شہر میں تکہ کارنرز ،ہوٹلوں میں شہریوں کو ناقص اور مضر صحت گوشت کھلایا جانے لگا،ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی

Malakwal map
تحصیل بھر سمیت ملک وال شہر میں تکہ کارنرز ،ہوٹلوں میں شہریوں کو ناقص اور مضر صحت گوشت کھلایا جانے لگا ، سڑک کنارے بنے تکہ ، چکن پکوڑا شاپس حفظان صحت کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ، ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بن گئی۔
ملک وال(نامہ نگار) تحصیل بھر سمیت شہر میں جگہ جگہ تکہ شاپس ہوٹلوں میں مضر صحت بیف ،مٹن اور چکن کھلایا جا رہا ہے جبکہ کئی تکہ و چکن پکوڑے شاپس سڑک کنارے ہیں جہاں دکاندار بڑے کڑاہوں میں تیل ڈال کر تکہ ، چکن پکوڑے وغیرہ تیار کرتے ہیں جبکہ سڑک کی مٹی ، دھول ان میں پڑتی رہتی ہے جس سے ابلتے تیل مٹی اور گند زدہ ہوتے ہیں ، اکثر دوکانداروں کے پاس پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طر ف سے کوئی اجازت نامہ نہ ہے حالانکہ ان کو فوڈ اتھارٹی سے لائسنس لے کر نمایاں جگہ آویزاں کر نے کی سختی سے ہدایت ہے اورجس جگہ خوراک تیار کی جارہی ہو وہاں فرش،دیواریں،چھتیں ،دروازوں ،کھڑکیوں برتنوں اور مشینوں کا ہرطر ح کی گندگی سے پاک ہونا ضروری ہے مزید براں نکاسی آب اور ناکارہ اجزا کی تلفی کے مناسب انتظامات ہونا بھی ضروری ہیں۔خوراک میں معیاری اجزاکی خریداری اور اس کا ریکارڈ بھی رکھنا ضروری ہے ،گوشت ،سبزی اور ڈئیری کی اشیا کے لئے الگ الگ فریزر ہونا چائیے ۔خوراک کی تیاری میں فلٹر شدہ پانی ہی استعمال کیا جانا ضروری ہے اور اس فلٹر شدہ پانی کا ٹیسٹ ہر چھ ماہ بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی کی لیبارٹری سے کروانے کے ساتھ ساتھ کاریگروں کا میڈیکل ٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہے ایسے افراد جو کسی قسم کی بیماری یا انفیکشن میں مبتلا ہوں مکمل علاج کے بعد دوبارہ ٹیسٹ کلیر ہونے پر ایسے افراد کو کاریگر اور ملازم رکھا جائے اور کاریگروں کے کپڑے بدلنے کے لئے الگ کمرہ ہونا چائیے مزید برآں کاریگر کو کام کے دوران یونیفارم ،دستانے ،اپرن اور ہیڈکور استعمال کر نا ضروری ہے اور کام کرتے وقت کاریگر حضرات کا م کے دوران جیولری ،کلائی گھڑی اور انگھوٹھیاں وغیر استعمال ہرگز نہ کریں خوراک کی تیاری میں درجہ حرارت اور وقت کا تعین اجزا کی نوعیت کے مطابق کیا جائے تاکہ اجزا کی غذائیت برقرار رہ سکے ،فرائنگ کی صورت میں تیل یا گھی بار بار استعمال نہ کیا جائے بلکہ مقررہ وقت کے بعد جب تیل یا گھی کا رنگ گہرا ہوجائے تو ضائع کردینا چائیے لیکن محکمہ فوڈ افسران کی ملی بھگت یا پنجاب فوڈ اتھارٹی قوانین سے نابلد ہیں یاچشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے تحصیل بھر سمیت پھالیہ شہر میں جگہ جگہ موت بانٹی جارہی ہے اور سادہ لوح لوگ ان کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں،تکہ بوٹی یا دیگر خوارک میں استعمال ہونے والا تیل حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہے جو کہ ہیپاٹائٹس سمیت جگر اور معدہ کی خطرناک بیماریوں کاباعث بن رہا ہے،حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کسی شے کو ایک تیل میں صرف 3مرتبہ ہی تلا جاسکتا ہے مگر یہاں کا باوا آدم ہی نرالہ ہے جو اس تیل سے سینکڑوں بار تلائی کاکام لیتاہے جو کہ ماہرین صحت کے مطابق انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جبکہ اکثر دکاندار فوڈ اتھارٹی کی طرف سے دیے گئے حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد نہیں کرتے ۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،کمشنر گوجرانوالہ ،ڈی سی او منڈی بہاؤالدین مظفر خاں سیال سے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں