216

مسلم! مان جا (تحریر: محمد ندیم اختر )

مسلم! مان جا

چین وعرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

قائداعظم کا فرمان ہے کہ اسی دن پاکستان بن گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا. باب الاسلام سندھ کے راستے محمد بن قاسم اسلام کا پرچم بلند کرتا اس علاقے میں داخل ہوا سعودی عرب کے شہر طائف میں پیدا ہونے والے حجاج بن یوسف کے بھتیجے نے محض سترہ سال کی عمر سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں کو فتح کر کے ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرایا. (محمد بن قاسم کا درد ناک انجام بھی یاد رہے) اس کے بعد ہندوستان میں اسلام تیزی سے پھیلتا گیا. محمود غزنوی اور غوری خاندان کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے دورحکومت کا آغاز 1206ء میں شروع ہوا جس کا اختتام مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی انگریزوں کے ہاتھوں شکست 1857ء کی صورت میں ہوا اتنے لمبے حکومتی عرصہ میں حکومتیں ہتھیانے کی بے شمار سازشیں سامنے آئیں سلطنت کے لئے اپنے بھائیوں والد چچا کسی کو بھی نا بخشا گیا.

انگریزی دور میں ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں کو زیر عتاب رکھا گیا.. تحریک پاکستان کے راہنماؤں نے مسلمانوں کے لیے دو قومی نظریے کی بنیاد پر علیحدہ وطن کا مطالبہ کرنا شروع کیا جس کی بنیاد اسلام کو بنایا گیا. اس مطالبے کو اس وقت کے جید علماء کرام نے مخالفت کرتے ہوئے رد کر دیا ..تحریک پاکستان کے راہنماؤں جن میں قائد اعظم محمد علی جناح ،علامہ محمد اقبال ، سر سید احمد خان اور مولانا ظفر علی خان وغیرہ شامل تھے ان کی انتھک کوششوں سے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا.

1947ء میں تاریخ ساز ہجرت دیکھنے میں آئی تقریباً دس ملین لوگ بے گھر ہوئےجس میں بھارت میں آ نے والے علاقوں کے مکینوں کو اپنے آشیانے چھوڑ کر نوخیز ملک پاکستان میں اپنا ٹھکانہ ڈھونڈنا تھا.. بھارتی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے آنے والا پانچ سو افراد کا قافلہ مکان و جائیداد کی تلاش میں پورے دیس میں پھیل گیا. اپنا کھویا ہوا مقام واپس لینا اور اپنے آپ کو منوانے میں مصروف ہوگئے

مقامی لوگوں نے اتنی بڑی تعداد میں مہاجرت کو دل سے تسلیم نہیں کیا.پاکستان کے جن علاقوں میں یہ اکثریت سے ڈیرہ جما چکے وہاں پر یہ اپنا وجود اور شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے مگر جن علاقوں میں خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں جہاں پر ان کی آباد کاری کم تعداد میں ہوئی آج بھی وہاں ان لوگوں کو عموماً مہاجر یا مجروٹے بطور حقارت آمیز الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے. جسمانی طور پر آزاد لوگ آج بھی ذہنی طور پر مقامی لوگوں کے مغلوب محسوس ہوتے ہیں. بھائی چارے کی فضاء مہاجر لوکل کی حد تک نظر آتی ہے..

بقول قائد اعظم ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان ہر لمحہ ہندوستان سے وفاداری ثابت کرتے رہیں گے. یہ بات بالکل درست ہے وہاں کے مسلمان آج بھی اپنے بھی اپنے آپ کو انڈین ثابت کرنے میں مصروف ہیں. وہاں پر شہریتی قانون کے پیش نظر ہنگاموں میں مسلمانوں کے گلے ہی کاٹے جا رہے ہیں ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے. . مسلمان ہونے کے ناتے تکلیف تودونوں طرف محسوس کی جارہی ہے ..

غور کیا جائے ایک ہونے کا دعویٰ کرنے والی ہندوستانی مسلمان قوم کبھی بھی ایک نا ہو سکی اس قوم میں پاکستانی مسلمان بھی شامل ہیں ہماری ترجیحات مفاد پرستی تک محدود ہو جاتی ہیں کسی کو جائز مقام دینا انتہائی تشویشناک سمجھتے ہیں.

اندرونی کمزوریاں ، انا اور مادہ پرستی کا ناسور مسلمانوں کو اکٹھا ہونے سے روک رہا ہے. اس کی لپیٹ میں ایک گھر ،گاؤں ،شہر ملک چاہے ہندوستان میں بسنے والے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں جو آج کل فساد کی لپیٹ میں ہیں.

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نا سکا
اقبال

جذباتی وابستگی کی حرارت محسوس کی جاتی رہی لیکن ایمانی وابستگی کی حرارت میں اتار چڑھاؤ آتا رہا.
تاریخ کی کتابوں کی اوراق پلٹنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے
ہم مسلماں ہوئے تارک قرآن ہو کر
جو بھی ہو اللہ تعالٰی نے انسانی جسم کی رگ رگ میں اسلام کو بھر دیا مطلب تابع کر دیا انسان کے ہر عضو کو انسان کے دماغ زیر اثر کر دیا..
ضرورت تو صرف اتنی ہے جیسے اعضاء کے ملنے جسم بنتا ہے بس اسی طرح ایک اسلامی ملت تابع ہونے سے وجود میں آتی ہے.. پھر جو حرارت وقوع پذیر ہو گی جذبہ ایمانی سے بھر پور ہو گی.

محمد ندیم اختر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں