سعودی عرب نے ایرانی زائرین کولانیوالی براہ راست پروازوں کو بھی روکدیا، نیا خطرہ پیداہوگیا

news-1452062925-2115_large

سعودی عرب نے ایران سے براہ راست زائرین کو لے کر آنیوالی 150پروازیں روکدیں جس کے بعد کشیدگی کو مزید تقویت مل گئی ، سعودی عرب کے اس اقدام کے بعد ہرماہ ہزاروں زائرین کو لانیوالی پروازیں گراﺅنڈ کردی گئیں تاہم دیگر ممالک سے ہوتے ہوئے زائرین سعودی عرب جاسکیں گے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل سعودی عرب نے اعلان کیاتھاکہ دونوں ممالک کے تعلقات سے زائرین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
نیوزویب سائٹ ’عریبئن بزنس ‘ نے ایوی ایشن ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے بعد ہرماہ ہزار وں زائرین کو ایران سے سعودی عرب لانیوالی تقریباً150پروازوں کو روکدیاگیاہے ۔ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہاکہ ایران میں سفارتخانے پر حملے کے بعدسفارتی سطح پر جواب دیتے ہوئے سعودی عرب نے ایران کیساتھ تجارت اور پروازیں ختم کردی ہیں ۔
دونوں ممالک کے درمیان معیشت کے اعتبار سے نہایت کم تجارت ہوتی ہے تاہم ہزاروں ایرانی باشندے ہرسال حج اور عمرہ کیلئے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں ۔
اس سے قبل عادل الجبیر نے اعلان کیاتھاکہ دونوں ممالک کے تعلقات سے زائرین پر کوئی اثر نہیں پڑے گاتاہم ذرائع کاکہناہے کہ سعودی عرب نے ریاست میں موجود ایران کا حج آفس بند کردیا۔حج آپریشن کے موقع پر ایران کی مہان ایئرسمیت دیگر کئی ایئرلائنز حجاج کرام کو لانے کے لیے ایئربیس اے 330طیاروں سمیت بڑے طیارے استعمال کرتی ہیں اور ہرماہ تقریباً150پروازیں آتی اور جاتی ہیں ۔
مہان ایئرکے جنرل سیلز ایجنٹ جہان کاکہناتھاکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مزید براہ راست پروازیں نہیں چلیں گی تاہم زائرین اور دیگر مسافر ایمریٹس اور قطرایئرویز کے ذریعے دیگر ممالک سے ہوتے ہوئے سعودی عرب جاسکیں گے ۔
سول ایوی ایشن کی سعودی جنرل اتھارٹی نے ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہاکہ وہ کوشش کریں گے کہ ایڈوانس بکنگ کرانے والے مسافروں کو کوفت نہ اٹھانی پڑے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں