یہ آپ کے 250 روپے، میری بچی دو دن پہلے فوت ہوگئی!

begger bager faqeer old man ghareeb poor grand

میں کوئی بھکاری نہیں ہوں، میری بچی بیمار ہے، اسپتال میں داخل ہے، میرے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہیں، خدا کے واسطے میری کچھ مدد کردیں، اللہ اس کا آپ کو کئی گنا زیادہ اجر دے گا۔ وہ مسلسل دروازہ کھٹکھٹائے جا رہا تھا۔

خدایا! یہ مانگنے والا بھی ۔۔۔ ناک میں دم کر رکھا ہے۔ صبح صبح ہی منہ اُٹھا کر آجاتا ہے نیند خراب کرنے، احمر بیزاری سے اُٹھا، بٹوے سے 10 روپے کا نوٹ نکالا اور دروازے کی طرف چل پڑا۔ صبر نہیں ہوتا تم سے؟ دروازہ کھٹکھٹانا شروع کرتے ہو تو بس کرنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

معافی چاہتا ہوں، جی بچی بیمار ہے۔ اسپتال میں داخل ہے، میرے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ خدا کے واسطے میری کچھ مدد کر دیں۔ اللہ اس کا آپ کو کئی گنا زیادہ اجر دے گا۔ یہی کہنا چاہتے ہو ناں؟ پچھلے ایک ماہ سے یہ سب سُن سُن کر میرے کان پک چکے ہیں۔ مگر تمہیں کیا؟ تمہیں تو ہر روز صبح بلا ناغہ آنا ہے۔ ہماری نیند حرام کرنی ہے۔ اپنے پانچ دس روپے لینے ہیں اور اگلے دروازے کی طرف بڑھ جانا ہے۔ احمر نے غصّے سے دس روپے کا نوٹ اُس کی طرف پھینکتے ہوئے کہا۔

بھلا ہو، صاحب جی! بھلا ہو کا بچہ ۔۔۔ احمر نے زور سے دروازہ بند کرتے ہو کہا اور جا کر دوبارہ بستر پر گرگیا۔ اگلی صبح وہ پھر احمر کے دروازے پر کھڑا اپنی مخصوص صدا لگا رہا تھا، ’’صاحب جی! میری بچی بیمار ہے‘‘۔ بچی بیمار کے کچھ لگتے۔ تجھے کونسی زبان سمجھ آتی ہے؟ تم پیشہ ور بھکاریوں نے تو زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اوہ معاف کرنا بھائی! تم تو پیشہ ور ہو ہی نہیں، تمھاری تو بچی بیمار ہے۔ اسپتال میں داخل ہے۔ ایسا کرو یہ 3 سو روپے رکھ لو، پورے مہینے کی ’’بھیک‘‘۔ اگلے مہینے دوبارہ تشریف آوری فرمانا اور میری حق حلال کی کمائی سے اپنا حصّہ لے جانا۔ احمر نے 3 سو روپے بٹوے سے نکال کراُسے پکڑاتے ہوئے کہا۔

’’بہت مہربانی، صاحب جی!‘‘ اور سُنو! اگر تم نے ایک ماہ سے پہلے میرا دروازہ کھٹکھٹایا تو میں تمھارا منہ توڑ دوں گا اور اسے صرف دھمکی مت سمجھنا۔ بہت اچھا، صاحب جی! اور وہ اگلے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

اُسے 3 سو روپے لے کر گئے ہوئے آج آٹھواں دن تھا، اور اُس نے پچھلے سات دنوں میں ایک مرتبہ بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ مگر آج پھر وہ احمر کے دروازے پرصبح صبح ہی آ کھڑا ہوا تھا۔ ہوگا وہی، ان پیشہ وروں کی زبان پر کیا اعتبار کرنا۔ نشہ کرنے کے لیے پیسے ختم ہوگئے ہوں گے۔ آج تو چھوڑوں گا نہیں اس کمبخت کو۔ احمر نے غصّے میں بڑبڑا تے ہوئے جھٹکے سے دروازہ کھولا تو وہ سہم کر تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا۔

ہاں! کیا بات ہے؟ کیا کہا تھا میں نے تم سے؟ صاحب جی! یہ آپ کے 250 روپے واپس کرنا تھے۔ اُس نے احمر کو پیسے پکڑاتے ہوئے کہا۔ میری بچی دو دن پہلے فوت ہوگئی تھی، اب ان پیسوں کی ضرورت نہیں رہی مجھے، آپ کی بڑی مہربانی۔

احمرساکت کھڑا حیرانی سے اُس کی بات سُن رہا تھا۔ اُسے شاید اب بھی اُس کی سچائی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ مگر اُس کی سرخ آنکھیں، جن سے آنسو شاید بہہ بہہ کر اب ختم ہوچکے تھے، وہ تو جھوٹ نہیں بول رہی تھیں۔

اللہ حافظ ۔۔۔۔۔ صاحب جی! مجھے 8 بجے تک کام پر بھی پہنچنا ہے۔ 3 سو روپے روزانہ میں گھر کا خرچ چلانا مشکل ہے، بیٹی کے علاج کے لئے پیسے کہاں سے لاتا۔ اس لئے آپ لوگوں کو تکلیف دیتا رہا۔ وہ تو شکریہ ادا کرکے چلا گیا مگر احمر ابھی بھی دروازے پر ہی کھڑا تھا، درد کا ایک گولا اُس کے حلق میں اٹکا ہوا تھا جسے نگلنے میں اُسے ابھی نہ جانے کتنا وقت لگنا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں