48

پنیشنرز کی آواز (تحریر: احسان الحق نازش)

پنیشنرز کی آواز

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی بجٹ کی تیاری ہورہی ہوگی ۔یوں تو ہر روز بجٹ آرہا ہے جس نے ایک خاص طبقے کی زندگی مشکل بنادی ہے ۔امید ہے کہ وزارت خزانہ جو غریب کی مشکلات سے ناواقف ہے وہ بجٹ میں کوئی اچھی پیشرفت کا مظاہرہ کریگی ۔خاص طورپر پینشنرز کیلئے دس فیصد اضافہ کرنے کی روٹین کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے والے اقدام سے گریز کریگی ۔پچھلی چند دہایؤں سے تمام اداروں کی تنخواہیں ڈبل ٹرپل ہوئیں مگر پینشن دس فیصد اضافے کو مناسب سمجھا گیا ۔

سب سے زیادہ توجہ ایم پی ایز ،ایم این ایز، سینٹرز، سیکرٹریز ،چیف سیکرٹریز وغیرہ کی تنخواہوں اور مراعات پر دی جانی چاہیئے کیونکہ غریب ترین عوام کے یہ امیر ترین حکمران اپنی زندگی کے شب وروز بڑی مشکل سے گزارتے ہیں ۔پینشرز کا کیا ہے زندگی کے شب وروز تو جیسے بھی آئیں گے گزر جائیں گے ۔اس ملک کا کوئی ایسا ادارہ نہیں جس کے ملازم کو ملازمت کرنے کے بعد دوبارہ نوکری تلاش کرنی پڑے سوائے فوجی پینشرز کے ۔خاص طور پر 1995ء اور سے قبل آنے والے پینشرز آپ کو انتہائی بڑھاپے کی صورت میں نجی سکولوں فیکرٹریوں اور پلازوں کے باہر چوکیداری کرتے نظر آئیں گے ۔ان عمر رسیدہ پینشنرز پر نہ تو کسی توجہ مذکورہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ان کا پرسان حال ہے ۔

وزارت خزانہ کو اگر ان عمر رسیدہ پینشنرز کااحاس ہوجائے تو بجٹ بناتے وقت پینش بڑھوتی (خاص طور آرمی پینشنرز) کو یا تو کیٹیگریز میں تقسیم کرلیں اور پرانے پینشنرز کوآگے لانے کی کوشش کی جائے یا پینشن کو رینک وائز کردیا جائے تاکہ زندگی کا بڑھاپہ سکون سے گزار سکیں اور چوکیداری نہ کرنی پڑھے ۔یاد رکھیں جو قومین اپنے ماضی کو یاد نہیں رکھتیں اُن کا حال کبھی اچھا نہیں ہوتا ۔اپنے محسنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہمارے دین کا حصہ ہے ۔اس ملک کی اشرافیہ سے گزارش ہے کہ یہ ملک غریب اور متوسط طبقے کا ہے جس نے ہر حال میں یہاں رہنا ہے ۔

آپ کا کیا ہے جب آپ اقتدار میں نہیں ہوگے تو اس کے بعد آپ کا ملک یورپ ہو گا جہاں آپ نے اپنے غریب خانے بنا رکھے ہیں ۔ہماری تاریخ تابناک تھی مگر اب شرمناک ہوگئی ہے ۔اﷲ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دیندار ،دیانتدار اور محب وطن قیادت فرمائے اور لالچی ،خود غرض اور غدار حاکموں سے نجات عطا فرمائے ۔آمین

تحریر: احسان نازش پاہڑیانوالی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں