197

پاکستان میں فلو سیزن کا آغاز،بچاؤ کی تدابیر

پاکستان میں فلو وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوگیا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایڈوائزری جاری کردی ہے جس میں عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کون سی احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے اقدامات کریں۔

ابھی تک فلو یا انفلوئنزا کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ شروع نہیں ہوا ہے تاہم یہ کچھ افراد کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوتا ہے۔سندھ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ کراچی کے ضیاء الدین اسپتال میں ایچ ون این ون وائرس کے 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

جن لوگوں کو یہ وائرس لگ سکتا ہے ان میں معمر افراد،کم عمر بچے،موٹے یا جلد بیمار پڑجانے والے افراد،ایستھما،ذیابیطس، دل کے عارضے میں مبتلا افراد،سانس کے مریض،حاملہ عورتیں اور ہیلتھ کیئرکے شعبے سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں چھینک،کھانسی یا وائرس سے متاثرہ جگہ کو چھونے سے لگ سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ بہت مہلک بیماری ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن اقدامات ہونے چاہئے۔

فلو سے بچاؤ کے اقدامات کیا ہونے چاہئے؟

ہاتھوں کو صابن سے کئی بار اچھی طرح دھوناچاہئے۔کھانسی اور چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ڈھانپنا چاہئے۔عوامی مقامات پر جانے سے پرہیز کرنا چاہئے اور بیمار ہونے کی صورت میں احتیاط کرنا چاہئے۔ویکسینیشن لازمی کروانی چاہئے۔

سندھ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ فلوسے بچاؤ کے انجکشن کے ذریعے انفیکشن اور بیمار ہونے سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ تمام اسپتالوں میں دستیاب ہوتے ہیں لیکن ان کی کچھ ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس کو تمام ممکنہ بیمار ہونے والے افراد کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

آج کل کون سا وائرس پھیل رہا ہے ؟

انڈس اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے بتایا ہے کہ ابھی ہمیں علم نہیں ہے کہ کون سا وائرس پھیل رہا ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تشخیص اور آگاہی کی ذمہ داری نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ہے۔ اگر کوئی شخص انفلوئنزا کی علامات کے باعث اسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اس کا علاج فوری شروع کردینا چاہئے۔ انھوں نے بتایا کہ انفلوئنزا وائرس ٹیسٹ کے نتائج کچھ دنوں میں سامنے آتے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیفضیاء نے بتایا ہےکہ پاکستان میں انفلوئنزا وائرس کے ٹیسٹ کروانا عام بات نہیں ہے۔ہرسیزن کے ابتدا میں امریکی ادارہ برائے ڈیزیز کنٹرول کی جانب سے ایڈوائزری جاری کی جاتی ہے جن میں وائرس سے متعلق آگاہی ہوتی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کون سی ویکسین اس سیزن کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ سیزن میں مختلف ہوتا ہے کیوں کہ وائرس کی نوعیت ہر سیزن میں مختلف ہوتی ہے۔

وائرس کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے افراد میں سے کوئی شخص علامات ظاہر ہونے کے 24 سے 48 گھنٹوں میں اسپتال میں داخل ہوتا ہے تواس کا اینٹی وائرل ادویات سے علاج شروع کردیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے بتایا کہ اس وقت انڈس اسپتال انفلوئنزا کے کیسز سے ایف ای ایل ٹی پی کو آگاہ نہیں کررہا ہے لیکن اسپتال کو ایسا کرنا چاہئے۔

جناح اسپتال کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹرڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں ایسا طریقہ کار ہے کہ انفلوئنزا کے کیسز سے ایف ای ایل ٹی پی کو آگاہ کردیا جاتا ہے لیکن ابھی تک فلو کے کوئی کیسز سامنے نہیں آئے ہیں اور صرف وائرل انفیکشن رپورٹ ہوئے ہیں۔

پبلک اسپتالوں میں انفلوئنزا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹ مفت میں ہونے چاہئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں