212

میرا جسم میری مرضی کیسے؟ (تحریر طاہر فاروق طاہرؔ)

میرا جسم میری مرضی کیسے ؟)

8 مارچ کو پوری دنیا میں خوا تین کا دن منایا جاتا ہے ،اس دن خواتین آزادی حقوق کیلئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں ، خواتین کے ہر ملک اور علاقے کی نسبت سے احتجا ج کرنے کے انداز مختلف ہیں اسلام نے عورت کو جو آزادی اور حقوق دئیے ہیں کسی اور مذہب میں نہیں ملتے ، عورت کو جو مقام اور مرتبہ اسلام نے دیا ہے اس مثال نہیں ملتی ۔میں نے جب اسلامی ممالک کی خواتین کا عورت مارچ کرتے ہوئے دیکھا تو میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا میں حیران و پریشان تھا کہ کسی مہذب معاشرے کی عورتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں کیا ان لڑکیوں کے گھر والے نہیں ہیں ، یا پھر یہ مادر پدر آزاد ہیں یہ ہر کام اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہیں ، جس بھی عورت کے ماں باپ اور بہن بھائی ہوتے ہیں وہ عورت یہ الفاظ کبھی نہیں لکھ سکتی( کھانا گرم کر دونگی بستر خود گرم کر لو،میرا وجود تیرے القاب کا محتاج نہیں ، تو بس اک مرد ہے میرے سر کا تاج نہیں ، ماہواری ہے تو تم ہو ، ماہواری سے شرم کیسی ، چادر اور چار دیواری ذہنی بیماری ذہنی بیماری ،اگر دو پٹہ اتنا پسند ہے تو اپنی آنکھوں پہ باندھ لو) اس کے علاوہ اور بھی بہت سے گندے الفاظ لکھے گئے ہیں جو میری غیرت اور میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ میں یہاں پر لکھوں ، مگر ہر پاکستانی نے سو شل میڈیا پر غیر مہذب اور غیر اسلامی الفاظ عورتوں کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے بینرز پر پڑھ لیے ہوں گے ۔

میرا جسم میری مرضی جب یہ الفاظ میری نظر سے گزرے تو میرے جسم میں ایک عجیب سی خوف کی کیفیت طاری ہو گئی اورپھر مجھ کو خیال آیا کہ یہ جسم میری مرضی کیسے ہو سکتا ہے ، میں اس جسم کا مالک کیسے ہو سکتا ہوں نہ میں اپنی مرضی سے پیدا ہوا اور نہ ہی میں اپنی مرضی سے مر سکتا ہوں، پھر یہ میرا جسم کیسے میری مرضی ہوا ؟کیا کسی انسان نے اﷲ تعالی سے کہا کہ مجھ کومیری مرضی کے مطابق پیدا کرو؟ نہیں انسان بے جان مٹی تھا اور اﷲ تعالی نے اپنی قدرت سے اس میں جان ڈالی اور اس کے خوبصورت عضا بنائے جس میں ساری مرضی اﷲ تعالی کی شامل ہے کسی انسان کی کوئی اپنی مرضی شامل نہیں ہے ۔

جسم کے ہر عضاء کے استعمال کا ہر انسان کوحساب دینا ہو گا ۔ اﷲ تعالی نے کسی کو خوبصورت بنایا ہے تو بھی اس میں اُس انسان کی مرضی شامل نہیں، اگر کسی مصلحت کے تحت اﷲ تعالی نے کسی انسان کے جسم میں کوئی کمی ر کھی ہے تو بھی اس میں اس انسان کی اپنی مرضی شامل نہیں ۔ عمر اور وقت کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالی کسی انسان کے جسم کا کوئی حصہ مفلوج کر دیتا ہے یا پھر کسی حادثے یا بیماری کی صورت میں ضائع کر دیتا ہے تو اس میں اﷲ تعالی کی مرضی کے سوا کچھ نہیں۔انسان صرف اور صرف صبر ہی کر سکتا ہے ۔ اگر انسان کا جسم اس کی اپنی مرضی ہے تو پھرانسان اپنے جسم کو مفلوج اور ضائع ہونے سے اپنی مرضی کے مطابق بچا کیوں نہیں سکتا ؟اگر انسان کا جسم اس کی اپنی مرضی ہے تو وہ ہمیشہ جوان کیوں نہیں رہ سکتا ؟ انسان اپنے اوپر بڑھاپے کو طاری ہونے سے کیوں نہیں روک سکتا ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا جسم انسان کی مرضی نہیں ہے۔ یہ سب اﷲ تعالی کی مرضی ہے ۔ جو انسان اپنے جسم کو اپنی مرضی سمجھتا ہے اور اپنے جسم پر صرف اور صرف اپنا حق سمجھتا ہے تو وہ شخص بیوقوف ، جہل اور بے دین ہے ۔

قیامت کے روز اﷲ تعالی کے سامنے ایک بندے کو لایا جائے گا جس کے نامہ اعمال میں صرف نیکیاں ہی ہوں گی اور اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اﷲ تعالی فرمائے گا فرشتوں سے اس کو میری رحمت سے جنت میں لے جاؤ ۔ بندہ بولے گا اے اﷲ میں اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں جا رہا ہوں،میں نے ساری زندگی نیک اعمال کیے ہیں اس وجہ سے میں جنت میں جا رہا ہوں؟ میرے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہے، اے اﷲ میں تیری رحمت سے نہیں اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں جاؤ ں گا ،اﷲ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا اس بندے کو واپس ترازو عدل پر لے جاؤ اور اس کا حساب کرو، اﷲ تعالی فرمائے گا ترازو کے ایک پلڑے میں اس آدمی کی ایک آنکھ رکھو اور دوسرے پلڑے میں اس کے تمام اعمال رکھو، اﷲ کے حکم سے فرشتے جب ترازو کے ایک پلڑے میں اس آدمی کی ایک آنکھ رکھتے ہیں اور دوسرے پلڑے میں اس آدمی کے اعمال کو رکھا جاتا ہے تو آنکھ والا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے ، اﷲ تعالی فرما ئے گا تم نے تو میری دی ہوئی ایک آنکھ کے برابر بھی اعمال اور نیکیاں نہیں کی تو پھر تم اپنی مرضی سے جنت میں کیسے جا سکتے ہو ۔ یہ صورت حال دیکھ کر وہ بندہ رونے لگ جائے گا اور اﷲ تعالی سے رحم و فضل کی بھیک مانگے گا۔

ہمارے جسم کی ہر چیز کا مالک ، خالق اور رازق اﷲ تعالی کی ذات پاک ہے، تو پھر میرا جسم میری مرضی کیسے ہوا ؟ نو کری کے سلسلے میں کچھ عرصہ مجھے شمالی علاقہ جات میں رہنے کا اتفاق ہوا، تو وہاں پر میں نے بہت ہی حیرت انگیز صورت حال دیکھی کے مرد حضرات سار ادن کوئی کام کاج نہیں کرتے اور عورتیں گھر اور باہر کا تمام کام کرتی ہیں ۔ اس صورت حال کی وجہ سے مجھے وہاں کے مرد حضرات پر بہت غصہ آتا تھا۔ ہمارے پاس ایک بزرگ ملازم تھے جن کا کام تھا چشمہ سے پانی بھر کر لانا ، ایک دن میں نے ان بزرگ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کے ہاں سارا کام عورتیں کیوں کرتی ہیں اور مر د حضرات فارغ کیوں رہتے ہیں ؟ میرے اس سوال پر بزرگ نے مجھ کو ایک واقع سنایا، بزرگ نے کہا کہ ہمارے علاقے کا پرانہ نام
کو ہستان تھا اور جو بھی اس علاقے کا بادشاہ ہوتاتھا اس کو راجا کوہستان کہا جاتا تھا ، اس دور میں ہمارے مرد حضرات سارے کام کاج کیا کرتے تھے سرد موسم اور دن بھر تھکاوٹ سے مرد حضرات رات کو جب دیر سے گھر واپس آتے تو بستر میں جاتے ہی سوجاتے، اس صورت حال کی وجہ سے بہت عرصہ تک مردوں کے اندر اپنی عورتوں کے پاس جانے کی خواہش بیدار نہ ہوتی ۔

اس تمام صورت حال کو دیکھ کر عورتوں کا ایک وفد راجا کو ہستان کے پاس گیا اور عورتوں نے اپنے مسائل بیان کیے اور کہا کہ ہم کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دی جائے ۔ جب راجا کو ہستان نے ان عورتوں کی تمام بات سنی تو وہ پریشان ہو گیا اور عورتوں کے وفد کو چند دن بعد آنے کا کہا جس پر عورتیں واپس چلی گئیں۔ راجاکو ہستان نے اس پریشانی کے عالم میں اپنے تمام وزراء کا اجلاس طلب کر لیا اور اجلاس کے تمام ممبران کے سامنے عورتوں کی درخواست رکھ دی اور وزراء سے اس مسئلے کا حل دریافت کیا ۔ راجا کو ہستان کا ایک ذہین وزیر اٹھا اور راجا کوہستان سے بولا کہ ایسا تو ہر گز ممکن نہیں کہ ہم عورتوں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت دیں مگر اس مسئلے کا ایک حل ہے میرے پاس، اگر آپ اس پر عمل کروا دیں تو عورتیں دوسری شادی کی خواہش نہیں کریں گی ۔ راجا کوہستان نے کہا بتاؤ کیا حل ہے تمھارے پاس اس مسئلے کا ؟وزیر نے کہا علاقے کی عورتیں سارا دن فارغ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی جنسی خواہشات مردوں سے زیادہ ہو چکی ہیں ۔ اگر ہم اپنے علاقے کی عورتوں کو سارادن کام کاج میں لگا دیں تو مردوں کی طرح عورتوں کی جنسی خواہشات بھی کم ہو جائیں گی ، راجا کو ہستان کو وزیر کی بات پسند آئی اور اس نے اپنے پورے علاقے میں اعلان کروا دیا کہ گھر اور باہر کے تمام کام عورتیں کریں گی اس حکم کے چند دن بعد عورتوں کے جسموں پر تھکاوٹ ہونے لگی اور جنسی خواہشات کم ہونے لگی اور اس طرح راجا کو ہستان نے عورتوں کے اس مسئلے پر قابو پالیا اور اس وقت سے لے کر آج تک وہی طریقہ چلا آ رہا ہے ۔

اگر آج ہم اپنی عورتوں کو دیکھیں تو عورتوں کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہر چیزآرڈر پر مہیا ہو جاتی ہے ۔ ہر سہولت عورتوں کے بیڈ روم میں با آسانی میسر ہوتی ہے ۔ مو بائل اور ٹی وی کیبل پر سا را دن اپنی من مرضی کا لٹریچر دیکھا، سنا اور پڑھا جاتا ہے ۔غیر مردوں اور عورتوں سے باتیں کی جاتی ہیں قربت کے لمحات ہر وقت میسر ہوتے ہیں، کوئی پوچھنے ولا نہیں ۔ اس صورتحال میں انسان کا جسم پر سکون اور راحت طلب ہو جا تا ہے اور انسان کا نفس طاقتور ہو جاتا ہے اور نفس کے ساتھ میں شیطان بھی مل جاتا ہے۔پھرایسی خواہشات جنم لیتی ہیں جن کو کبھی نہ سنااورنہ دیکھا ہوتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ میرا جسم میری مرضی ، کبھی کہا جاتا ہے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیا جائے ۔ہم مسلمان ہو کر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ رہنے والے ، ایک اﷲ اور ایک رسولﷺ کو ماننے والے کیوں غیر مسلموں کے نظام کو اپنانے میں لگے ہوئے ہیں ۔

حضرت فاطمۃ الزہرہؓ کی حیات طیبہ کو پڑھ کر بھی ہماری ماؤں بہنوں نے کوئی سبق حاصل نہیں کیاتو پھر کون سا اسلام اور پھر کون سا اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں پر ایسی این جی اوز کام کر رہی ہیں جن کا نعرہ ہے میرا جسم میری مرضی۔ (اﷲ معاف کرے)

یہاں پر میں ایک سبق اموز واقع شیئر کرتا ہوں آ پ لوگوں کے ساتھ میں نے چھٹی پر گھر واپس جانا تھا ٹرین کی ٹکٹ لے کر میں اسٹیشن پر گیا اور میں نے اے ٹی ایم مشین سے کافی زیادہ رقم نکلوا ئے اور مجھ کو جلدی بھی بہت تھی کیونکہ میں نے ٹرین میں بیٹھنا تھاجب میں نے دیکھا کہ ٹرین چل پڑی ہے تو میں پیسے ہاتھ میں پکڑ کر اور کچھ پینٹ کی جیب میں ڈال کر ٹرین کی طرف بھاگنے لگااور کوشش کر کے ٹرین میں سوار ہو گیا ٹرین لوگوں سے کافی رش میں نے ایک طرف دیکھا کہ ایک سیٹ خالی ہے جس کے سامنے ایک خوبصورت لڑکی آج کے جدید لباس میں نیم برہنا ایک بزرگ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی ، میں اس کے سامنے جا کر بیٹھ گیا میں نو جوان تھا بار بار آنکھیں اس لڑکی کے چہرے کی طرف اٹھ رہی تھیں ، آخر کار میرے دماغ میں ایک سو چ آئی اور میں نے تمام پیسے نکلا کر گننے شروع کر دئیے ٹرین کے تمام لوگ مجھ کو حیران ہو کر دیکھنے لگے تھوڑی دیر بعد لڑکی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بزرگ میرے قریب ہوئے اور کہنے لگے بیٹا قیمتی چیزوں کو لوگوں کے درمیان اس طرح لے کر نہیں بیٹھتے چھپا کر رکھتے ہیں ،میں بزرگ کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور پھر لڑکی کی طرف دیکھا اور کہا سر میں بھی آپ کو یہ ہی سمجھنا چاہارہا تھا کہ قیمتی چیزوں کو چھپا کر رکھتے ہیں ان کو اس طرح لوگوں کے سامنے لے کر نہیں بیٹھتے ۔

(تحریر طاہر فاروق طاہرؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں