پتہ تھا کہ میں اس ملک میں نہیں رہ سکتا تھا، الطاف حسین کے بھارتی سیٹ اپ اور جنوبی افریقہ کے سیٹ اپ کے لڑکے کام کر رہے ہیں، میں جانتا تھا کہ مجھے مار دیا جائے گا، اگر پارٹی چھوڑ دی تو جو پہلے والوں کا حشر ہوا وہی ہمارا بھی ہو گا، یہ وہ بحث تھی جو شیطان کے ساتھ ایک عرصے تک جاری رہی لیکن پھر اللہ تعالی نے احسان کیا اور ہمارے دل و دماغ میں بات ڈالی کہ ہم زندگی الطاف حسین سے مانگ رہے ہیں اور جان دینے کا ٹھیکہ بھی الطاف حسین کو دے رکھا ہے، عزت بھی ان سے اور ذلت بھی ان سے مانگ رہے ہیں، رزق بھی انہیں سے طلب کر رہے ہیں۔ میرے بھائیو اللہ تعالیٰ نے یہ بات دل میں ڈالی کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے بس وہ دن تھا جس دن خوف دل سے نکل گیا اور سوچا کہ اگر اللہ چاہے تو انسان کی زندگی ایک ڈینگی مچھر کی مار ہے، اس دن فیصلہ کر لیا کہ بس بہت ہو گیا، میں یہ چیلنج کرتا ہوں کہ جب میں نظامت سے ہٹا تو میرے پاس ایک روپے کی پراپرٹی نہیں تھی اور میرے گھر والے کرائے کا مکان ڈھونڈ رہے تھے اور یہ میرے لئے فخر کی بات ہے اور اللہ کا کرم رہا کہ اللہ نے غلطی سے بھی غلطی نہیں کروائی اور پیسے کی چمک دمک نہیں ڈالی اور اپنے بچوں کو ایک بھی روپیہ حرام کا نہیں کھلایا اور یہی وجہ ہے کہ ایک ہی دن میں فیصلہ کر کے چل دیئے۔
اب سے 24 گھنٹے پہلے تک انیس بھائی اور میں اپنی فیملی کے ساتھ پرآسائش زندگی گزار رہے تھے اور ہمارے نزدیک آسائش یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اپنے سامنے اچھے سے سکول میں جاتا دیکھیں، شام کو واپس آئیں تو رات کا کھانا سکون سے اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں، واپس آئیں تو حق حلال کے پیسے لائیں، بچوں کی خواہشات پوری کریں لیکن یہ سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود ہم اپنا دل و دماغ اور اپنی روح پاکستان سے، کراچی سے اور پاکستان کے رہنے والے ایک ایک انسان سے اور خاص طور پر اردو بولنے والوں جو سندھ کے شہری علاقوں میں آباد ہیں، ان کی روزانہ کی تکالیف سے الگ نہیں رکھ سکے اور بھلے ہی ہم اپنی زندگی گزار رہے تھے لیکن پتہ تو سب کچھ چلتا ہے اور سب نظر آتا ہے اور اب دوبارہ امتحان کاوقت آ گیا ہے۔
کہ ایک طرف سوچتے تھے کہ واپس کیوں آئے وہ اس لئے کہ آج پاکستان کے بچے بچے کو ایک ایک انسان کو ایک ایک پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کو موجودہ اسٹیبلشمنٹ اور سابقہ اور تمام موجودہ اور سابقہ گورنمنٹ کو یہ پتہ ہے کہ الطاف حسین کے ”را“ سے تعلقات ہیں، ملکی و غیر ملکی نشریاتی اداروں سمیت سب جانتے ہیں اور یہ سب کچھ اس وقت آشکار ہوا جب ڈاکٹر عمران فاروق کی شہادت کے بعد 2010ءمیں سکاٹ لینڈ یارڈ والوں نے الطاف حسین کے گھر پر تفتیش شروع کی اور سارا سامان جمع کرنا شروع کیا تو وہ ان کے گھر سے ٹرک بھر کر دستاویزات اور سامان لے کر گئے، چھ سات مہینے تک وہ دستاویزات کو کھنگالتے رہے اور پھر ایم کیو ایم کے ایک ایک آدمی کو انٹرویوز کیلئے بلانا شروع کیا اور الطاف حسین کو بھی بلایا۔ الطاف حسین کا انٹرویو مسلسل تین دنوں تک ہوا جس دوران ان سے پوچھا گیا کہ آپ بھارت سے فنڈنگ لیتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں،محمد انور اور طارق میر سے بھی پوچھا گیا تو انہوں نے بھی انکار میں جواب دیا۔ طارق میر اور محمد انور کے بقول وہ محض 10 سے 15 منٹ تک انکار کر سکے اور پھر اس کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ والوں نے ایک ایک بعد ایک دستاویزات سامنے رکھنا شروع کر دیں جو ڈاکٹر عمران فاروق اور الطاف حسین کے گھر سے برآمد ہوئی تھیں اور پھر جو سکاٹ لینڈ یارڈ نے پوچھا بھی نہیں تھا وہ بھی بتا دیا، صفحے کالے کرا دیئے اور اتنی ریکارڈنگز کرائیں کہ ان کی کیسٹیں ختم کرا دیں۔ ہمیں بھی یقین نہیں آیا تھا کیونکہ ہم پارٹی کے وفادار تھے اور الطاف حسین کو نجات دہندہ سمجھتے تھے، غریبوں کا نمائندہ سمجھتے تھے۔ رابطہ کمیٹی نے محمد انور اور طارق میر سے پوچھا کہ کیوں بتایا سب کچھ تو انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ اس کے بعد پارٹی کی رابطہ کمیٹی کے فورم پر باقاعدہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک کو دبئی بلایا گیا اور ہمیں کہا گیا کہ دبئی پہنچیں، انور اور طارق میر اور وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب کو باقاعدہ بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ وہ سکاٹ لینڈ یارڈ کو کیا کچھ بتا چکے ہیں اور ان کے پاس کیا کچھ موجود ہے ۔
مصطفی کمال نے پاکستان واپس آنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود آج بھی الطاف حسین صاحب اپنی قوم سے اپنے کارکنان سے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے محب وطن لیڈر ہیں اور 98 فیصد لوگوں کے نجات دہندہ ہیں اور چونکہ انہوں نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کی ہے اس لئے ان کے ساتھ ظلم و جبر کیا جا رہا ہے اور سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے ، ہم بھی جب کارکن تھے تو سب کچھ سچ مانتے تھے، تنظیمی کمیٹی، کارکنان، سیکٹر انچارجز اور دیگر کو ان سب باتوں کا کوئی علم نہیں ہوتا اور وہ یہی سوچتے ہیں کہ ہمارے قائد کے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے ۔ الطاف حسین کو 2 نسلیں کھا جانے کے باوجود بھی اپنے کارکنان پر ترس نہیں آیا،جو سچ انہوں نے رحمان ملک اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے کہا ہے اور ہمیں بریف کروائی ہیں وہ اپنے کارکنوں کے سامنے بھی بتا دیں، ہمت ہیں تو بول دیں کہ میں نے بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جو کچھ کیا ہے وہ آپ کی بھلائی کیلئے ہے۔ اس کے بعد کمیونٹی کے جس بندے کو آپ کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا وہ کھڑا ہو جائے گا اور جو نہیں وہ الگ ہو جائے گا تو پھر کسی کے شہید ہونے کا دکھ نہیں ہو گا کیونکہ جو بھی مرے گا اسے پتہ ہو گا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ رحمان ملک نے دبئی کی ملاقات میں ہونے والی باتیں اپنی لیڈرشپ کو بتائی ہوں لیکن میں تو دن، تاریخ اور سب کچھ جانتا ہوں اور اگر کوئی اسے غلط بیانی قرار دے گا تو میں ثابت کروں گا۔ میں یہ سوال کرتا ہوں کہ جب اس وقت کے وزیر داخلہ کو پتا تھا کہ تو کیا اسٹیبلشمنٹ کو نہیں پتا؟ ہماری واپسی کا مقصد یہ ہے کہ الطاف حسین اپنے پارٹی کے لوگوں سے سچ بولیں اور انہیں مت مروائیں، ان کی پالیسی رینجرز اور اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ سے زیادہ گالیاں دینا ہے تاکہ وہ چڑھ دوڑیں کیونکہ الطاف حسین کو لاشیں چاہئیں، وہ زیادہ سے زیادہ لاشیں چاہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس گھر کی لاشیں گریں گی وہ گھر ان کے ساتھ کھڑا ہوگا، جس گھر کے بچے پکڑے جائیں گے اس گھر کے افراد الطاف حسین کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
مصطفی کمال نے کہا کہ ہمارے لئے امتحان تھا کہ ہم اپنی زندگیوں میں مگن رہیں اور بچوں کی پرورش کریں لیکن یقین جانیں کہ اسی خوف خدا کی وجہ سے کہ اللہ تعالی مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سمیت ان سب لوگوں سے سوال کرے گا جنہیں اس نے عنایت کیا، پوچھے گا کہ جب سب کچھ ہو رہا تھا تو تم بولے کیوں نہیں، اس لئے کہ تمہاری زندگی چلی جائے گی؟ تمہارے بیوی بچے چھوٹ جائیں گے؟ یقین کریں کہ صرف خدا کے ڈر سے واپس آئے ہیں کیونکہ سب نے مرنا ہے ، ہماری کامیابی یا ناکامی اس بات پر نہیں کہ کتنے لوگ ہماری بات مانتے ہیں، ہماری کامیابی آج یہاں پر یہ ہے کہ مجھے اپنے رب کو راضی کرنے کا موقع ملا ہے اور میں کسی مرتبے یا پاور کیلئے نہیں بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے یہ کام کر رہا ہوں ۔ میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، گورنمنٹ، صاحب اختیار لوگوں اور عوام سے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا صولت مرزا اپنی ماں کے پیٹ سے قاتل پیدا ہوا تھا؟ کیا صولت مرزا کا شاہد حامد سے ذاتی جھگڑا تھا؟ وہ اپنا قرض لینے گیا تھا؟ صولت کو اس کا قتل کرنے کا ٹاسک کس نے دیا اور اسے قاتل کس نے بنایا؟ میں تو ابھی ان لوگوں کا نام لے رہا ہوں جنہیں لوگ دہشت گرد کرتے ہیں، اجمل پہاڑی کا نام لیتا ہوں، کیا وہ اپنی ماں کے پیٹ سے قاتل پیدا ہوا تھا؟ عمران فاروق کے قاتلوں کو ٹی وی پر دیکھتے ہیں، ان کی شکلیں اور عمریں دیکھیں، کبھی کسی نے سوچا اور کبھی الطاف حسین نے سوچا کہ ان قاتلوں کی بھی ماں ہو گی ، بہنوں کے رشتے ہونے ہوں گے، پڑوسی اور محلے دار ہوں گے، اسی معاشرے میں کہیں رہ رہے ہوں گے، انہیں لوگ جانتے ہوں گے،کیا ان کی ماﺅں نے عمران فاروق کے قاتلوں کو پیدا کیا تھا ؟ مصطفی کمال ایک بار پھر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ ”کہاں لے گیا یار یہ آدمی ہمیں“ ۔
مصطفی کمال نے اس موقع پر اپنی نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا اور پاکستانی پرچم کو ہی پارٹی پرچم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ٹکڑوں میں بٹے پاکستان کو جوڑنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے میں پاکستان کے پرچم کے رنگ نکال کر اس جھنڈے کو مدھم نہیں کرنا چاہتا اس جھنڈے کو ماننے والا ایک ایک انسان چاہے وہ کسی مذہب یا مسلک یا پارٹی کا فرد ہو اس کو ماننا ہمارا فرض ہوگا۔ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میںبھی ہم بٹے ہوئے ہیں اور مملکت کے سربراہ کہیں بھی بیرون ملک جاتے ہیں تو پاکستانیوں سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے لوگوں سے مل کر آجاتے ہیں ہم یہاں بیٹھ کر انڈیا سے مذاکرات کرنے کیلئے پوری دنیا میں لابنگ کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے ، ایک پارٹی دوسری پارٹی سے ایک مسلک دوسرے مسلک سے بات نہیں کرتا ہم توڑنے نہیں جوڑنے آئے ہیں۔
مصطفی کمال نے اپنی پارٹی کا منشور بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم صدارتی نظام حکومت چاہتے ہیں اور صدر اپنی ٹیم بنا کر کام کرے جبکہ ارکان اسمبلی صرف قانون سازی کریں جس سے 80 فیصد کرپشن ختم ہوجائے گی۔اس کے علاوہ ہم چاہتے ہیں کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے شفاف انتخابات ہوں ہم فنڈز کو یونین کونسل تک بانٹنا چاہتے ہیں جب تک بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوگا تب تک ملک ترقی نہیں کرے گااٹھارہویں ترمیم کے بعد طاقت ایک مرکز کی بجائے صوبوں میں تقسیم تو ہوئی ہے مگر گراس روٹ لیول تک نہیں گئی جب تک بلدیاتی نظام نہیں ہوگا صوبے بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا مقامی حکومتوں کے نام پر آج عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے میں یونین کونسلوں کو طاقت اور فنڈز دینے کی بات کرتا ہوں جن لوگوں میں جانے کیلئے ہم گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہوکر ویزے حاصل کرتے ہیں وہاں دو ، دو سو سال پرانا بلدیاتی نظام قائم ہے۔بلدیاتی نظام کے علاوہ ہم” نیشنل اربن پالیسی“ چاہتے ہیں آج دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی شہروں میں ہجرت کرگئی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں سہولیات ہونے کے باوجود دنیا میں نئے شہر بس رہے ہیں تاکہ پہلے سے موجود شہروں کی آبادی پر قابو پایا جاسکے۔ اپنے منشور کا آخری نکتہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم و صحت کی سہولیات یونین کونسل کی سطح پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں