دی ایجوکیٹرز ملک وال کیمپس ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے 6تعلیمی سال مکمل کر چکا ہے

Education exam students
ملک وال(نامہ نگار) دی ایجوکیٹرز ملک وال کیمپس ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے 6تعلیمی سال مکمل کر چکا ہے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں رہیں گے والدین کا مثالی اعتماد ہمارا سرمایہ کل ہے بلال یوسف وڑائچ ڈائریکٹر دی ایجوکیٹرز ملک وال کیمپس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ملک وال کے تعلیمی میدان میں دی ایجوکیٹرز کا نمایاں کردار ہے ہم نے اپنے معیار اور بچوں کے مستقبل پر کبھی نہ سمجھوتا کر کے ثابت کیا ہے کہ ایجوکیٹرز بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہر سال کچھ نہ کچھ نیا کرنے کی کوشش کی طرف راغب ہے انہوں نے کہا ملک وال میں سینکڑوں پرائیویٹ سکولز موجود ہیں ہر کوئی اپنے وسائل کے مطابق کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے مگر دی ایجوکیٹرز کا ماضی گواہ ہے سخت اور بد ترین لوڈشیڈنگ میں بھی سار ا دن جنریٹر سخت سردیوں میں کلاس رومز ہیٹنگ ارینجمنٹ کے ساتھ ساتھ بچوں کی فزیکل فٹنس کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر نصابی سرگرمیوں میں دی ایجوکیٹرز نمایاں حیثیت رکھتا ہے انہوں نے کہا کبھی بھی بچوں سے جنریٹر کے نام پر یا سکول سیکورٹی کے نام پر کبھی فالتو فیس وصول نہیں کی ملک میں درپیش سیکورٹی مسائل کے پیش نظر ادارہ نے جدید ترین اسلحہ سے لیس اور تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز کی تعیناتی بچوں کے لیے دوران سکول گرنے یا کھیل کود میں چوٹ لگنے کیوجہ سے مکمل میڈیکل کی سہولت ادارہ برداشت کرتا ہے اور یہی نہیں اگر کسی میڈیکل پرابلم کی وجہ سے کوئی بچہ لمبے عرصہ کے لیے سکول سے غیر حاضر رہتا ہے تو سکول انتظامیہ بغیر والدین کے مطالبے طالبعلم کی ماہانہ فیس بھی نہیں لیتا دی ایجوکیٹرز ملک وال میں اپنے 6سال نمایاں کامیابیوں کے ساتھ طے کر چکا ہے اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے دی ایجوکیٹرز کڈز کیمپس 2سال پہلے شروع کیا گیا جس کی مثالی کاکردگی اہلیان ملک وال کے سامنے ہے اس کے بعد پنجم کلاس سے دہم کلاس تک گورنمنٹ کی پالیسیوں اور اپنے معاشرتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبات کے لیے الگ کیمپس کا انعقا د کیا گیا اور اب دی ایجوکیٹرز چکسیدا اور میانی کے ڈیرہ جات سے آنے والے بچے جو سکول اوقات میں دو دو ریلوے پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتے تھے اور پورے شہر کا رش کراس کر آتے تھے ان کی سہولت کے لیے بھیرہ روڈ پر الگ سے کیمپس کا انعقاد کر دیا گیا ہے جس کے لیے باقاعدہ داخلوں کا آغاز ہو چکا ہے بلال یوسف وڑائچ کا کہنا تھا اہلیان ملک وال کے ساتھ ساتھ دیہاتوں اور بالخصوص میانی کے اطراف کے لوگوں کے ساتھ ساتھ شہر کی عوام نے جو دی ایجوکیٹرز پر اعتماد کیا ہے اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے اور اعلیٰ معیاری تعلیمی ضروریات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں