جعلی مقابلے اورجھرلوترقیاں

جعلی مقابلے اورجھرلوترقیاں

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے مگرمعاشرے کا بااثراور طاقتورطبقہ آج بھی قانون اورآئین کوموم کی ناک سمجھتا ہے۔اربوں روپے کے فنڈز ارباب اقتدارواختیار کی صوابدید پرہوتے ہیں اوران کاکوئی آڈٹ نہیں ہوتا۔اگرپاکستان میں اسلامی ریاست والے اصول نہیں اپنائے جاسکتے توپھراس کے نام کے ساتھ اسلامی کیوں لکھاجاتا ہے۔پاکستان میں آئین اوراداروں کی بجائے افراداوراقتدار کی مضبوطی کیلئے کام کیا جاتا ہے ۔ ارباب اقتدارواختیار پسندناپسند کومیرٹ کا نام دے کراپنے وفاداروں اورحواریوں پرنوازشات کی بارش کرتے ہیں ۔پاکستان کے سرکاری ،نجی اداروں اورسیاسی پارٹیوں میں کام کرنیوالے تیز رفتارترقی اورشارٹ کٹ کے خواہاں مخصوص افراد انتہائی اوچھے ہتھکنڈے آزماتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتے،بدقسمتی سے خواتین کابھی” سہارا” لیا جاتا ہے ۔ میرٹ پرترقی سے محروم افراداپنے حق کیلئے عدالت سے رجوع کرتے ہیں جہاں انصاف قیمت یاقسمت سے ملتا ہے۔دوسرے اداروں کی طرح پولیس میں بھی معمولی کرپشن کرنیوالے اہلکار بڑی سزاکے مستحق قرارپاتے ہیں جبکہ ادارے کو کروڑوں کاچونالگانیوالے آفیسرز کوکچھ نہیں کہاجاتا۔ہمارے ہاں” پیداواری” حوالے سے اچھی سیٹ ارباب اقتدارواختیار کی ”خوشامداورخدمت”کے بغیر نہیں ملتی ۔خالی دماغ والے خوشامدپسندہوتے ہیں ،اسلام کی روسے کسی کے روبرواس کی تعریف و تحسین کرنا اسے ہلاک کرنے کے مترادف ہے توپھریقیناخوشامد کرناتواس سے بھی بدترہوگا ۔ پاکستان میں احتساب صرف چھوٹی مچھلیوں کاہوتا ہے بڑے مگر مچھ قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ آئی جی پنجاب پولیس کی وردی کوانگریز دورکی نشانی قرار د یتے ہوئے اس کی تبدیلی کے درپے ہیں، توکیا پاکستان میں پولیس کی وردی انگریز دورکی واحد نشانی ہے۔گوروں کی سرکار کے دور میں بنائے جانیوالے کئی کالے قوانین ابھی تک رائج ہیں۔ ہمارے قانون کی متعدد متنازعہ دفعات سمیت پاکستان بھر میں انگریزدورکی ہزاروں نشانیاں اوربھی ہیں۔عدالت عالیہ لاہور کی عمارت،پنجاب یونیورسٹی کی عمارت ،جی سی یونیورسٹی کی عمارت لاہورریلوے اسٹیشن اورکس کس کانام لکھوں ،کیا ان عمارتوں میں تبدیلی کی جاسکتی ہے ۔پولیس کی وردی اس ادارے کی شناخت اورشرپسندوں کیلئے خوف کی علامت ہے۔ جس طرح پاکستان کاقومی پرچم مادروطن کی شناخت ہے جوقیامت تک تبدیل نہیں کیا جاسکتا ، آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا وردی نہیں تھانہ کلچر تبدیل کریں اوراپنے دفتر میں براجمان متعصب ڈی پی آرکوبھی ضرور تبدیل کریں۔کیا نبیلہ غضنفر نے ڈی پی آر کی رجسٹری کرالی ہے یاڈی جی پی آرمیں اہل،وایمانداراورفرض شناس آفیسرز کاقحط پڑگیا ہے۔مختلف اداروں میں نااہل لوگ مسلسل کئی برسوں سے ایک سیٹ پرکیوں تعینات ہیں ۔مجھے ڈر ہے آئی جی پنجاب وردی تبدیل کرتے کرتے خودتبدیل نہ ہوجائیں کیونکہ ان کی تبدیلی کی افواہیں زوروں پرہیں۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے پچھلے دنوں آئی جی پی کیلئے کچھ آفیسرز کے انٹرویوکئے تھے اوروزیراعلیٰ کیمپ آفس میں اعلیٰ پولیس آفیسرز کی جس طرح ”عزت افزائی”ہوتی ہے اگرمیں پولیس میں ہوتاتومستعفی ہوجاتا۔

police attack chapa police search operation
عدالت عظمیٰ نے پنجاب پولیس میں خلاف ضابطہ ترقی پانیوالے آفیسرز کوایک ماہ کی مہلت دی ہے اس کے بعدان کی جھرلو ترقیاں ختم کردی جائیں گی۔عدالت عظمیٰ کافیصلہ کسی کی پیشہ ورانہ خدمات یاصلاحیت سے انکار نہیں بلکہ ترقی کے طریقہ کارپرعدم اعتماد ہے۔متنازعہ پولیس مقابلوں میں ترقیاں صرف مخصوص آفیسرزکوملیں جبکہ ان مقابلوں میں شریک جانبازسپاہیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا ۔اگر”مقابلے”کوترقی کامعیار بنادیاگیا تواس سے ملک میں جعلی مقابلوں کاراستہ ہموارہوگا۔عدالت عظمیٰ کافیصلہ مستحسن اورقانون کی حکمرانی کاغماز ہے،مہذب معاشروں میں کوئی فردیاادارہ میرٹ کی دھجیاں بکھیرے یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔امید ہے عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں آئندہ اہلیت اورقابلیت پرسمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے خلاف ضابطہ ترقی سے مستفیدہونیوالے گیارہ ایس پیز،چالیس ڈی ایس پیز اورپچاس انسپکٹرز کی متنازعہ ترقیاں ختم کرنے کاباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جبکہ سب انسپکٹرزاور انسپکٹرز کی سطح کے اہلکار توکافی دنوں سے پرانے رینک لگارہے ہیں لیکن ایس پیز اورڈی ایس پیزسے ابھی تک متنازعہ عہدوں پر کام لیا جارہا ہے ۔ان آفیسرز کاکہنا ہے کہ اگران کی ترقی واپس لی گئی تویہ ان کے ساتھ سخت زیادتی ہوگی مگرانہیں اپنے ان ساتھیوں کی اذیت اوراحساس محرومی کاقطعاًاندازہ نہیں جوان کے بیج میٹ ہوتے ہوئے بھی انہیں سلیوٹ کرتے ہیں ،انہیں تومسلسل کئی برسوں سے شدید کرب کاسامنا ہے ۔تفریق اورنفاق سے نفرت پیداہوتی ہے اورپھر لوگ کام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کیخلاف سازشیں کرتے ہیں جس سے ادارے کی مجموعی کارکردگی بری طرح متاثرہوتی ہے۔خلاف ضابطہ ترقی کے مستحق قرارپانیوالے گیارہ ایس پیز میں عمرورک ،محمدقاسم خان، محمدامتیاز، کرامت ملک،نعیم چودھری،اعجازشفیع ڈوگر ،عامرتیمور،کفایت اﷲ ،شاہدپرویز،امجدمحمودقریشی اورمسروراحمد شامل ہیں ۔ایک ماہ بعدان کے مستقبل کافیصلہ ہوجائے گا۔عدالتی فیصلے کوکسی کی توہین نہ سمجھاجائے۔امید ہے قانون کی پاسداری اور حفاظت کاحلف اٹھانے والے عدالتی فیصلے کااحترام کرتے ہوئے پولیس فورس میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے کیونکہ ہم میں سے کسی کی اناقانون سے مقدم نہیں ہوسکتی ۔

police security
پولیس فورس میں ایک گروپ ایساہے جن کو کمرہ امتحان میں سخت مقابلے کے بعد تقرریاں اور ترقیاں ملتی ہیں جبکہ دوسراگروہ ان کاہے جو کسی ویران سے میدان میں جعلی” مقابلے” کرکے پروموٹ ہوتے ہیں۔ماضی میں ہونیوالے بعض پولیس مقابلے ایسے بھی تھے جو”سپاری”لے کرکئے گئے اوراب بھی ایساہونابعید نہیں ہے۔اگرکالی وردی میں روشن ضمیر اوراجلے لوگ ہیں توکالی بھیڑوں کی بھی کمی نہیں ہے۔پولیس مقابلے کرنے اورملزمان کوجان سے مارنے میں شہرت رکھنے والے پولیس اہلکاروں کی” دہشت” دہشت گردوں سے زیادہ تھی،انہیں اپنی حفاظت کیلئے اپنے ساتھ بیسیوں نجی مسلح محافظ رکھناپڑتے تھے۔عام ایس ایچ اوکے مقابلے میں” مقابلے” والے ایس ایچ اوزکی ”فیس”کئی گنازیادہ ہوتی ہے ۔کئی واقعات میں ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے کسی آسامی کواٹھایا اوراسے مقابلے میں پارکرنے کاعندیہ دے کربھاری رشوت لی اوراسے چھوڑدیا۔ان بندے مارایس ایچ اوز کانام قبضہ گروپوں کے ساتھ بھی جوڑاجاتا رہاہے ۔ڈرادھمکاکرزرعی اراضی ،کوٹھیوں،پلازوں اورپلاٹوں پرقبضہ کرنایاقبضہ چھڑاناان کیلئے معمولی بات ہے ۔ماورائے عدالت ملزمان کا قتل کرنے پرمخصوص اورمنظورنظراہلکاروں کی ترقیاں ایک منفی روش ہے جوکسی مہذب معاشرے کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔محکمانہ ترقی کیلئے جوضابطہ اخلاق اورطریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس کی سوفیصدپاسداری کی جائے۔جوجعلی مقابلے کرتے ہیں وہ ترقی نہیں بلکہ سختی اورسزا کے مستحق ہیں۔جوسرفروش اورکفن پوش پولیس اہلکاراپنی قیمتی جان ہتھیلی پرلے کرواقعتا شرپسندعناصر کے ساتھ” مقابلہ” کرتے ہیں انہیں بھرپور انعام واکرام سے نوازتے ہوئے انہیں قومی ہیروزڈکلیئر کیا جائے مگراہلکاروں کی ترقی کیلئے مخصوص طریقہ کارسے انحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بورڈامتحانات میں پوزیشن ہولڈرز طلبہ وطالبات کومختلف انعامات اوراعزازات سے نوازاجاتا ہے اوراب تووہ حکومت کی طرف سے یورپی ملکوں کے معلوماتی دوروں پر بھی جاتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں ہوتا کہ مختلف شہروں میں دہم جماعت کے ٹاپ پوزیشن ہولڈر زکو کالجزمیں فرسٹ ائیر کی بجائے سیکنڈائیر میں ایڈمشن دے دیا جائے۔امتحان پاس کئے بغیرطلبہ وطالبات کوبڑی کلاس میں نہیں بٹھایاجاتا ۔جوزندہ ضمیر پولیس اہلکار جعلی مقابلے اوراپنے بڑوں کی خوشامد نہیں کرتے انہیں ترقی کیلئے طویل اورصبرآزما انتظارکرناپڑتاہے، آفیسرز کے دوہرے معیارسے اہل اہلکاروں کی دل شکنی ہوتی اوران کامورال ڈاؤن ہوتا ہے۔مختلف اداروں میں شارٹ کٹ سے ترقی پانے والے اس برائلرچکن کی طرح ہوتے ہیں جو تیس دنوں میں تیارہوجاتا ہے اوروہ اپناخودکاوزن تک نہیں اٹھاسکتا۔اداروں کی نیک نامی اورانتظامی کارکردگی کاراستہ مساوات، انصاف اوراوصاف سے ہوکرجاتا ہے۔سفارش کازہرکرپشن کے سرطان سے زیادہ مہلک ہے ۔قابلیت اوراہلیت کے بغیر ترقی پانے والے اداروں اوراپنے ماتحت اہلکاروں کیلئے بوجھ اورناسور بن جاتے ہیں،اس بوجھ کواتارنے میں ہی دانشمندی ہے ۔محنت ،صلاحیت اورقابلیت کے بغیر جوانعام اورمقام ملتا ہے وہ دیرپانہیں ہوتااورنہ اس کی کوئی اخلاقی حیثیت ہوتی ہے ۔پولیس کی رسوائی اورجگ ہنسائی میں بدعنوانی اوربدانتظامی سے زیادہ جعلی مقابلوں کادخل ہے ۔پاکستان میں میرٹ کے نام پرمیرٹ کوبلڈوزکرنے والے اقتدار کے ایوانوں اوراعلیٰ عہدوں پربراجمان ہیں۔جس طرح ماضی میں حکمرانوں کے پاس چودھری شفقات احمد تھے توعہدحاضرکے ارباب اقتدار بھی اداروں میں اپنے وفاداروں کواپنے ناجائز امور کی انجام دہی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔حکمرانوں کے وفاداروں کے نام چودھری شفقات احمدسے مختلف ہیں مگر کام میں کوئی فرق نہیں ہے ۔چودھری شفقات احمد بھی مخصوص خدمات کے بل پر چندبرسوں میں ڈی ایس پی سے ایس ایس پی ہوگئے تھے آج بھی ارباب اقتدار کسی سمجھدارآفیسرپرانہیں بلکہ صرف اپنے وفادارپر اعتمادکرتے اوراس پرمہربان ہوتے ہیں ۔تعلیم ،تدبر، اہلیت اورصلاحیت کی بنیاد پراداروں میں ترقی پانیوالے اپنی اوراپنے ادارے کی نیک نامی پرسمجھوتہ نہیں کرتے مگرجوسفارش سے آتے ہیں وہ زندگی میں کبھی سفارش اوردباؤ کو مستردنہیں کرسکتے ۔
Nasir Iqbal Khan mandi bahauddin newsتحریر: محمدناصراقبال خان
0307-7770100

اپنا تبصرہ بھیجیں