تاجکستان: 13000 لوگوں کی داڑھیاں جبری صاف

tajakstaan

تاجکستان کے علاقے ختلان میں پولیس نے ’انسداد انتہا پسندی مہم‘ چلاتے ہوئے مبینہ طور پر13 ہزار آدمیوں کی داڑھیاں صاف کرنے کے ساتھ ساتھ حجاب فروخت کرنے والی 160 دکانیں بند کر دیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق،حالیہ سالوں میں تاجک ثقافت کے منافی روایات اپنانے والے لاکھوں لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ خیال رہے کہ تاجک ثقافت میں داڑھی رکھنا سنگین جرائم میں شامل ہے۔

بی بی سی نے سڑکوں پر حراست میں لیے جانے والے نو افراد سے گفتگو کی، جنھوں نے بتایا کہ انہیں یا تو پولیس اسٹیشن لے جایا گیا یا پھر نائی کی دکان پر۔

رپورٹ کے مطابق، خواتین بھی اس مہم کا شکار ہیں ۔ حکومت نے خواتین کو ہدایت دے رکھی ہے کہ روایتی تاجک رنگوں کے ملبوسات پہنیں اور برقعوں سے جڑا روایتی رنگ سیاہ موجودہ حالات میں ممنوع ہے۔

صدر ایمومعلی راخمون نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سوگ میں بھی خواتین سیاہ کے بجائے سفید رنگ پہنیں۔

1994 سے ملک پر حکمرانی کرنے والے صدر راخمون عربی و غیر ملکی ناموں پر پابندی سمیت سیکولر اقدار کی تشہیرپر مبنی جلد ہی ایک نیا قانون منظور کرنے والے ہیں۔

مشرق وسطی اور ایشیا کے کچھ حصوں میں پھیلتی انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے پیش نظر وسطی ایشیائی ریاستیں انتہا پسندی کے پھیلاؤ پر تشویش کا شکار ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق جون،2015 تک تقریباً 4000 سے 1500 وسطی ایشیائی افراد شام میں مختلف جنگجو گروہوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

ردعمل میں تاجکستان جیسے ملکوں نے اسلامی ثقافت کی حوصلہ شکنی پر مبنی اقدامات اور سرکاری مہمیں شروع کیں۔

الجزیرہ کے مطابق، گزشتہ سال ستمبر میں تاجکستان کی سپریم کورٹ نے مسلم اکثریتی ملک کی واحد رجسٹرر شدہ اسلامی سیاسی Islamic Renaissance Party پر پابندی لگا دی تھی۔

صدر راخمون تاجک عوام کو یہ بھی خبردار کر چکے تھے کہ وہ غیر ملکی اقدار اور ثقافت پر نہ چلیں۔

سیکولر اقدار برقرار رکھنے کی لڑائی میں مرد، عورتیں اور بچے سبھی متاثر ہوئے کیونکہ ریاست نے تمام تعلیمی اور سرکاری اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اسی طرح والدین کو اپنے بچوں کے عربی نام رکھنے کے بجائے روایتی اور مانوس تاجک ناموں کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

بی بی سی رپورٹ کے مطابق، تاجک پولیس نے حجاب فروخت کرنے والی 160 دکانوں کو بھی بند کر دیا۔

جوید اکرمو نے بتایا کہ وہ اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ گھر کے باہر بیٹھے تھے کہ پولیس نے انہیں پکڑا اور داڑھی صاف کرنے کیلئے پولیس اسٹیشن لے گئی۔

جوین نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے انہیں سلفی، شدت پسند اور عوام دشمن قرار دیا اور پھر ان کی آدھی داڑھی صاف کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں