قحط زدہ تھر میں مزید سات بچے ہلاک

5691268f49220

مٹھی: قحط زدہ صحرائے تھر میں ہفتہ کو مزید سات بچے موت کے منہ میں چلے گئے۔

رواں مہینے اب تک 34 بچے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 200 سے زائد بچوں کو ضلع کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

آج تعلقہ ڈیپلو کے ایک دور دراز گاؤں میں تین بچے ہسپتال پہنچنے سے قبل ہلاک ہوئے جبکہ ایک نے مٹھی کے سول ہسپتال میں دم توڑا۔ اس کے علاوہ نگرپارکر، مٹھی، اسلام کوٹ اور ڈیپلو میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

اس مسئلے پر جمعرات کو وزیر اعلی قائم علی شاہ کی قائم کردہ کیمٹی کے رکن اور سندھ کے وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ مٹھی کے ہسپتال میں داخل بچوں کی عیادت کیلئے وہاں موجود ہیں۔

ڈپٹی کمشنر آفس میں مقامی صحافیوں سے گفتگو میں شاہ نے دعوی کیا کہ صوبائی حکومت قحط زدہ صحرا کے مراکز صحت میں ’ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کیلئے پر عزم ہے‘۔

شاہ نے تسلیم کیا کہ علاقے میں قحط جیسی صورتحال موجود ہے لیکن میڈیا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے بچوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی پانچ رکنی کمیٹی ہسپتالوں اور مراکز صحت کو ’اولین ترجیح‘ دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر کی تفصیلی رپورٹ ملنےکے بعد قائم علی شاہ سے کہیں گے کہ تھر کو قحط زدہ علاقہ قرار دیتے ہوئے ریلیف پیکج کا اعلان کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں