قمر خان کے خلاف محض ایف آئی آر کا اندراج کافی نہیں ،اثاثوں اور ٹیکس چوری کی, تفصیلات سامنے لائی جائیں

Qamar Khan Qamar Tea Malakwal news

منڈی بہاؤالدین(بیورورپورٹ) قمر خان کے خلاف محض ایف آئی آر کا اندراج کافی نہیں ،اثاثوں اور ٹیکس چوری کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔قمر خان نے دونمبری سے کس طرح پیسہ بنایااور ناقص و نان کسٹم پیڈ چائے کی فروخت سے کس طرح ملکوال کاحاکم بن گیا۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی نان کسٹم پیڈ چائے کی پتی قمر خان ملٹی نیشنل چائے کے برانڈز کی ریٹوں پر فروخت کرتارہا ہے۔مارکیٹ میں لپٹن ییلو لیبل ایک کلو 880روپے ،ٹپال دانے دارایک کلو 820روپے ،سپریم چائے ایک کلو 750روپے جبکہ قمر چائے کا ایک کلو کا پیکٹ 800روپے میں فروخت ہوتا ہے ۔قمر خان نے قمر چائے کے ساتھ ساتھ مختلف ناموں سے چائے کے دیگر برانڈز بھی بنا رکھے ہیں ،وہ مبینہ طور پردو نمبر صابن ،سرف سوڈا ،مرچیں اور دیگرناقص کچن آئٹم کی تیاری کا بھی دھندہ کرتا ہے۔قمر خان نے گزشتہ آدھی دہائی سے اپنی بلیک منی کے ذریعے ملکوال کی تجارت اور سیاست کو یرغمال بنا رکھا ہے کوئی صحافی اسکے ناجائز دھندوں کے خلاف قلم نہیں اٹھاتا ،کسی ملٹی نیشنل کمپنی نے اس کی چائے کے میٹریل کی جانچ نہیں کروائی ۔قمر خان اپنے کالے دھن پر پردہ ڈالنے اور میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بڑے بڑے ٹی وی چینلز کو پرائم ٹائم میں اشتہارات بھی دیتا رہا ہے۔پیسے کے بل بوتے پر اس نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ملکوال ٹاؤن کمیٹی کی 4کونسلرکی سیٹیں جیت لیں ،وہ خود،اسکے دوبھائی اور ایک کزن کونسلر منتخب ہوگئے ،کالے دھن کو پروٹیکشن دینے کیلئے قمر خان نے ٹاؤن کمیٹی ملکوال کا چیئرمین بننے کیلئے حکمران جماعت کو ٹکٹ کیلئے بھی اپلائی کیا ہوا ہے۔کسٹم انٹیلی جنس حکام نے چائے کی پتی کی سمگلنگ کے الزام میں قمر ٹی کمپنی کے مالک قمر خان اور اس کے ملازم کیخلاف مقدمہ تو درج کر لیا ہے لیکن ابھی بہت سارے پہلو پوشیدہ اور مزید تحقیق طلب ہیں، برآمد کی گئی چائے کی 437بوریوں کی مالیت ایف آئی آر میں 1کروڑ 60لاکھ روپے لکھی گئی ہے جن کی کسٹم ڈیوٹی ایک محتاط اندازے کے مطابق اصل مالیت سے دوگنا بنتی ہے۔ملٹی نیشنل چائے کی پتی لپٹن ییلو لیبل کا ایک کلو کا مارکیٹ ریٹ 880 روپے جبکہ قمر چائے کا ایک کلو کا پیکٹ 800روپے میں فروخت ہوتا ہے۔یوں قمر خان نے ناقص وغیر معیاری چائے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ریٹس پر فروخت کی۔قمر چائے ایک انتہائی ناقص اور غیر معیاری پتی ہے جس کو زیادہ تر ہوٹلوں اور چائے کے پھٹوں والے خریدتے ہیں۔اس کی تیاری میں مبینہ طور پر آرٹیفیشل رنگ ،خوشبو ،کالے چنے کا چھلکا ،نشہ آور آئٹم جیسے پوست کے ڈوڈے اور برادہ کی آمیزش کی جاتی ہے ۔قمر چائے کی پتی سے تیار کی جانے والی چائے اگر کچھ دنوں تک مسلسل استعمال کی جائے تو آدمی Addictہوجاتا ہے ۔اسکو چائے پینے کی تروٹک محسوس ہونے لگتی ہے اور وہ اسی ہوٹل یا جگہ کا رخ کرتا ہے جہاں سے اس نے وہ چائے پہلے پی ہوتی ہے۔ قمر ٹی کمپنی غیر ملکی چائے سمگلنگ کے ذریعے لاتی ہے جس کی کسٹم ڈیوٹی ادا نہیں کی گئی۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے کراچی سے کابل جانے والی چائے کے کنٹینرز قمر خان مبینہ ملی بھگت سے بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کئے اپنے گوداموں میں سٹو ر کرلیتا تھا ۔کمپنی مالک قمر خان کو دی گئی مہلت کہ وہ برآمد کی گئی کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے کاغذات چیک کروائیں مگر وہ دی گئی مہلت کے ایام میں کاغذات پیش نہیں کر سکا ۔ ٹیکس چوری اور سستی پتی مہنگے داموں بیچ کر قمر خان کروڑوں کا مالک بن چکا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں