پینسل چبانے سے سردرد سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے، طبی ماہر

pencil education gussa pain teeth mouth

لندن: ڈاکٹروں کے مطابق دردِ سر کی اہم وجوہ میں دباؤ، تھکاوٹ، جذباتی اتار چڑھاؤ وغیرہ شامل ہیں اور دونوں دانتوں کے درمیان پینسل چبانے سے اس کیفیت کو بہت حد تک دورکیا جاسکتا ہے۔

لندن کی ایک ممتاز خاتون ڈاکٹر کے مطابق دردِ سر کی اہم وجوہ میں چہرے ، گردن ، ناک اور کھوپڑی پر پڑنے والا دباؤ شامل ہے اور معلوم نہیں ہوتا کہ درد کس وجہ سے ہورہا ہے لیکن ہماری کنپٹیوں میں پنکھے جیسے پٹھوں میں اٹھنے والا درد ہی سر اور گردن میں درد کی وجہ بنتا ہے اور جبڑے کے جوڑ سے اٹھنے والی ٹیسیں بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہیں جن میں جبڑوں کو ہلانا اور دانت پیسنا بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق دانتوں کے درمیان پینسل چبانے سے آرام مل سکتا ہے کیونکہ اس عمل سے جبڑوں کو آرام ملتا ہے۔

ڈاکٹرکے مطابق دن میں ایک دو مرتبہ جبڑوں کےدرمیان پینسل چبانے سے جبڑوں کو راحت ملتی ہے اور سردرد کم ہوسکتا ہے کیونکہ جبڑے ہمارے چہرے کا اہم مگر پیچیدہ حصہ ہیں وہ پٹھوں اور ہڈیوں سے جڑے ہوتے ہیں اور ان پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اس لیے پینسل چبانے سے جبڑوں میں آواز کے ساتھ تکلیف کا خاتمہ بھی ممکن ہے، جبڑے کے جوڑ کانوں کے آگے پائے جاتے ہیں اور نچلا جبڑا کھوپڑی سے جڑا ہوتا ہے ان کے درمیان کرکری ہڈیاں ہوتی ہے جو جبڑوں کو حرکت دیتی ہیں ان ہی کے پاس ایک چھوٹی ڈسک کھسک جاتی ہے جس سے سردرد اور تناؤ پیدا ہوتا ہے اور پینسل چبانے سے وہ ڈسک اپنی جگہ واپس آجاتی ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق اگر جبڑے کے دباؤ اور تناؤ کا علاج نہ کیا جائے تو اس کی شدت بڑھنے سے جبڑا مستقل جام ہوسکتا ہے اور اس کے لیے پینسل کی ورزش مناسب علاج ہے۔ دیگر ماہرین کے مطابق ہمارے چہرے اور کھوپڑی پر 36 پٹھے (مسلز) ہوتے ہیں اور ان میں سے 20 جبڑے ، گردن اور سردردکی وجہ بن سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں