برف کے تاج میں موتی

چین کے شہر ہربن میں آئس اینڈ سنو نامی 32ویں سالانہ فیسٹیول کا آغاز ہوگیا ہے۔

اس فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے لاکھوں افراد کی آمد کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

پہلی بار اس تقریب کا آغاز 1963 میں کیا گیا تھا، چند سالوں کے وقفے کے بعد اسے 1985 میں منعقد کیا گیا جس کے بعد سے یہ آج تک جاری ہے.

فیسٹیول میں دنیا بھر سے آرٹسٹ جمع ہوکر برف کے شاندار مجسمے تیار کرتے ہیں جو دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔

ساڑھے سات لاکھ اسکوائر میٹر رقبے پر پھیلے آئس اینڈ اسنو ورلڈ رات میں خاص طور پر زبردست نظر آتا ہے جب مجمسمے جگمگا اٹھتے ہیں۔

فروری کے آخر تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول کا موضوع ’برف کے تاج میں موتی‘ رکھا گیا ہے۔

چین میں برف سے تیار کیا گیا یہ محل لوگوں کی توجہ کو مرکز بنا ہوا ہے — رائٹرزچین میں برف سے تیار کیا گیا یہ محل لوگوں کی توجہ کو مرکز بنا ہوا ہے — رائٹرز
ان نمونوں کو مختلف قسم کی روشنیوں سے منور کیا گیا ہے اور اسے دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں — اے ایف پیان نمونوں کو مختلف قسم کی روشنیوں سے منور کیا گیا ہے اور اسے دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں — اے ایف پی
برف سے تیار کیے جانے والے مجسموں کا فیسٹیول چین کے شہر ہربن میں جاری ہے — رائٹرزبرف سے تیار کیے جانے والے مجسموں کا فیسٹیول چین کے شہر ہربن میں جاری ہے — رائٹرز
پہلی بار اس تقریب کا آغاز 1963 میں کیا گیا تھا، چند سالوں کے وقفے کے بعد اسے 1985 میں منعقد کیا گیا جس کے بعد سے یہ آج تک جاری ہے — رائٹرزپہلی بار اس تقریب کا آغاز 1963 میں کیا گیا تھا، چند سالوں کے وقفے کے بعد اسے 1985 میں منعقد کیا گیا جس کے بعد سے یہ آج تک جاری ہے — رائٹرز
شائقین اس تقریب میں برف کا لطف اٹھا رہے ہیں — اے ایف پیشائقین اس تقریب میں برف کا لطف اٹھا رہے ہیں — اے ایف پی
ان نمونوں کو مختلف قسم کی روشنیوں سے منور کیا گیا ہے اور اسے دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں — اے ایف پیان نمونوں کو مختلف قسم کی روشنیوں سے منور کیا گیا ہے اور اسے دیکھنے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں — اے ایف پی
ایک بچہ اس فیسٹیول میں برف سے بنے ایک نمونے کے سامنے سے گزر کر رہا ہے — اے ایف پیایک بچہ اس فیسٹیول میں برف سے بنے ایک نمونے کے سامنے سے گزر کر رہا ہے — اے ایف پی

اپنا تبصرہ بھیجیں