ملکوال میں کسان کنونشن منعقد، مطالبات نہ ماننے پر احتجاج کرنے کا اعلان

Kisan raily
ملک وال(نامہ نگار)زرعی ٹیکس نہیں مانتے حکومت کی زراعت پالیسیاں کسان دشمن ہیں ، اگر 15مارچ تک مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پنجاب بھر میں کسان تمام اضلاع میں ڈی سی او دفاتر کے سامنے احتجاجی دھرنے دیں گے، کسان کنونشن میں مقررین کا خطاب ۔ تفصیلات کیمطابق کسان بورڈ کے تحت گزشتہ روز بادشاہ پور میں کسان کنونشن منعقد ہوا جس میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا کہ حکمران سرمایہ دار اور صنعتکار ہیں جنہوں نے اپنے ہر دور حکومت میں کسانوں کا استحصال کیا انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کا کوئی کاشتکار وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان نہیں ہو گا اس وقت تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جمشید دستی نے کہا کہحکومت کی ناقص زراعت پالیسی کی وجہ سے آج ملک بھر کا کسان پریشان اور معاشی طور پر بدحال ہو چکا ہے پہلے زرعی اجناس کی کم قیمتوں نے کاشتکاروں کی کمر توڑی اب زرعی ٹیکس لگا کر رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کسان بورڈ کے مرکزی صدر اسماعیل خاکوانی نے کہا کہ حکومت نے زرعی ٹیکس لگا کر کسانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے زرعی ٹیکس اور اجناس کی کم قیمتوں پر کسان خاموش نہیں بیٹھے گا ۔ اسحاق خاکوانی نے کہا کہ اگر حکومت نے 15مارچ تک زرعی ٹیکس واپس نہ لیا اور زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا تو پھر ہر ضلع میں ڈی سی او دفاتر کے سامنے کسان روزانہ احتجاجی دھرنا دیں گے یہ احتجاجی دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ کنونشن سے میاں غلام سرور چدھڑ ، نصر گوندل اور مقررین نے بھی خطاب کیا ۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں