185

تارکین وطن کو مزید سہولتیں اور مراعات دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں اندسٹریل یونٹس کے قیام اور ترسیلات زر بھجوانے میں درپیش مشکلات دور کرنے کیلیے ٹیکس قوانین میں پیچدگیوں اور ڈیوٹی و ٹیکسوں میں ردوبدل کرنے اورغیرملکی سرمایہ کیلیے درآمدی سطح پر عائد 1.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس سے چھوٹ دینے اور سیلز ٹیکس کی مد میں سو فیصد ان پُٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے سمیت دیگر مراعات دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی طرف سے قائم کردہ ذیلی کمیٹی اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کیلیے اور ترسیلات زر بھجوانے کیلیے سہولیات دینے بارے جامع سفارشات تیار کرکے منظوری کیلیے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )کے اجلاس میں پیش کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے مشکلات دور کرنے کیلیے وزارت اوور سیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سے رجوع کیا تھا اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کو بھی مداخلت کی درخواست کی تھی جس پر اوو رسیز پاکستانیز نے سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کرنے کیلیے وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)سے معاملہ اٹھایا تھا اور وزیراعظم کے نوٹس میں بھی معاملہ لایاگیا تھا جس پریکم جنوری 2020 ووزیر اعظم کے مشیر خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں ہونیوالے اجلاس میں تارکین وطن پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات زر پاکستان بھجوانے کے لیے مزیدرعایات اور ترغیبات دینے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں