203

سبزی فروش سعودی نوجوان صرف 13 سالوں میں ارب پتی بزنس مین بن گیا

مکّہ مکرمہ(ا 17جنوری 2020ء ) کہتے ہیں کہ جو کڑی محنت کرتا ہے، کامیابی اُس کے قدم ضرور چُومتی ہے۔ دُنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے بہت معمولی حیثیت سے اپنا معاشی کیریئر شروع کیا تاہم اپنی ذہانت، قابلیت اور کاوش کی بناء پر دولت، شہرت اور کامیابی کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھتے ہی چلے گئے۔

ایسی ہی ایک داستان سعودی نوجوان سلیمان القنیصی نے کی ہے۔ جس نے اپنی اچھی نیت اور محنت کابے پناہ صِلہ پا لیا ہے۔ اُردو نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سلیمان القنیصی آج سے تیرہ سال پہلے ایک بے روزگار نوجوان تھا۔ جس کے حالات اتنے خراب تھے کہ اُس کے پاس کوئی چھوٹا موٹا ٹھیلہ لگانے کے بھی پیسے نہ تھے، وہ لوگوں سے قرض اُٹھا کر اپنا وقت گزار رہا تھا۔

۔ تاہم اُس نے کسی جاننے والے سے ایک بار پھر چند سو ریال پکڑ کر سبزی منڈی کا رُخ کیا اور وہاں سے سبزیاں خرید کر سڑک کنارے بیچنا شروع کر دیں۔چند ماہ بعد ہی اُس نے اپنے سبزی کے کاروبار کو ایک کرائے کی دُکان میں منتقل کر دیا۔ اس دوران میں اُسے نے سرکاری اداروں میں نائب قاصد کا کام بھی کیا۔

القنیصی نے اسی دوران چھوٹے چھوٹے تجارتی اور صنعتی منصوبوں میں بھی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اور یہی وہ چھوٹے چھوٹے کام تھے، جس نے اُس کی زندگی کو ایک خوش حالی اور دولت مندی کے راستے پر گامزن کر دیا۔اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اُس نے اپنی پسند کا شعبہ اپنایا جو کار سروس سینٹر کا تھا۔ اس پیشے نے اُسے مزید شہرت اور دولت سے نواز دیا ہے۔ آج القنیصی سعودی عرب میں معروف کار لکزنس کے سب سے بڑے سروس سینٹر کے مالک بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر منصوبوں میں شراکت دار ہیں۔

القنیصی صحراؤں میں خیموں اور تفریحی پروگراموں میں کھانا فراہم کرنے کے کاروبار سے بھی منسلک ہیں اور اس حوالے سے بہت شہرت رکھتے ہیں۔القنیصی کے سنیپ چیٹ اکاؤنٹ پر مختلف پکوانوں کی تیاری سے متعلق ویڈیوز بھی بہت مقبولیت اختیار کر چکی ہیں۔ ایک سعودی فوٹوگرافر محمد النحیت نے سلیمان القنیصی کی 13 سال کی کاروباری لگن اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے لینے کی کہانی کو فلم بند کر کے اُسے سوشل میڈیا پر پیش کیا ہے تاکہ ان سے دیگر نوجوان بھی رہنمائی حاصل کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں