139

کشمیر کاز اور اے ٹی ایم ( تحریر: محمد ندیم اختر (

کشمیر کاز اور اے ٹی ایم

اے ٹی ایم کے باہر لگی لائن مہینے کے ابتدائی دنوں کا اظہار کر رہی تھی.لوگ سیلری جوش و جذبے سے سرشار ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کی خواہش دل میں لئے لائن میں گھسنے کے منصوبے بنا رہے تھے. ان میں سے اکثریت اپنا مقام چھوڑ کر  دوسرے افراد کے پہلو سے جائزہ لینے کے لئے اپنی ایڑیاں اٹھا اٹھا کر تانکا جھانکی کھسر پھسر کرنے میں مصروف تھے ..کئی بعد میں آنے والے اصول پسند لوگ  پہلے سے موجود لوگوں سے سبقت لینے میں کامیاب ہو کر اپنے فرائض سرانجام دینے کے لئے واپس جا چکے تھے.. باقی لوگ  دلی گالیوں سے من ہلکا پھلکا کر رہے تھے. فروری کی پانچ تاریخ کا دن تھا. ایک آدمی ناک چڑھاتے ہوئے  یار جلدی کریں  جی میں نے ایک احتجاجی مظاہرہ میں جانا ہے وہاں میرا تصویر میں نظر آنا بہت ضروری ہے. تب جا کر میری حاضری لگے گی..سنا ہے کشمیر ڈے منایا جاتا ہے آج کے دن.. پاس کھڑا ادھیڑ عمری بندہ بولا پتا نہیں جی پانچ فروری کو چھٹی ہوتی ہے  گھر کے سو کام نمٹ جاتے ہیں قسم سے . اے ٹی ایم سے نکلتا ہوا ایک بندہ پیسے گنتا بولا آج گندم کو پانی لگانا ہے کھاد بڑی مہنگی ہو گئی ہے بھلا ہو حکومت کا کشمیر پہ چھٹی ہو گئی..

یہاں سے کچھ بندے ضلع کی منعقدہ احتجاجی تقریب میں پہنچے تو مقرر کشمیر کے غم میں نڈھال فرما رہے تھے کہ آپ ڈر گئے حکومت وقت سے.. اس لئے آن پہنچے  کشمیر کی تکلیف بس یہاں ختم ہو جاتی ہے.
اس موضوع کو اے ٹی ایم  سے تعلق اس لئے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کہیں نا کہیں اس دن کا حوالے سے کشمیر کو زندہ رکھا گیا ہے  عوام  چاہے اس کو اپنے کاموں کے لئے  استعمال کرے چاہے حکومتی سطح پر ملازمین کو تقاریب میں لایا جائے.. اس کا عملی طور پر پچھلے تہتر سال سے  کوئی حل نا نکل سکا اور  نا ہی اس پر کوئی واضح پالیسی نظر آئی بیانات تقاریر کے ماہر عوام کی نفسیات پر وار کرنے کے لیے ان کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے میدان میں کارفرما رہے.. فارن پالیسی میں ہمیں ہمیشہ ناکامی کا  منہ دیکھنا پڑا جبکہ انڈیا کا وار اس معاملے میں حاوی رہا ہے عالمی ادارے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ اس معاملے میں دونوں ممالک کو الجھاۓ رکھنا ہی مغربی  ممالک اور سپر پاورز کو مزید تجارتی معاہدات دے سکتا ہے .در پردہ  بھارت ہر حوالے سے کشمیر کے حوالے راہ ہموار کر چکا ہو گا..

ہمارے پاس دن منانے اپنے سکولوں گلیوں میں احتجاجی جلسوں کا اظہار ہی کافی سمجھا جاتا ہے. اس بات کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے .جب 1990ء میں محترم قاضی حسین احمد نے 5فروری کو بطور یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا اس وقت جماعت اسلامی آئی جے آئی کی اتحادی جماعتوں میں سے تھی تو اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 1991ء کو باقاعدہ طور پر 5فروری کو بطور یوم یکجہتی کشمیر منانے کا فیصلہ دیا جو خوش آئند بات تھی. اس وقت کشمیری ترانے گھر گھر بجائے جاتے تھے.. اس وقت عوام میں کشمیر کے حوالے سے حقیقی معنوں میں جذبات موجزن تھے..

اس کے بعد حالات  اور حکومتی تبدیلیوں نے عوامی ذہنوں کو واش کرنا شروع کردیا. بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم چھ ماہ سے زائد جاری کرفیو کو ہم صرف مذمت کرنے سے دل کو تسلی دے لیتے ہیں ہمارے حکومتی نمائندے صرف اسی بات پر اکتفا کرلیتے ہیں اور ہماری عوام صرف چھٹی کی خوشی میں کشمیر کاز کو اجاگر کرتی ہے اس زمین کے جنت کے موافق ٹکڑے کو مولا اپنے خزانوں میں سے ضرور نوازے گا اور ہمارے حکمرانوں اور عوام میں حقیقی امنگوں اور کشمیریوں کی محبت سے بھر دے.. اور ان پر جلد از جلد آزادی کا سورج طلوع ہو امین

کشمیری شکوہ
جھومتے جھرنے، اڑتے پنچھی، زمرد  کہسار
وہی لاجورد امبر وہی خاک وہی مناظر
وہی قدسیوں کی زباں وہی قول وہی وعدے
وہی دنیا، وہی نعرے وہی نتیجہ وہی آخر
وہی باطل وہی غلامی وہی حق کے لارے
وہی دھرم شالہ وہی شاستری وہی پوجا
وہی مسجد ، وہی اذاں وہی عبادت ،وہی نمازی.

وہی  دادا وہی پوتا پرانی سوچ نئی اندازے
وہی علم وہی عالم وہی عابد وہی زاہد
وہی ظالم ،وہی مظلوم ،وہی جابر ،وہی مجبور
وہی طالب، وہی مطلوب، وہی باڑ وہی آواز
وہی قابض وہی مقبوض وہی وادی وہی جھیل
چلتے چلتے وہی کشمیر چڑھ چکا سیاست کی بھینٹ

وہی دن وہی فروری  وہی تقاریب وہی تصاویر
وہی پاکستان ،وہی ہندوستان   وہی بیان وہی اعلانات
وہی سرخی! وہی خون، وہی لوگ ،وہی شہید
سینڈوچ بنا دوملکوں وہی میرا کشمیر
وہی کشمیر گفتار سوا آزاد ہو گا  بزور شمشیر
وہی ندیم،وہی اختر  وہی چاندنی وہی راتیں
مولا چاہے گزر جائیں گی یہ تاریک سیاہ راتیں


محمد ندیم اختر ڈھوک کاسب
Nadvad@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں