148

قدرتی طور پر پاکستان کے پاس بائیو فیولز کے وسائل موجود ہیں،ندیم بابر

معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہےکہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت پر توجہ نہیں دے رہا، ہم پانی کا ضیاع کرتے ہیں اس لئےمطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کر پاتے، قدرتی طور پر پاکستان کے پاس بائیو فیولز کے وسائل موجود ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں معاون خصوصی پٹرولیم نے ندیم بابر نے بائیو فیولز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں قومی سلامتی کا انحصار فوڈ اور انرجی سیکیورٹی پر ہوگا، جون 2018 میں 41 فیصد بجلی درآمدی تیل سے پیدا ہوتی تھی، یہ ہماری انرجی سیکیورٹی کیلئے حوصلہ افزا نہیں۔

ندیم بابر نے کہا کہ درآمدی تیل سے مہنگی ترین بجلی پیدا ہوتی ہے جو ہمارے لئے نقصان دہ ہے، برطانیہ نے 2035 تک پٹرول اور ڈیزل کا استعال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، دنیا بجلی چلنے والی گاڑیوں کی طرف جا رہی ہے اور پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت پر توجہ نہیں دے رہا۔

معاون خصوصی برائے پٹرولیم نے کہا کہ ہم پانی کا ضیاع کرتے ہیں،مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں کر پاتے، قدرتی طور پر پاکستان کے پاس بائیو فیولز کے وسائل ہیں، بہت سے ممالک بائیو میس سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں باتوں کی بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، گزشتہ 10 سال میں ایل این جی کی قیمت میں کمی ہوئی، امکان ہے کہ اگلے 10 سال میں ہائیڈروجن گیس کمرشل ہو جائے،30 سال میں پاکستان کی آبادی 40 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے، ہم اتنی آبادی کو انرجی اور خوراک کیسے فراہم کریں گے، اس کیلئے ہمیں مل کر فیصلے کرنا ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں