48

ریاست مدینہ کی ڈیمانڈ (تحریر: احسان نازش)

’’ریاست مدینہ کی ڈیمانڈ‘‘

آج کل ہر تقریر،تقریب اور پریس کانفرنس میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا بہت ذکر کیا جاتا ہے جوکہ بہت اچھی بات ہے اگر باعمل ہوتو۔زبانی جمع تفریق سے ریاست مدینہ وجود میں نہیں آسکتی ۔شاید آپ ریاست مدینہ کی تاریخ سے ناواقف ہیں، ریاست مدینہ والوں نے پیٹ پر پتھر باندھے ،ریت کا بستراور پتھرکا تکیہ استمال کیا ۔خود مہار پکڑی اور غلام کوسواری پر بٹھایا ،

ریاست مدینہ کے خلیفہ اول کے بیت المال سے وظیفہ مقرر کرنے کا مرحلہ آیا تو تمام بحث ومباحثہ کے بعد خلیفہ اول نے فرمایا کہ کہ مزدور کی ایک یوم کی اجرت کے برابر میں بیت المال سے وظیفہ لوں گا ۔تو وقت کی شوریٰ پریشان ہوگئی کہ خلیفہ وقت اور وظیفہ مزدور کی ایک دن کی اجرت کے برابر ۔سب نے اعتراض کیا مگر خلیفہ اول سید نا ابوبکر صدیق ؓنے فرمایا کہ اگر میرا گزرا نہ ہوا تو میں مزدور کی اجرت استقدر بڑھادوں گا جس سے میرا گزارہ باآسانی ہوسکے۔

خلیفہ دوئم نے فرمایا کہ اگر دجلہ کے کنارے کُتا پیاسہ مرگیا تو عمرؓ کو جواب دینا پڑے گا۔رات کو اپنی پیٹھ پر راشن اٹھاتے اور فاقہ کشوں میں تقسیم فرماتے ۔ریاست مدینہ کے تیسرے خلیفہ سب کچھ ریاست مدینہ پر قربان کردیا ۔خلیفہ چہام نے تمام حدود ختم کردیں یہ تھے ریاست مدینہ کے حکمران جنھوں نے اپنی آنے والی نسلوں کو حکمرانی کا طریقہ بتایا ۔

آج کے حکمرانوں کے منہ سے ریاست مدینہ کی بات نہیں جچتی ۔صرف کہہ دینے سے سستی شہرت شاید مل جائے مگر بات نہیں بنتی ۔ریاست مدینہ عمل سے بنتی ہے جوکہ آج کے حکمران سے مشکل ہے ۔اتنے بڑے بڑے بنگلوں میں رہنے ،کروڑوں مالیت کی گاڑیوں ،شاہانہ لباس اور شاہانہ اخراجات اور قومی خزانے کو ہڑپ کرکے غریب عوام کو فاقوں میں مبتلا کردینے والے ریاست مدینہ کے متعلق کیا جانیں، آپ لوگوں کے طرز حکمرانی نے غریب کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے ۔ملک کے تمام وسائل آپ لوگوں کی عیاشیوں پر خرچ ہور رہے ہیں ۔غریب کے ووٹ سے جب آپ مسند خلافت پر براجمان ہوجاتے تو وہ غریب اپنے بیٹے کی ڈگریاں ہاتھ میں لئے آپ لوگوں کے آستانوں پر دھکے کھارہاہوتا ہے ۔

میرے وطن عزیز میں ہر چیز موروثی ہے ۔سیاست دان کا بیٹا سیاستدان ،جج کا بیٹا جج اور جرنیل کا بیٹا جرنیل ۔بددیانتی اور جھوٹ پر مبنی سیاست نے اس ملک کو کھوکھلا کردیا ہے ۔ہر ادارے میں بکاؤ لوگوں کی منڈی لگی ہوئی ہے۔دفتروں کے باہر ’’رشوت لینیاور دینے والا جہنی‘‘ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں اور اندر رشوت کا بازار گرم ہے ۔جائز کام بھی بغیر رشوت کے ناممکن ہو گیا ہے ۔باڑ فصل کو کھا رہی ہے ۔چوکیداراور پٹواری سے لیکر اعلیٰ ایوانوں تک ہر جگہ رشوت کا بازار گرم ہے ۔یہ ملک ہے کہ ابھی قائم ہے ۔غریب اور بیبسی عوام کسی مسیحا کی آس میں ہے ۔مدینے کی ریاست کی بات وہ کر رہے ہیں جن میں مدینے والے کی ایک ’’خو‘‘بھی نہیں

آخر میں ’’ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہو گا ‘‘

تحریر احسان نازش پاہڑیانوالی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں