62

طالبان ، افغانستان اور امریکہ امن معاہدہ (تحریر: طاہر فاروق)

طالبان، افغانستان اور امریکہ امن معاہدہ

بیس سال بعد امریکہ کو افغانستان میں شکست ،اس بیس سال میں کتنی جانیں ضائع ہوئیں ،اس بیس سال میں کتنے بچے یتیم ہوئے،اس بیس سال میں کتنی ماؤں کی گود اجڑی ،اس بیس سال میں ایک نسل کو تباہ کر دیا گیا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیا گیا ،اس بیس میں آرمی پبلک سکول جیسا واقع پیش آ یا جس میں معصوم بچوں پر گو لیاں چلا کر شہید کر دیا گیا اور پورے پاکستان کو ہمیشہ کے لئے سو گوار کر دیا گیا
اس بیس سال میں قندھار میں چار سو حفاظ پر ڈرون حملہ کرکے شہید کر دیا گیا یہ سب بچے کس کے تھے؟ یہ سب بچے کوئی دہشت گردتو نہیں تھے ۔ ان بچوں کو شہید کرنے کا مقصد صرف مسلمانوں کی نسل کشی تھا

اس بیس سال میں پاکستان کو دوسرے ملکوں کی جنگ لڑکر اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑی ،اس بیس سال میں پاکستان نے دوست کم اور دشمن زیاد بنائے جس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہو کر رہ گیا اور معاشی طور پر بدحا ل ملک کے طور پر سامنے آیا ۔اس بیس سال میں پاکستان کے اندر کارو بار کرنے والی کمپنیوں نے اپنے پیسے اور کار و بار کو سمیٹ کر پاکستان کو خیر باد کہہ دیا ، یہاں تک کے پاکستان کے اپنے بزنس مینوں نے اپنے کارو بار ملک سے باہر شفٹ کر دیئے اس طرح پاکستان معاشی بدل حالی کا شکا ر ہو گیا ۔ اس بیس سال میں پاکستان خود کش بمبار وں کی اماجگاہ بن گیا ،

پاکستان کی مسجدیں ، مدرسے ، سکول اور بازار خو ن سے نہا گئے تھے پاکستان آرمی نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ملک و قوم کی حفاظت کی اس سارے کھیل میں ایک ہی مقصد تھا کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے اس لیے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اور حالات کو دن بدن خراب کرنے کی کوشش کی جانے لگی تاکہ پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جائے تا کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے کر پاکستان کے ایٹمی اساسوں پر کنٹرول حاصل کر لیاجائے۔ مگر پاک آرمی نے پاک سر زمین کے دشمنوں کو ان کے نا پاک ارادوں کا موقع نہیں دیااور ملک کے اندر اور بارڈرز پر اپنے ملک کا بڑی بہادری سے دفع کیا ۔ بلکہ امریکہ کو باور کر وایا کے ہماری سر زمین پر تمھارے ڈرون حملے نہیں ہونے چاہیے ہم ملک و قوم کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ہماری زمین اور خلا کی خلاف ورزی نہ کی جائے ورنہ تم کو نقصان اٹھانا پڑگا۔ اس بیس سال میں پاکستان کے اندر سے سپورٹس ختم ہو گئی گراؤنڈ ویران ہو گئے پاکستان کی طاقتور اور ذہین ترین نسل بزدلی کا شکار ہونا شروع ہو گئی ،اس بیس سال میں پاکستان کی نسلیں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئیں۔درسگاہوں میں بچوں کو قید کر کے رکھ دیا گیا ہر سکول میں سیکیورٹی گارڈ کی زیر نگرانی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ ہے امریکہ کی بیس سالہ شکست ۔

تاریخ گواہ ہے انگریز جن ممالک میں بھی گیا ہے اس نے ان ممالک کے اندر بد امنی پیدا کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں اور ان ممالک کی آرمی کو ختم کر کے پھر اس ملک کے اندر امن کے نام پر اپنی آرمی کو بھیج کر قبضہ کر کیا ہے ۔ ہندوستان میں ہند اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ امن و امان سے رہ رہے تھے مگرجیسے ہی انگریز وں نے اس خطے میں قدرم رکھا وہ بد امنی پیدا کی جو آج تک ختم نہیں ہوئی سو سال حکومت کرنے کے بعد جب انگریز نے ہندو ستان چھوڑا توکچھ اس طرح کے ہی حالات چھوڑ کر گیا تھا جو آج افغانستان میں ہیں۔ اُس وقت بھی ایسی ہی خوشی تھی اس وقت بھی لوگ کہہ رہے تھے کے ہم نے انگریز کوہندو ستان سے شکست دے دی اور انگریز بھاگ رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے ہم دونوں ممالک آج تک اُسی انگریز کے غلام ہیں اور اُسی سے پوچھ کر فیصلے کرتے ہیں اور اس آقا کی وجہ سے اپنے اپنے بارڈر پر اور ملک کے اندر سے اپنے ہی لوگوں کی لاشیں اٹھارہے ہیں۔ آج بھی جب ان دونوں ملکوں میں انگریز دورے پر آتا ہے تو ان ممالک کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی یہ ہے ہماری ستر سالہ آزادی کی تاریخ ۔

اب اگر دوسرے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو عراق ایک پر امن ملک تھا ، امریکہ نے آ ج اس کا کیا حال کر دیا ہے وہی پر امن عراق امریکن جنگ کے بعد خانہ جنگی کا شکار ملک بن چکا ہے ہر روزبم دھماکے اور خون کا بازارگرم نظر آتا ہے ۔ لبیاایک پر امن ملک تھا کسی قسم کی کوئی بد حالی نہ تھی آج وہی لوگ جو کبھی ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کیا کرتے تھے آ ج ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے ہیں۔شام ایک خوشحال اور پر امن ملک تھا مگر آج اس کے کیا حالات ہیں ساری دنیا جانتی ہے وہاں پر لاشوں کو دفنانے کی جگہ کم پڑ چکی ہے ۔باقی دوسرے ممالک پر نظر ڈالی جاے تو ان میں یمن کے کیا حالات ہیں زندگی وینٹی لیٹر پر چل رہی ہے ۔مصر کی معیشت تباہ ہو چکی ہے ، اردن کی تباہی نشان عبرت بن چکی ہے ، لبنان ہے کے اپنی تباہ خالی پر خاموشی اختیار کر چکا ہے ۔قطر ، بحرین ، سعودی عرب امریکن کالونیاں ہیں اور ان ممالک سے امریکہ کواپنے مفادات ہیں اس وجہ سے یہ ممالک پر امن جانے جاتے ہیں اور نہ ہی ان ممالک میں امریکہ انٹی بات کی جاتی ہے جو امریکہ کہتا ہے یہ ممالک وہی کرتے ہوے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی آرمی آئے روز اپنی شہادتیں پیش کر کے ملک و قوم کی حفاظت کر رہی ہے اگر ہمارے پاس ایک بہادر آرمی نہ ہوتی تو اس وقت تک ہم بھی نشان عبرت بن چکے ہوتے ۔پاکستان پر جس طرح کی جنگیں مسلط کی گئی ہیں اﷲ کا فضل ہے ہم پر اور ہماری آرمی کا اپنے ملک کے ساتھ اور اس زمین کے ساتھ ایک وفا کا رشتہ ہے جس نے روس جیسی بڑی طاقت کو شکست دی جس نے امریکہ کی بار ہا کوشش کے باوجود امریکن آ رمی کو پاکستان کی سر زمین پر قدم نہیں رکھنے دیا ہر طرح کی دہشت گردی پھیلا کر پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی کو شش کی گئی مگر پاکستان آرمی ہر بار دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے سامنے آہنی دیوار ثابت ہوئی

آ ج جب امریکہ افعانستان میں دو ایسے دھڑے چھوڑ کر جا رہا ہے جو ہمیشہ آ پس میں لڑتے ہوئے نظر آئیں گے اور دونوں ہی اس امن معاہدے کی صورت میں اپنی لاشیں اٹھانے سے پہلے امریکہ کی طرف دیکھیں گے بلکل اسی طرح جس طرح پاکستان اور انڈیا ہر بار امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں اپنی لاشیں اٹھانے سے پہلے۔آ ج ہم خوشیاں منا رہے ہیں بہت سے ایسے لوگ جو تاریخ سے واقف نہیں جو آ ئے روز انڈیا کو ختم کر کے سوتے ہیں اور چھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں اور ان کی بات کبھی بھی سچ ثابت نہیں ہوئی اس وقت انڈیا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے آئے روز انڈیا میں کتنے مسلمانوں کو شہید کیا جاتا ہے اس سے پوری دنیا چشم کشا کیوں ہے۔

یہ طالبان ، افغانستان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہے امریکہ آگ پر تیل چھڑک کر اب اس سے دور بھاگ رہا ہے اور اس کو معلوم ہے یہ آگ اب کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو گی پاکستان کے بارڈر پر اب تینوں اطراف پر دشمن ہیں انڈیا ، افغانستان اور ایران اصل مقصد پاکستان کے امن کو تبا ہ کرنا ہے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر نا ہے ، پاکستان چین اور روس کے بلاک کو مکمل نہیں ہونے دینا ہے ۔ جس دن یہ اسلام کا قلعہ ختم ہو گیا اس دن گریٹر اسرائیل اور ماہ بھارت کا وجود قائم ہو جاے گا۔

تحریر: طاہر فاروق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں