شمالی کوریا نے بھی ہائیڈروجن بم کا تجربہ کرلیا، زلزلہ ، امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا کی مذمت، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

news-1452059246-1061_large

شمالی کوریا نے ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا اعلان کردیا جس کے بعد ہائیڈروجن بم رکھنے والا وہ دنیا کا چھٹا ملک بن گیا، شمالی کوریا کے اعلان  پر امریکی حکام کی نیندیں اڑگئیں جبکہ اس تجربے کے بعد زلزلے کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ، شمالی کوریا کے اس تجربے کے بعد   سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریانے کہاہے کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کرلیاہے اوراسی وجہ سے پڑوسی ممالک جنوبی کوریا اور جاپان کیساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں ۔ مقامی وقت کے مطابق پہلی مرتبہ صبح 10بجے تجربہ کیاگیا ۔امریکی جیولاجیکل سروے کے مطابق 5.1شدت کے زلزلے کی وجہ سے ابتدائی طورپر دھماکے کا پتہ چلا۔
شمالی کوریاکی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق محفوظ اور کامل طریقے سے دشمنوں سے اپنے دفاع کیلئے کامیاب تجربہ کرلیاہے ۔ کوریا کے سنٹرل ٹیلی ویژن کے مطابق ہائیڈروجن بم کے تاریخی ٹیسٹ کی کامیابی کے بعدجوہری طاقتوں کی صفوں میں اضافہ ہوگیاہے ۔

شمالی کوریا کے صدر’ کم جونگ ان ‘نے3 جنوری کوتجربے کی منظوری دی تھی جس کے بعد شمالی کوریا کے ایک جزیرے پر زیر زمین ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کیا گیا جبکہ اسی جزیر ے پر پہلے بھی شمالی کوریا 3 دفعہ جوہری تجربات کرچکا ہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کم جونگ ان کے چارساقل قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد جنوبی کوریا کے خلاف اشتعال دلانے والی سیریز سے اپنا اقتدار مضبوط کیا۔ حکومت نے پرامن مذاکرات کیلئے امریکی و چینی کاوشوں کومسترد کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کو وسعت دی اورکہاکہ امریکی حملوں کیخلاف یہ بہترین دفاع ہے ۔

شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کے تجربے کے بعدامریکہ نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے جبکہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور تجربے کو عالمی امن کیلئے خطرہ قراردیا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس جان کربی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے ہائیڈروجن بم کا تجربہ اشتعال انگیزی کا ثبوت ہے ،اور اس اشتعال انگیزی کا مناسب جواب دیں گے،امریکہ اتحادیوں کی مدد سے صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم کے تجربے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم شمالی کوریا کے جوہری تجربے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیاہے۔

ہائیڈروجن بم کا سب سے پہلا تجربہ امریکا نے یکم نومبر 1952 کو کیا تھا جب کہ روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے پاس بھی ہائیڈروجن بم موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے جب کہ ہائیڈروجن بم کے تجربے سے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں