160

بیباکی کے ساتھ معاشرتی تلخیاں بیان کرنے والا منٹو

سعادت حسن منٹو کا نام اردو زبان کے شہرہ آفاق افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے جن کی تحریروں کا بنیادی موضوع عورت کی بے بسی، مرد کی بے حسی اور تقسيم ہند کا دور ہے۔ معاشرے کے تلخ حقائق کو الفاظ کی لڑی میں پرونے والے منٹو کی 65 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

سعادت حسن منٹو نے اپنی 42 سالہ زندگی میں 300 سے زائد افسانے، مضامین اور خاکے تحریر کیے۔ تقسیم ہند کے بعد منٹو نے ہجرت کی اور لاہور شہر کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کی مقبولِ زمانہ افسانوی تخلیقات میں کھول دو، ٹھنڈا گوشت، بو، کالی شلوار اور ہتک شامل ہیں۔

منٹو کے افسانوں میں جہاں انسانی رشتوں، جذبات اور خامیوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، وہیں قیام پاکستان کے دوران پیش آنے والے واقعات نے بھی ان کی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان رشتے کو حقیقی الفاظ میں پیش کرنے پر منٹو پر فحش نگاری جیسے الزامات بھی لگائے گئے۔

جبکہ منٹو کا ماننا تھا ’ادب کبھی فحش نہیں ہوسکتا ‘۔ افسانے ٹھنڈا گوشت پر منٹو کو مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا جس پرفیض احمد فیض نے اپنے ایک عدالتی بیان میں کہا تھا کہ یہ افسانہ فحش تو نہیں ہے لیکن ادب کے پیمانے پر پورا نہیں اترتا۔

اپنی ایک تحریر میں منٹو نے لکھا کہ سعادت حسن فانی ہے، لیکن منٹو رہتی دنیا تک زندہ رہے گا اور بلاشبہ ان کی تحریریں سعادت حسن منٹو کو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے ریڈیو اور فلم کے لئے بھی لکھا۔ ان کا کہنا تھا ’’جو چیز جیسی ہے اسے ویسا ہی کیوں نہ دکھایا جائے ٹاٹ کو ریشم کیوں کہا جائے’’۔

منٹو کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ میرے افسانوں کو برداشت نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب ہے یہ زمانہ ہی ناقابل برداشت ہے‘‘۔

منٹو نے جس طرح ہمیشہ معاشرے کی گھناؤنی حقیقت عوام کے سامنے پیش کی، اس کی ہمت کسی اور افسانہ نگار میں نہیں تھی، منٹو کا ماننا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی کروٹ بدلنے کی ضرورت ہے۔

اردو ادب کا یہ منفرد افسانہ نگار 18 جنوری 1955 کو دنيا سے رُخصت ہوگیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں