39

این آئی سی وی ڈی کراچی میں ’ہس بنڈل پیسنگ‘ کے پہلے کامیاب تجربات

کراچی: قومی ادارہ برائے قلب ’این آئی سی وی ڈی‘ کے ماہرین نے پاکستان کی تاریخ میں ہس بنڈل پیسنگ کے کامیاب تجربات کیے ہیں، یہ کامیابی پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس عمل میں برقی سگنل کو ہموار انداز میں خارج کرکے دھڑکن کو منظم کرنے والے پیس میکر کا تار دل کے اندر ایک خاص مقام پر لگایا جاتا ہے اس مقام کو ’ہس بنڈل‘ کہا جاتا ہے اور اس جگہ پیس میکر کے تار پہنچانے کا عمل ہس بنڈل پیسنگ کہلاتا ہے۔

ہس بنڈل پیسنگ کا عمل این آئی سی وی ڈی میں الیکٹرو فزیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر اعظم شفقت، نائب پروفیسر فیصل قادر نے امریکی جامعہ منی سوٹا سے وابستہ ڈاکٹر ریحان کریم کی سربراہی میں انجام دیا گیا ہے۔

45 سالہ مریض نور الدین اور 80 سالہ مریض شمیم بیگ کو دل کی کمزوری اور دل کی کم اور بے ترتیب  دھڑکن کی بیماری کے باعث این آئی سی وی ڈی میں داخل کیا گیا تھا۔ آپریشن کے بعد یہ دونوں مریض تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں مریضوں کو جلد ہی ہسپتال سے فارغ کردیا جائے گا۔

ہم جانتے ہیں کہ دل کی دھڑکن، خون پمپ کرنے کی صلاحیت سب میں دل کی برقی (الیکٹرک) سرگرمی کا دخل ہوتا ہے اور اسی سے ای سی جی حاصل کی جاتی ہے۔

اسی لیے دل کی بے ترتیب دھڑکن کو درست کرنے کے لیے پیس میکر لگائے جاتے ہیں جو مصنوعی طور پر مسلسل یکساں وقفے سے بجلی کا جھماکہ دل تک پہنچا کر برقی سرگرمی کو درست کرکے دل کی دھڑکن کو ہموار بناتے ہیں۔ یہ مرض ڈی سنکرنی (عدم مطابقت) یا اردھمیا کہلاتا ہے۔ لیکن اس سے دل کے پٹھوں کی کمزوری سمیت دیگر پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ماہر نے آسٹریلیا کا ’’ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ‘‘ جیت کر وطن کا نام روشن کردیا

ہس بنڈل پیسنگ کی اہمیت
روایتی پیس میکر میں ایک خرابی بار بار سامنے آتی ہے کہ برقی تار دل کے سیدھے خانے میں اوپر اور نیچےکی جانب لگایا جاتا ہے۔ کافی عرصے بعد دل کے نچلے خانے کی دھڑکن ہم آہنگ نہیں ہوپاتی اور مریض کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

اس کے برخلاف پیس میکر کا تار دل کے دائیں وینٹریکل میں ایک مقام ’ہس بنڈل‘ تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ علاقہ بیماری سے پاک یا دور ہوتا ہے۔ اس طرح اب پیس میکر یکساں رفتار سے دل کے دونوں نچلے خانوں کو یکساں حرکت میں رکھتا ہے اور اس سے مزید امراض کا خدشہ ٹل جاتا ہے۔

ہس بنڈل پیسنگ ایک جدید طریقہ ہے جو خاص ماہرین کی زیرِ نگرانی ہی انجام دیا جاتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں