48

چھ سال سے کم عمربچوں کو کھانسی کا شربت نہ پلائیں

پاکستان میں علاج کے نام پر لوگ اپنی مرضی کی دوائیں کھاتے رہتے ہیں۔ یہ عمل نسل درنسل چل رہا ہے مگر یہ علاج سے زیادہ خطرناک ہے۔ مثال کے طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نزلہ اور زکام کیلئے کھانسی کا شربت مفید رہتا ہے مگر ماہرین صحت کے مطابق بچوں کو کھانسی کا شربت پلانا ہی نہیں چاہیے۔

ماہر امراض اطفال ڈاکٹر انوکھی خانم نے سماء ٹی وی کے پروگرام نیا دن میں بچوں کے صحت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کھانسی کا شربت پلانا بالکل بے کار ہے۔ تحقیق اور شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 6 سال سے کم عمر کے بچوں کو کسی قسم کا شربت نہیں پلانا چاہیے۔ امریکا، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں اس کا تصور ہی نہیں۔

ڈاکٹر انوکھی کے مطابق کھانسی روکنے کیلئے بچوں کو شربت پلانا خطرناک ہوسکتا ہے اور بچوں کی سانس بھی رک سکتی ہے۔

علاج کیسے کریں

ماہر امراض اطفال نے بتایا کہ سب سے ضروری امر ’روک تھام‘ ہے۔ روک تھام کا مطلب یہ ہے کہ بچے سمیت خاندان کے سارے افراد کو وقت پر ویکسی نیشن کرنی چاہیے۔ چھ ماہ سے زائد عمر کے ہر فرد کو ہر سال ’فلو سیزن‘ شروع ہونے سے پہلے حفاظتی ٹیکلے لگوانے چاہئیں اور فلو سیزن عام طور پر اکتوبر میں شروع ہوتا ہے۔

اگر 8 سال تک کے بچوں نے پہلے کبھی حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تو انہیں پہلی مرتبہ 4 ہفتے کے وقفے سے 2 مرتبہ حفاظتی ٹیکلے لگانے چاہئیں اور پھر سالانہ ایک ڈوز کافی ہے۔

ڈاکٹر انوکھی خانم نے بتایا کہ دوسری اہم تدبیر ہاتھ دھونا ہے۔ صرف ’ہینڈ سنیٹائزر‘ کا استعمال کافی نہیں بلکہ 20 سیکنڈ تک ہاتھوں کو صابن سے دھونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں ’سانس کے ذریعے‘ ہونے والے انفیکشن کی وجہ سانس کی نالی میں وائس سے ہوتے ہیں اور بچوں کو سانس لینے یا ناک کے ذریعے سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔

بچے بنیادی طور پر ناک سے سانس لیتے ہیں۔ جب انہیں زکام ہو یا ناک بند ہو تو باقاعدہ ان کی ناک کی صفائی کرنی چاہیے تاکہ وہ آسانی سے سانس لے سکیں۔ اس کے لیے بچے کی ناک میں نمکین پانی کے قطرے ڈالیں اور 5 منٹ کے بعد اسپائریٹر سے ناک صاف کریں۔ بچوں کو ناک کے قطرے یا اسپرے سے بھی دور رکھنا چاہیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں