93

کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران ووہان کے شہریوں نے تفریح کے نئے ذرائع تلاش کر لیے

کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ وائرس اب تک ساری دنیا میں 170 افراد کی جان لے چکا ہے جبکہ 6000 سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہیں۔ اس وبا کا مرکز چین کا شہر ووہان ہے۔ چینی حکومت  نے اس وبا کو محدود کرنے کے لیے اس شہر کے لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی ہے۔

کورونا وائرس کے ووہان شہر میں پھیلاؤ کو بھی روکنے کے لیے چینی حکام نےبہت سی گلیوں میں گاڑیاں چلانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔اس شہر سے آنے جانے والی تمام بسیں، ٹرینیں اور فلائٹس منسوخ ہو چکی ہیں۔ اس شہر کی 11.08 ملین  آبادی اپنے گھروں میں محصور ہوچکی ہے۔ ایسے حالات میں لوگوں کا مایوس ہونا جانا فطری  ہے لیکن ووہان کے شہریوں نے  ان مایوس کن حالات میں  خوش ہونے  اور ایک دوسرے کی ہمت بڑھانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل چین میں اپنے تمام سٹور بند کر رہا ہے

چینی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ووہان کے  شہریوں کو اپنے اپارٹمنٹس کی کھڑکیوں سے  نعرے لگاتے  ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وائرل ویڈیوز میں  شہری ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کے لیے نعرے  لگا رہے ہیں اور قومی ترانہ گا رہے ہیں۔ ویڈیو میں شہری ”مضبوط رہو ووہان“ کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں شہریوں کو ایک ساتھ قومی ترانہ گاتے دکھایا گیا ہے۔ویڈیوز میں لوگوں کو گھروں میں بچوں کے ساتھ کھیلتے، گاتے اور من پسند سرگرمیوں میں وقت گزارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شہر کے ایک ریسٹورنٹ کے مالک نے  چین کےنئے قمری سال کے شروع ہونے پر کھانے کے 200 باکس تیار کیے اور کورونا وائرس  کے خلاف لڑنے والی میڈیکل ٹیم کو بھیج دئیے۔ویبو پر Wuhan jiayou یا Stay Strong Wuhan ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جمعرات کو ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی ہے، جس میں کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسے عالمی وبا قرار دئیے جانے کی صورت میں اس سے نپٹنے کے لیے عالمی کوششیں زیادہ مربوط ہونگی۔ دنیا بھر کی ائیر لائنز نے چین کے لیے اپنی پروازیں بھی کم کر دی ہیں تاکہ اس وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں