فیس بک کے صحافی……

فیس بک کے صحافی……

ہمارے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہو ہے۔ کسی بھی چیز کا غیر ضروری ، بے جا اور بے تحاشا استعمال کرنا ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جہاں آئے روز ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور ان ایجادات کی بدولت دیگر ممالک ترقی کی منازل طے کرنے کے جتن کرتے نظر آتے ہیں، وہیں ہم اپنا قیمتی وقت اسی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال میں صرف کر کے اسے اپنے لئے وبال جان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ ٹی وی ہو یا موبائل فون، یا پھر بات ہو انٹرنیٹ کی، ہم ہر اچھی چیز کا بیڑا غرق کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کے ساتھ بھی ہم نے یہی کیا۔ بے تکی تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار، اور اس پہ ’’ٹیگ‘‘ کی اذیت مفت میں۔ جعلی آئی ڈیز کا تو حساب نہیں۔ معروف مزاح نگار ’’کے۔ایم خالد‘‘ اسی حوالہ سے لکھتے ہیں کہ فیس بک کے تمام احباب کے۔ایم خالد کو دن کے چوبیس گھنٹے، ہفتوں کے ساتوں دن، پورا مہینہ اور سال کے بارہ ماہ جب چاہیں، بلا خوف و خطر TAGجیسی تکلیف میں مبتلا کر سکتے ہیں۔‘‘گویا وہ جانتے ہیں کہ ان کے ’’چاہنے والوں‘‘ کے TAGsکا طوفان روکے نہ رکے گا، لہذا سمجھوتہ کرنے میں ہی بھلائی ہے صاحب۔

social media tag
ہم جہاں دوسروں پر تنقید کے نشتر برساتے ہیں، وہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ صحافی حضرات کو پڑھے لکھے اور باشعور طبقے میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن جناب! سوشل میڈیا کے استعمال میں بعض ایسے صحافی حضرات بھی ہیں جو حدود و قیود کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا فلسفہ اور اپنی منشاء مسلط کرنے ، یا یوں کہیئے کہ تھونپنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اَن رجسٹرڈ صحافتی تنظیمیں، جو محض فیس بک کی حد تک ہی اپنا وجود رکھتی ہیں، اورفیس بک کے یہ صحافی نہ صرف غلط اور من گھڑت خبریں اور افواہیں پھیلا کر عوام میں سنسنی پھیلاتے ہیں بلکہ ایکچوئل صحافیوں کے خلاف بے بنیاد باتیں کر کے ان کو بدنام کرنے کا مکروہ کام بھی کر رہے ہیں۔ان میں سے بعض کا مقصد تو پگڑیاں اچھالنا ہوتا ہے جبکہ دیگر خوشامد کی سیڑھی سے چڑھ کر عام آدمی پر افسران بالا سے تعلقات کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ پگڑیاں اچھالنے والے بلیک میلر رشوت خور سرکاری ملازمین اور ناجائز و غیرقانونی دھندوں میں ملوث افسران سے جیبیں گرم کرتے ہیں تو خوشامدی اپنی چاپلوسی کے ذریعے یا تو اپنے دھندوں کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں یا ٹاؤٹ بن کر افسران کی شہہ پر غیرقانونی کام کے پیسے بٹورکراپنے لئے جہنم کا سامان کر رہے ہوتے ہیں۔ان کا کام صرف بیوروکریٹس اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ تصاویربنوانا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا ہوتا ہے۔ دراصل یہ صحافت کو عبادت نہیں، کاروبار سمجھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔

social election vote
ایسے لوگ صحافت کے معانوں سے یکسر ناواقف ہوتے ہیں۔ان کا مقصد نہ تو معاشرہ کی بہتری کے لئے کام کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی مظلوم کی آواز بننا، نہ جرائم کی نشاندہی کرنا اور نہ عام لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے لوگ صحافت کے نام پر بدنما داغ ہیں ۔
میں سوشل میڈیا کی افادیت سے انکاری نہیں اور نہ ہی ٹی وی و اخبارات پر چلنے یا چھپنے والی سٹوری و کالم کو فیس بک یا دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کرنے کے خلاف ہوں بلکہ میں ان جعلی صحافیوں کے خلاف ہوں جو صحافت اور صحافیوں کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ بات بجا کہ ہر جگہ، ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن اگر صحافی اپنی صفوں کو ایسے عناصر سے پاک نہیں کر سکتے تو وہ معاشرہ میں پنپتی برائیوں اور بڑھتے ہوئے جرائم کے مؤجب عناصر کی بیخ کنی کے لئے کیسے اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔صحافتی اداروں اور تنظیموں کو چاہیئے کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں اور کوئی واضح اور مربوط حکمت عملی وضع کریں، صرف ایکٹو اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو ان کے اداروں سے نمائیندگی کی تصدیق کے بعد انہیں اپنی تنظیم کا حصہ بنائیں۔ کالی بھیڑوں کو پہچانیں اور انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر کریں تا کہ صحافت کے تقدس کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔۔۔

Tajammal mahmood janjua mbdin newsتحریر: تجمل محمود جنجوعہ
tmjanjua.din@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں