کسان دشمن پالیسیوں کے باعث کاشتکار سنگین مشکلات کا شکار ہیں ۔ساجد احمد خان بھٹی

kisan

ریڑکابالا (نامہ نگار)کسان دشمن پالیسیوں کے باعث کاشتکار سنگین مشکلات کا شکارہیں لیکن افسو س حکمران خاموش ہیں جبکہ کھاد کمپنیاں کسانوں کی کھال نوچ رہی ہیں حکومت ٹیکس واپس لے ان خیالات کا اظہارمسلم لیگی رہنماحلقہ پی پی 118 ساجد احمد خان بھٹی نے اپنے ایک بیان میں کیا ان کامزیدکہناتھاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے کھاد بنانے والی کمپنیوں کے ہاتھوں کسانوں کے استحصال پر خاموشی اختیار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت کی اس رویے کو کڑی تنقیدکانشانہ بنایا ہے پاکستان میں کھاد بنانے والی کمپنیاں کاشتکارکی کھال نوچنے میں مصروف ہیں او ر حکومت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کا کاشتکار عالمی سطح پر کھاد کی قیمت سے اڑھائی سو روپے زیادہ اداکرنے پر مجبورہے جس کا سادہ سامطلب یہ ہے کہ بے چارے کسان محض ایک برس میں تیس ارب روپے اضافی ادا کرینگے بیج ،ادویات اور دیگر زرعی لوازمات مہنگے داموں خرید کر استعمال کرنے والا کاشتکار بے چارہ اپنی فصلیں کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اپنی محنت کے حقیقی صلے سے محروم رکھا جاتاہے وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی ،ڈیزل اور گیس پر نئے ٹیکسوں کے نفاذکو انتہائی ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی ،گیس اور ڈیزل پر لگائے گئے ان بلاجواز ٹیکسوں نے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی ظالمانہ روش تر ک کرے اور کارشتکاروں کو کھاد بنانے والی کمپینوں کے ظلم سے آزادی دلانے کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے انہوں نے بجلی ،گیس اور ڈیزل پر لگائے جانے والے بلاجواز ٹیکسوں کی فوری واپسی کا بھی مطالبہ کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں